BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 November, 2004, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزیر اعظم نے کہا تحریک نہ چلائیں‘

ایم ایم اے کا احتجاج(فائل فوٹو)
صدر کے پاس دو عہدوں کے معاملے پر تحریک جاری رکھیں گے(ایم ایم اے)
وزیراعظم شوکت عزیز نے سنیچر کو حزبِ اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحٰمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے قومی سلامتی کونسل کے پچیس نومبر کے اجلاس میں شرکت کے لیے انہیں باضابطہ دعوت دی ہے۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں مولانا فضل الرحٰمن نےصحافیوں کو بتایا کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وہ چوبیس نومبر کو کراچی میں مجلس کے اجلاس میں کریں گے۔

ملاقات کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جمعہ کو قوم سے خطاب میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے مذاکرات کی بات کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حزبِ اختلاف کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور اس طرح کی ملاقاتوں سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ وزیراعظم نے ایک سوال پر کہا کہ مولانا فضل الرحٰمن سے بڑی مفید ملاقات ہوئی اور تمام امور پر آئندہ بھی بات چیت جاری رہے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن اور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے اس کونسل کے پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی کونسل میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شِرکت کرتے ہیں۔

قومی سلامتی کونسل ملک کا اعلیٰ پالیسی ساز ادارہ ہے جس میں ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کو نمائندگی حاصل ہے۔ حزِب مخالف اس ادارے کو تسلیم نہیں کرتی۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت کا کہنا ہے کہ ایک تو اس سے پارلیمینٹ کی حیثیت کم ہو جاتی ہے اوردوسرا ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے فوج کو سیاست میں قانونی طور پر کردار مل جاتا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کا موقف ہے کہ اگر صدر کے بجائے کونسل کا سربراہ وزیراعظم کو بنایا جائے تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰان نے بتایا کہ ماضی میں کئی معاملات پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا لیکن حکومت نے نظرانداز کردیا۔ ان کے مطابق انہوں نے وزیراعظم شوکت عزیز پر واضح کیا ہے کہ اکتیس دسمبر کے بعد صدر کا دو عہدوں پر فائز رہنا پارلیمان کی توہین ہوگا جسے وہ ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سے اہم امور پر ان کی بات ہوئی ہے اور یہ ابتدائی ملاقات تھی۔ ان کے مطابق جن خدشات کا انہوں نے آج وزیراعظم سے ذکر کیاہے انہیں دور کرنے میں وہ دیکھیں گے کہ وہ کس حد تک بااختیار ثابت ہوتے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے رہنما نے کہا کہ وہ مجلس عمل کے تمام ساتھیوں کو وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے اور مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔

وزیراعظم کے چلے جانے کے بعد صحافیوں کے ایک گروپ سے اپنے چیمبر میں باتیں کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ وزیراعظم تعاون مانگنے آئے تھے اور کہا ہے کہ تحریک نہ چلائیں ۔ ان کے مطابق انہوں نے ان سے کہا کہ ہر مرتبہ وہ تعاون کرتے ہیں اور اس مرتبہ صدر کے دو عہدوں پر فائز رہنے کے معاملے میں وہ تعاون نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صدر نے معاہدے کے مطابق اکتیس دسمبر کو آرمی چیف کا عہدہ نہیں چھوڑا تو ان کی تحریک مزید زور پکڑے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد