’سیاسی مفاہمت جاری رہے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں متنازعہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ مذاکرات، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے، ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں اور حزب مخالف سے مفاہمت کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر پائیدار امن کا قیام مشکل ہوگا۔ سلامتی کونسل کے قیام کے بعد سے یہ اس کا دوسرا اجلاس تھا جس میں حزب مخالف کے نمائندے شریک نہیں ہوئے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اجلاس میں شیخ رشید کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز نے اپنے حالیہ بھارت کے دورے اور بھارت کے حزب اقتدار اور حزب مخالف کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ جبکہ اس موقع پر وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی پاکستان اور ہندوستان کے درمیاں جاری جامع مزاکرات کی پیش رفت کے متعلق بریفنگ دی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سونیا گاندھی پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا جو زور دیا ہے کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ حکومت بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ہونے والی بات چیت سے مایوس ہوئی ہے؟ تو اس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ اصل میں پاکستان کے صدر بڑی دور کی سوچتے ہیں اور انہیں نظر آرہا ہے کہ سونیا گاندھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ شیخ رشید احمد نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومت حزب مخالف سے مفاہمت چاہتی ہے اور اس ضمن میں حکومت نے کئی مثبت اشارے بھی دیے ہیں۔ ان کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو صدر مشرف کا تعزیتی فون کرنا، آصف علی زرداری کی رہائی میں رکاوٹ نہ ڈالنا اور مولانا فضل الرحمٰن سے وزیراعظم کی ملاقات مفاہمت کے اہم اشارے ہیں۔ انہوں نے حزب مخالف کو پیشکش کی کہ اگر وہ خلوص نیت کے ساتھ ضد چھوڑ کر جوابی طور پر مثبت قدم بڑھائیں تو حکومت مزید اقدامات کرے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ نواز کے قید رہنما جاوید ہاشمی کو رہا کریں گے؟ اس پر وزیر نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہتے، البتہ مثبت قدم اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ واضح کرتے ہیں کہ حکومت آصف علی زرداری کے خلاف سوئیزرلینڈ کی عدالت میں ’منی لانڈرنگ، یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کا مقدمہ واپس نہیں لے گی۔ اس پر جب ان سے سوال ہوا کہ پھر مفاہمت کی بات کیسے؟ تو وزیر نے کہا کہ وہ انہیں (پیپلز پارٹی اور آصف زرداری) کو پتہ ہے۔ حکومت اور حزب مخالف کے درمیاں مفاہمت کے متعلق ان سے کئی سوالات ہوئے جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں برف پگھلنے کے لیے مطلوبہ درجہ حرارت کی ضرورت ہے اور اس کا انحصار حزب مخالف کے رویہ پر ہے۔ وزیر کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن اور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم درانی کی عدم شرکت پر صدر نے افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ اجلاس میں وہ شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں امن امان کا جائزہ لیا گیا اور ملک سے دہشتگردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اہم سفارشات صدر کو پیش کی گئیں۔ جس کی تفصیلات بتانے سے وزیر اطلاعات نے گریز کیا اور صرف اتنا کہا کہ جو اسلحہ اٹھانے والوں سے انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا۔ واضح رہے کہ تیرہ رکنی سلامتی کونسل جس کے سربراہ صدر ملکت ہیں، اس کے اراکین میں وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی کے سپیکر اور قائد حزب اختلاف، چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، اور تینوں مسلح افواج ( بری، بحری اور فضائیہ) کے سربراہ شامل ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ پارلیمان سے بالاتر ہے اور اس سے جمہوریت کو شدید دھچکا لگے گا، جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کونسل کے قیام سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور مستقبل میں فوجی مداخلت کا راستہ روکنے میں مدد ملے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||