BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: مجلس عمل میں اختلافات

قاضی حسین احمد
ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد
چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں میں اختلافات ایک عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ سرحد اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں جمیعت علماء اسلام سمیع الحق گروپ کی جانب سے اپنے طور پر متنازعہ حسبہ بل کا ایک نیا مسودہ اسمبلی میں جمع کرانا ان اختلافات کی طرف ایک واضح اشارہ تھا۔

صوبہ سرحد میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل میں گزشتہ برس پیدا ہونے والی دراڑیں بظاہر بدستور قائم ہیں۔

مولانا سمیع الحق کی جمیعت علماء اسلام سمیت چند دیگر چھوٹی جماعتوں کو جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے گلہ اور شکایتیں ہیں۔

یہ جماعتیں ان دو بڑی جماعتوں یعنی جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ پر انہیں نظر انداز کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔

ان میں سے اکثر کی شکایتیں تو گزشتہ دنوں صوبائی کابینہ میں توسیع سے دور ہوگئیں لیکن جمیعت علماء اسلام سمیع الحق گروپ اب بھی ناراض نظر آتا ہے۔ اس کے رکن اور ڈپٹی سپیکر اکرام اللہ شاہد نے بقول ان کے بارہ ناراض اراکین پر مشتمل احتساب نامی ایک گروپ بھی تشکیل دیا لیکن اس رنجش کا ایک عملی نمونہ انہوں نے گزشتہ دنوں سرحد اسمبلی کے پاس متنازعہ حسبہ بل کا ایک نیا مسودہ جمع کرا کر دیا ہے۔

یہ بل ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کے مجوزہ حسبہ بل سے مختلف ہے۔ کیا مختلف ہے یہی سوال میں نے بل کو تیار کرنے والے جے یو آئی (س) کے رکن اور ڈپٹی اسپیکر اکرام اللہ شاہد کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں محتسب کے فیصلے کے خلاف اپیل سننے کا حق وزیر اعلیٰ سے لے کر گورنر کو دے دیا گیا ہے۔ ’اس کے علاوہ اسے آئین اور ملکی قوانین سے متصادم نہیں بنایا گیا ہے۔‘

صوبائی حکومت حسبہ بل کی منظوری میں تیزی نہیں دکھا رہی۔ اس کا مجوزہ بل کہیں اٹکا ہوا ہے تو جے یو آئی (س) کو آخر اتنی جلدی کیا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے اکرام اللہ شاہد نے کہا کہ ان کی حکومت کو نومبر میں دو سال پورے ہو جائیں گے۔ اس دوران صوبائی حکومت اسلامی نظام لانے کا وعدہ پورا نہیں کر سکی تو انہوں نے حکومت کی مشکل آسان کرتے ہوئے اسے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا ہے۔

اکرام اللہ شاہد نے سرحد اسمبلی کے اندر بھی بظاہر صوبائی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ سرکاری بنچوں پر بیٹھ کر وہ سرکار کی ہی ’خبر’ لیتے نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ کردار بظاہر کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔

جمیعت علماء اسلام نے گزشتہ برس ستمبر میں ایم ایم اے کی تقاریب کے بائیکاٹ اور اس سال جنوری میں جماعت کی مرکزی شوریٰ نے علیحدگی کے فیصلے کا اختیار پارٹی سربراہ مولانا سمیع الحق کو دینے جیسے اقدامات کئے لیکن ان کے باوجود اختلافات قائم ہیں۔

دوسری جانب جمیعت علماء اسلام (س) بھی شکایات کا اظہار تو برملا کر رہی ہے لیکن وہ اس وجہ سے اسمبلی میں اپنے دو اراکین کے لئے صوبائی وزارت اور ڈپٹی سپیکر کا عہدہ چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آتی۔

اہم سوال یہ ہے کہ اتحاد کے اندر اس طرح تعلقات کب تک چلیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد