اجلاس میں نہیں جائیں گے: مجلس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی میں متحدہ مجلس عمل کے سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد اتحاد کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مجلس عمل یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کو اس سلسلے میں پہلے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کو ملتوی کر کے ایم ایم اے سے مذاکرات کرے اور اس کے بعد اجلاس بلایا جائے۔ تاہم ایم ایم اے کی سپریم کونسل نے فیصلہ کیا کہ اٹھائیس نومبر کو کراچی میں ہونے والا جلسہ پروگرام کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف نے اکتیس دسمبر تک آرمی چیف کی وردی نہیں اتاری تو مجلس عمل صدر کے خلاف باقاعدہ تحریک چلائے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں بیروزگاری، مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توہین رسالت اور حدود قوانین میں ترامیم کی باتیں کر رہی ہے جس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مجلس عمل دسمبر میں کشمیر کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی۔ مجلس عمل نےفلوجہ میں امریکی بمباری کی مذمت کی قرارداد بھی منظور کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||