آصف زرداری کی ضمانت منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پیر کے روز پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی آخری مقدمے میں بھی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ آٹھ برس سے زیادہ عرصہ سے مسلسل قید آصف علی زرداری پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ کچھ مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں جبکہ باقی مقدمات میں عدالتوں نے ان کی ضمانت منظور کی ہے۔ بی ایم ڈبلیو کار کیس کے نام سے مشہور مقدمے میں آصف علی زرداری کی ضمانت نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں اپیل دائر کی تھی۔ اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کسی اور کے نام پر کار درآمد کی اور اس پر کم کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے کلیئرنس حاصل کی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں قائم فل آصف علی زرداری کی وکالت بیرسٹر اعتزاز احسن، فاروق ایچ نائیک اور ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کی جبکہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے ایڈووکیٹ ابراہیم ستی پیش ہوئے۔
دوران سماعت جب استغاثہ کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ’ جب گاڑی درآمد کرنے والے شخص اور بعد میں خریدنے والے شخص سمیت کسی پر مقدمہ نہیں بنا تو کیا صرف زرداری پر مقدمہ بنانا بدنیتی پر مبنی نہیں ہے؟‘۔ عدالت کے استسفار پر کہ یہ مقدمہ اس وقت کیوں داخل ہوا جب درخواست گذار کی ضمانت منظور ہوئی استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاق ہے۔ استغاثہ کے مطابق دوسروں کے نام پر یہ گاڑی زرداری نے درآمد کی اور یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ ’بلٹ پروف، گاڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف پچپن لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کی گئی جبکہ اس سے ایک کروڑ روپوں کا قومی خزانے کو نقصان ہوا۔ استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ مقدمہ اس وقت کیوں داخل ہوا جب درخواست گذار کی ضمانت منظور ہوئی؟ استغاثہ نے کہا کہ یہ محض اتفاق ہے۔ ان کے مطابق دوسروں کے نام پر یہ گاڑی زرداری نے درآمد کی اور یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ ’بلٹ پروف‘ گاڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف پچپن لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کی گئی جبکہ اس سے ایک کروڑ روپوں کا قومی خزانے کو نقصان ہوا۔ وکیل صفائی اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ان کا موکل آٹھ سال سے مسلسل قید میں ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر حکم سناتے ہوئے ضمانت منظور کرلی۔ عدالت میں مقدمے کی سماعت سننے کے لیے پیپلز پارٹی کے خاصی تعداد میں کارکن و رہنما موجود تھے۔ حکم سنتے ہی انہوں نے فتح کے نشان بنا کر خوشی کا اظہار کیا اور عدالتی عمارت سے باہر آکر بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے حق میں نعرے لگائے۔ بیسیوں کارکن جلوس کی شکل میں درگاہ بری امام پہنچے اور خصوصی دعائیں مانگی۔ زرداری کے وکلاء نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔ زرداری کی رہائی کی خبر سنتے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی سے کئی کارکن پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آْباد پہنچے۔ جہاں قلندر شہباز کی دھمال کی کیسٹ کار میں بجا کر بھنگڑا ڈالا گیا۔ اس موقع پر آصف زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ آج وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں انصاف ملا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کے مطابق انہوں نے ساٹھ لاکھ مالیت کی زرعی زمین کے کاغذات دس لاکھ کے مچلکوں کے عوض جمع کرائے ہیں۔ کارکن’صدر مملکت آصف علی زرداری‘ اور ’وزیراعظم بینظیر‘ کے نعرے لگاتے رہے۔اس موقع پر مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔ راولپنڈی میں واقع پیپلز پارٹی کے صدر دفتر سے فوارہ چوک تک خوشی میں ریلی نکالی جارہی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ حکومت کوئی اور مقدمہ داخل نہیں کرے گی اور عدالتی حکم کا احترام کرتے ہوئے انہیں آزاد کردے گی۔ ان کے مطابق زرداری کی رہائی سے ملکی سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ زرداری کے وکیل بابر اعوان کے مطابق ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ جب بھی آصف زرادی کسی مقدمے میں ضمانت حاصل کرتے تو حکومت اسی روز نئے مقدمے میں ان کی گرفتاری ظاہر کردیتی اور وہ رہا نہیں ہوتے۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ زرداری کے ایک اور وکیل فاروق نائیک کے مطابق ان کے خلاف مختلف حکومتوں نے سترہ، قتل، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ چھ مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں جبکہ اب بھی سات بدعنوانی، ایک منشیات، اور تین قتل کے مقدمات ان کے خلاف صوبہ سندھ اور پنجاب کی مختلف عدالتوں میں زیرالتویٰ ہیں۔ آصف علی زرداری اس وقت کراچی ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ واضح رہے کہ آصف علی زرداری کی رہائی کا حکم عدالت نے حزب مخالف کے اتحاد’اے آر ڈی‘ کی جانب سے چھ دسمبر سے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک چلانے کے اعلان کے صرف دو دن بعد جاری کیا ہے۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیاں’خفیہ رابطوں‘ کی خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں لیکن پیپلز پارٹی ہمیشہ سے ایسی قیاس آرائیوں پر مشتمل خبروں کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||