”اے آر ڈی کی حمایت ممکن ہے” | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اعلان کیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب میں اپنا امیدوار نہیں کھڑا کرے گی۔ اس بات کا اعلان مجلس کے رہنما قاصی حسین احمد نے اتحاد کی سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد ایک اخباری بریفنگ کے دوران نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے آر ڈی نے شوکت عزیز کے مقابلے میں ان کے لیے قابل قبول امیدوار نامزد کیا تو وہ اس کی حمایت کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جون کے آخری ہفتے میں میر ظفراللہ خان جمالی کے مستعفی ہونے کے بعد مجلس عمل نے کہا تھا کہ اگر مسلم لیگ نواز کے رہنما جاوید ہاشمی کو نامزد کیا جائے تو وہ انہیں ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اب جب وزیر خزانہ شوکت عزیز نے رکن قومی اسمبلی کے طور پر حلف لے لیا ہے اور انہیں قائد ایوان منتخب کرنے کے لیے شیڈول کا اعلان پیر تیئس اگست کو متوقع ہے، اے آر ڈی میں پھر سے شوکت عزیز کے سامنے متفقہ امیدوار لانے کے سوال پر اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ (نواز) کی کوشش ہے کہ وہ بغاوت کے الزامات میں سزا کاٹنے والے اپنے رہنما جاوید ہاشمی کو شوکت عزیز کے مقابلے میں لائیں۔ ان کی ایسی تجویز کی پیپلز پارٹی نے پہلے بھی مخالفت کی تھی ۔ اب تک قائد ایوان کا انتخاب ہو یا پھر اٹک اور تھرپارکر کی دونوں قومی اسمبلی کی نشستوں پر متفقہ امیدوار نامزد کرنے کے معاملات، ان سب میں پیپلز پارٹی اپنی رائے مسلم لیگ نواز کو منواتی رہی ہے۔ لیکن اب مسلم لیگ نواز کی ہر قیمت پر کوشش ہوگی کہ ان کی جماعت کا رکن ہی شوکت عزیز کے مقابلے کے لیے نامزد کیا جائے۔ دریں اثناء قاضی حسین احمد نے بریفنگ میں جماعت اسلامی کے القاعدہ سے تعلقات کے الزامات کے بارے میں کہا کہ وہ عدالت میں جانے کا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی از سر نو تشکیل کو بھی مسترد کردیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||