’وردی نہیں وردیاں اترنے والی ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جہاں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں وہاں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی وسیع تر اتحاد بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بظاہر ایسے دکھائی دے رہا ہے کہ صدر جنرل مشرف ریاستی اور سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے ایک جانب حکمران جماعت کو مضبوط بنا رہے ہیں تو دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں کو آپس میں اتحاد کرنے سے روکنے اور مختلف معاملات پر انہیں لڑانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ جیسا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے معاملے پر اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) اور ملک کی چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل والے الجھے ہوئے ہیں۔ حکومت میں شامل جماعتوں میں سے جہاں مسلم لیگ(ق)، پیر پگاڑہ، حامد ناصرچٹھہ، منظور احمد وٹو اور اعجازالحق نے صدر جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر انضمام کا فیصلہ کیا ہے وہاں سردار فاروق احمد خان لغاری کی سربراہی میں قائم نیشنل الائنس بھی اب مسلم لیگ میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے جب اخباری کانفرنس میں سردار فاروق احمد خان لغاری نے اپنے اتحاد کی تمام جماعتوں کو بقول ان کے صدر مشرف کے کہنے پر بر سر اقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا، تو ان سے یہ سوال بھی ہوا تھا کہ کیا متوقع حکومتی تبدیلی کی صورت میں ان کو وزیراعظم بنانے کا جنرل مشرف نے کو ئی وعدہ کیا ہے تو لغاری نے اس بات کی سختی سے تردید کی تھی۔ جب لغاری نے مسلم لیگ میں نیشنل الائنس ضم کرنے کا اعلان کیا تو یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ شاید اب پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بھی حکمران جماعت میں ضم ہوجائے گی۔ لیکن وفاقی وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات نےایک اخبار کو انٹرویو میں سختی سے تردید کرتے ہوئے واضع کیا تھا کہ وہ ہرگز مسلم لیگ میں اپنی جماعت کو ضم نہیں کریں گے بلکہ وہ عیلحدہ شناخت برقرار رکھیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیٹریاٹ اور شیرپاؤ کے ادغام کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
بے نظیر بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کا حکومتی اتحاد اور ادغام کے متعلق کہنا تھا کہ یہ سب کچھ غیر فطری ہے اور جس دن مشرف نے وردی اتاری، بہت سارے موسمی پرندے حسب روایت وفاداری تبدیل کرنے میں دیر ہی نہیں کریں گے۔ حکومتی جماعتوں کے اتحاد اور ادغام کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف میں بھی وسیع اتحاد کے متعلق تعاون کی خبریں آرہی ہیں۔ جس کے مطابق سندھ، بلوچستان اور سرحد کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم جسے ’پاکستان آپریسڈ نیشنز موومنٹ‘ بھی کہتے ہیں دیگر جماعتوں سے مل کر اے آر ڈی میں شامل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی بلوچستان کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے نواب اکبر بگٹی سے بات چیت کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ پونم سے مذاکرات کے بعد ایک وسیع اتحاد قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔
ادھر جب سے متحدہ مجلس عمل نے جنرل مشرف کی متنازعہ آئینی ترامیم کے بل کی حمایت کی ہے، اس وقت سے اے آر ڈی نے ان سے راہیں جدا کرلی ہیں۔ اے آر ڈی کے چیئرمین مخدوم امین فہیم مجلس عمل پر دھوکہ دینے کا الزام لگا کر ان سے مستقبل میں سیاسی تعاون کو نظر انداز کرنے کے بیانات دیتے رہے ہیں لیکن ان کے اتحاد کی دوسری بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز متحدہ مجلس عمل سے دوبارہ تعاون کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں حکومتی اور حزب اختلاف کی صفوں میں مندرجہ بالا سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ فوج میں بھی آئندہ چند ماہ میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی خبریں شائع ہورہی ہیں۔ جس کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کو رواں سال کے آخر تک سترویں آئینی ترمیم کے مطابق وردی اتارنی ہے، اگر ایسے ہوا تو نئے آرمی چیف کا تقرر ہوگا۔ اخباری خبروں کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل عزیز، نائب آرمی چیف جنرل یوسف خان کے علاوہ کور کمانڈر کراچی اور گجرانوالہ بھی کچھ ماہ میں ریٹائر ہو رہے ہیں، جن کی جگہ نئے جنرل لیں گے اور فوج میں اعلیٰ سطح کی ترقیاں، تقرریاں اور تبادلے بھی ہوں گے۔ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے آئندہ چند ماہ میں فوج میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں کے متعلق جب پوچھا گیا تو انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ معمول کی بات ہے جس کی جب مدت مکمل ہوتی ہے وہ ریٹائر ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں افواج بری، بحری یا فضائیہ کے سربراہ کے طور پر مدت ملازمت تین سال ہوتی ہے جبکہ بری فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ ان کے بقول جنرل محمد عزیز اور جنرل یوسف رواں سال اکتوبر میں ریٹائر کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ باقی افسران کی ریٹائرمنٹ کی تاریخیں ان کو زبانی یاد نہیں۔ پاکستان میں ہونے والی سیاسی اور فوجی تبدیلیوں کے متعلق جب متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجلس عمل تو ایک وردی اتروانا چاہتی تھی لیکن یہاں تو آئندہ چند ماہ میں بہت ساری وردیاں اتریں گی کچھ جمھوری قانون کے تحت اور کچھ فوجی قانون کے تحت۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وہ وزیر اطلاعات شیخ رشید کا وہ شکریہ ادا کرتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول انہوں نے جنرل مشرف سے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر رواں سال اکتیس دسمبر تک وردی اتارنے یا صدر کا عہدہ چھوڑنےکا اعلان کروایا تھا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا دعویٰ ہے کہ صدر مشرف جس انداز میں ’ کنگز پارٹی‘ کو تیزی سے مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے انہیں لگتا ہے کہ وہ سرکاری مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے والے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد عام انتخابات کے انعقاد کی تیاری ہو رہی ہے، ان کے بقول جب امریکہ والے اپنے انتخابات میں مصروف ہوں گے تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل مشرف پاکستان میں اچانک انتخابات منعقد کرکے جھاڑو پھیر لیں گے۔ واضع رہے کہ صدر مشرف ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ موجودہ اسمبلیاں مدت پوری کریں گی اور آئندہ عام انتخابات سن دوہزار سات میں ہوں گے۔ تاہم انہوں نے موجودہ حکومت کی مدت مکمل کرنے کا کبھی نہیں کہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||