پاکستانی فوج کی دیرینہ خواہش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں’قومی سلامتی کونسل‘ کےقیام کےمتعلق حکومتی بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور اب یہ بل ایوان بالا سینٹ میں پیش ہوگا جب سینیٹ منظور کرے گی تو پھر صدر جنرل پرویز مشرف اس پر دستخط کریں گے اور یہ کونسل عمل میں آجائے گی۔ قومی اسمبلی میں جو پاکستانی عوام کے منتخب کیے ہوئے ارکان کا سب سے بڑا ادارہ ہے، حزب آختلاف کے تقریباً تمام ارکان کی یہ رائے ہے کہ کونسل کے قیام سے فوج کو سیاسی اور حکمرانی کے معاملات میں بھی قائدانہ کردار قانونی طور پر مل جائے گا۔ بقول محمود خان اچکزئی قومی سلامتی کونسل کے قیام کی شکل میں ’پاک فوج‘ کی وہ دیرینہ خواہش اب پوری ہوتےدکھائی دےرہی ہے جو وہ پچھلے پچاس سال سے پوری کرنا چاہ رہی تھی۔ یوں تو پاکستان میں فوج براہ راست مداخلت کےذریعےاقتدارمیں بار بار آتی رہی اورعدالتیں بھی ان کےایسےاقدامات کو ضرورت کے زمرے میس شمار کرتی رہی ہیں لیکن اقتدارمیں فوج کی آئینی و قانونی شراکت خواہش اب تک پوری نہیں ہو پائی تھی۔ اسمبلی توڑنے کے اختیار کے تحت پاکستان میں سن انیس سو پچاسی سےننانوے تک عام انتخابات کے نتیجے میں بننےوالی پانچ اسمبلیاں مدت پوری نہ کرسکیں اور صدر کو حاصل اس اختیار کے تحت فوجی و سولین صدور نے مدت سے قبل ہی اسمبلیاں تحلیل کردی تھیں ۔ موجودہ فوجی حکمران جنرل مشرف نےملک کی چھ دینی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد نہ صرف اسمبلی توڑنے کا وہ اختیار واپس لے لیا بلکہ رواں سال دسمبرتک باوردی آئینی صدر رہنے اور قومی سلامتی کونسل قائم کر کے فوج کوبراہ راست اقتدار میں قائدانہ کردار دلانے کا بھی حق حاصل کیا تھا۔
صدر مشرف نے بھی قومی سلامتی کونسل کو آئینی ادارہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن مجلس عمل کے مطالبے پرمتنازعہ لیگل فریم ورک آرڈر کو سترہویں آئینی ترمیم کے مسودے سے اس شرط پر نکال دیا گیا تھا کہ یہ کونسل پارلیمان کی سادہ اکثریت کے ذریعے ایک بل کے تحت قایم کی جائے گی۔ گذشتہ ماہ جب وفاقی کابینہ نےاس کونسل کےقیام کا مسودہ منظور کیا تھا تو اس میں کونسل کےفرائض منصبی میں صوبائی معاملات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ کابینہ کے منظورکردہ مسودے پر نہ صرف مجلس عمل بلکہ حکومت کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اعتراضات کئے تھے جس کے بعد حکومت کومسودے میں ترمیم کرنی پڑی تھی۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ نے بل کے مسودے میں ردوبدل اور اعتراضات، بابرغوری کے بطور وفاقی وزیرمواصلات حلف اٹھانے، سیاسی مخالف مہاجرقومی موومنٹ کے رہنما آفاق احمد اور ان کے متعدد کارکنان کی گرفتاری اور دیگر معاملات پر حکومت سے ہم آہنگی کے بعد ختم کردیے تھے اور حکومت کے لئے بل منظور کرنے کا راستہ ہموار کردیا تھا۔ ایم کیوایم نے قومی اسمبلی میں زیربحث مسودے میں ترمیم کے لئے ایک تجویز بھی حکومت سے پیشگی رضامندی سے پیش کی جو منظور ہوگئی ۔ وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشیدکا کہنا تھا کہ بل کا ایسامسودہ مرتب کیاگیا تھا جومجلس عمل سے طے پانے والے معاہدے کے عین مطابق تھا لیکن انہوں نے پھر بھی ووٹ نہیں دیا۔ لیکن مجلس عمل کےرہنماقاضی حسین احمدکاکہنا تھا کہ وہ اس بل کی مخالفت اس لیےکررہے ہیں کہ یہ کونسل ان کےمطابق پارلیمان کےماتحت نہیں بلکہ بالاتر ہی بنائی جارہی ہے۔
قومی اسمبلی کونسل کے قیام کا بل جلد سےجلد منظور کرانے کے لئے حکومت نےحامی ارکان کے وفاقی دارالحکومت سےباہر جانے پر غیراعلانیہ پابندی عائد کررکھی تھی۔ جبکہ چودھری شجاعت کی سربراہی میں چین جانےوالےوفدنےبھی اس بل کی وجہ سےدورہ مؤخرکردیا تھا۔ تیرہ رکنی مجوزہ سلامتی کونسل جس کا سربراہ صدر مملکت ہوں گے اور اراکین میں وزیراعظم، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف، چاروں صوبوں کےوزرائے اعلیٰ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے تینوں سربراہان شامل ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے قیام کو ایک سال سےزائدعرصہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک حزب اختلاف کے رہنما کی نامزدگی کا حکومت فیصلہ نہیں کرسکی۔ بل کےمسودے کے مطابق یہ کونسل قومی سلامتی کےاموربشمول اقتداراعلیٰ، سالمیت، دفاع، ریاست کےتحفظ اور بحران سے نمٹنے کے لئے ایک فورم کے طور پر کام کرےگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس کونسل کےقیام سےجمھوری اداروں پر فوج مسلط ہوجائےگی اورپارلیمانی بالادستی بھی متاثرہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز کیس میں سپریم کورٹ نے مشاورت پر عمل درامد کو لازم قرار دے رکھا ہے لہٰذا اس کونسل کا مشورہ بھی ماننا پڑے گا۔ قومی اسمبلی میں بل پر بحث کے دوران جب بعض سرکاری ارکان نے کہا کہ ترکی میں بھی پاکستان کی مجوزہ کونسل جیسی ہی کونسل موجود ہے تو اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ترک فوج نے آزای کی جنگ لڑی تھی پاک فوج نے تو جنگیں ہاری ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ بل کی شق چھ کی ذیلی شک تین خطرناک ہے کیوں کہ بقول ان کے اس شق میں کہا گیا ہے کہ دو یا دو سے زائد ارکان کی عدم موجودگی کے باوجود بھی کونسل کا اجلاس ہوگا۔ جس کی تشریح شیرانی نہ یہ کی تھی کہ اگر کوئی سویلین رکن شرکت نہ بھی کرے تو فوجی بھائی فیصلے خود ہی کردیں گے۔
جبکہ وزیراعظم ظفراللہ جمالی سمیت حکومتی ارکان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مستقبل میں فوجی مداخلت روکنے میں مددگار ثابت ہوگا اور جمہوری ادارے مزید مستحکم ہوں گے۔ اس ادارے کے قیام کے بعد حکومت کادعویٰ سچ ثابت ہوگا یا حزب اختلاف کا، یہ کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کے اس ادارے کے قیام سے ملکی سیاست پردور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||