BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 August, 2004, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت عزیز: قومی اسمبلی کا حلف

شوکت عزیز
شوکت عزیز کے قایدِ ایوان منتخب کرانے اور پھر وزیراعظم بنائے جانے کا شیڈول پیر کا جاری کیا جائے گا۔
پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شوکت عزیز نے بطور رکن قومی اسمبلی حلف اٹھالیا ہے جبکہ ان کے بطور قائد ایوان منتخب ہونے اور وزیراعظم حلف اٹھانے کے بارے میں شیڈول پیر تیئس اگست کو جاری کیا جائے گا۔

جمعہ کی شام کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ان سے سپیکر چودھری امیر حسین نے حلف لیا۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس پچپن سالہ شوکت عزیز جب پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھا رہے تھے تو اس وقت ایوان میں مکمل طور پر خاموشی تھی اور بیشتر اراکین کی نظریں ان پر تھیں۔ شوکت عزیز خاصے خوش دکھائی دے رہے تھے۔

حلف ختم ہوتے ہی سرکاری اراکین نے زوردار ڈیسک بجا کر انہیں مبارکاد دی اور کئی وزراء اور اراکین اسمبلی انہیں مبارک دینے کے لیے ان کی نشست پر گئے لیکن خود شوکت عزیز حلف لینے کے بعد حزب اختلاف کے اتحاد ’اے آر ڈی، کے سربراہ امین فہیم سے ملنے گئے اور کافی دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے۔

اس موقع پر راجہ پرویز اشرف جو چند دن قبل تک جلسوں میں شوکت عزیز کو برا بھلا کہتے تھے وہ بھی ان سے گھل مل گئے۔

اٹک اور تھرپارکر کی نشستوں سے اٹھارہ اگست کو منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں وہ دونوں حلقوں سے کامیاب ہوئے تھے لیکن انہوں نے اٹک کی نشست پاس رکھنے کا فیصلہ کیا اور تھرپارکر کی نشست چھوڑدی ہے۔

شوکت عزیز کی جانب سے خالی کردہ تھرپارکر کے حلقہ 229 میں اب چوتھی بار انتخاب ہوگا کیونکہ اکتوبر سن دوہزار میں عام انتخاب میں ارباب غلام الرحیم رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے لیکن بعد میں انہوں نے سندھ کی صوبائی نشست پاس رکھتے ہوئے یہ نشست خالی کردی اور ضمنی انتخاب میں ان کے بھانجے ارباب ذکاءاللہ بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔

شوکت عزیز کی خاطر انہوں نے استعفیٰ دیا اور شوکت عزیز ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئے لیکن پھر یہ نشست انہوں نے چھوڑ دی اور اب دو سال سے بھی کم عرصہ میں اس حلقے میں چوتھی بار انتخاب ہوگا۔

جمعہ کی صبح ایوان بالا یعنی سینیٹ کا بھی اجلاس ہوا تھا جس میں پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی اور دیگر نے ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات میں تیرہ ہلاکتوں اور مبینہ دھاندلی کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ حزب اختلاف قومی اسمبلی میں شوکت عزیز کی حلف برداری کے وقت اس سے بھی سخت احتجاج کرے گی لیکن صورتحال توقعات کے برعکس ہی رہی۔

باقی چند دنوں کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومت کی حامی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں بتایا کہ شوکت عزیز کو قائد ایوان منتخب کرانے اور بطور وزیراعظم حلف لینے کے متعلق شیڈول پیر کو جاری کیا جائے گا۔

قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر نے جمعہ کی صبح ایک اخباری کانفرنس میں سرکاری نتائج کا اعلان کرتے ہوئے شوکت عزیز کو اٹک اور تھرپارکر کے دونوں حلقوں سے کامیاب قرار دیا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے قومی اسمبلی کے حلقہ 59 سے کل آٹھ امیدواروں نے انتخاب میں حصہ لیا، شوکت عزیز نے چھہتر ہزار ایک سو چھپن ووٹ جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات نے انتیس ہزار چار سو ستانوے ووٹ حاصل کیے جبکہ اس حلقے سے دیگر چھ امیدواروں کے حاصل کردہ کُل ووٹ پندرہ سو کے لگ بھگ ہیں۔

صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے حلقہ 229 سے شوکت عزیز نے ایک لاکھ چون ہزار سات سو پینسٹھ ووٹ حاصل کیے جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کو دس ہزار سات سو بتیس ووٹ ملے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد