بینظیر منی لانڈرنگ کیس کےلیے تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کے الزامات کے تحت سوئیز تحقیقاتی مجسٹریٹ کے سامنے تیس جون کو پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جبکہ ان کے اسیر شوہر آصف علی زرداری نے ایک بار پھر طبی بنیادوں پر پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے مقدمہ کی دوبارہ تحقیقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اچھی بات ہے اور اس سے سیاسی بنیاد پر بنائے گئے مقدمہ کا معاملہ پمیشہ کے لئے طے ہوجائےگا۔‘ ترجمان کے مطابق بینظیر بھٹو جنیوا کے لیے ان کے وکیل دفاع فاروق ایچ نائیک اور سیکریٹری ناہید خان کے ہمراہ لندن سے روانہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم نے سوئیز تحقیقاتی مجسٹریٹ کو ایک درخواست بھی دے رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو اس تحقیقات میں فریق نہ بنایا جائے۔ کیونکہ ان کے بقول پاکستان سرکار نے متعلقہ سوئز کمپنی ’ ایس جی ایس، سے عدالت سے باہر سمجہوتہ کر لیا ہے۔‘ ترجمان نے اخباری اطلاعات کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ’ ایس جی ایس، کمپنی کو نئے سرے سے ٹھیکہ بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ کمپنی سے سمجہوتے کی دستاویزات پاکستان حکومت انہیں فراہم نہیں کر رہی جو کہ ان کے بقول انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ سوئیز تحقیقاتی مجسٹریٹ کرسٹائن جونوڈ Junod Ms.Christine کے دستخط سے جاری کردہ نوٹس میں بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو تیس جون کو جنیوا میں ان کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے تئیس جون کی شام کو پمز ھسپتال آصف علی زرداری وہاں ملاقات کرکے نوٹس وصول کرایا تھا۔ جبکہ بینظیر بھٹو کو بھی نوٹس موصول ہوا تھا۔ نوٹس ملنے کے بعد آصف علی زرداری کے پیش ہونے کے بارے میں پارٹی ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم پر سرکاری ڈاکٹروں پر مشتمل ایک طبی بورڈ نے زرداری کو طویل سفر کرنے سے منع کیا ہے اور تیس جون کو لاہور کی سیشن کورٹ نے بھی زرداری کو طلب کر رکھا ہے اس لئے وہ جنیوا نہیں جا سکتے۔ تاہم ترجمان نے اس وقت بتایا تھا کہ بینظیر بھٹو وکلاء سے مشورے کے بعد پیش ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کریں گی۔ واضح رہے کہ زرداری کو سوئیز مئجسٹریٹ نے اس سے پہلے بائیس اپریل کو پیش ہونے کے لیے نوٹس بھیجا تھا اور اس وقت بھی انہوں نے ناسازی طبیعت کی بنا پر پیش ہونے سے معذرت ظاہر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ بائیس اپریل کو جنیوا میں پیش ہونے کے لیے حکومت نے ان کو چارٹرڈ طیارے کے ذریعے لےجانے اور واپس لانے کی پیشکش کی تھی، جو زرداری نے مسترد کردی تھی ۔ سوئیز مجسٹریٹ کے اس حکم کے خلاف بینظیر اور ان کے شوہر نے سوئیز اٹارنی جنرل کو اپیل کی تھی۔ جس پر اٹارنی جنرل نے اپیل پر دوبارہ تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا اور اس سلسلے میں انہیں اب یہ نوٹس موصول ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||