BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 August, 2004, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آنے والا آگیا

شوکت عزیز
’اب آپ کی باری ہے‘
پاکستان میں ایک بار پھر اعلانیہ بڑی سیاسی تبدیلی کی تقریب کی تیاریاں ہورہی ہیں جس میں نئے وزیراعظم کا حلف لینے سے پہلے قانونی رسومات کی ادائگی ہونی ہے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے حلقہ 59 اور صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے حلقہ 229 سے شوکت عزیز الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق’بھاری اکثریت‘ سے جیت چکے ہیں۔

پاکستان میں تھوڑے عرصے میں بڑی سیاسی تبدیلیوں پر صدر جنرل پرویز مشرف یہ کہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ملک میں ایسا ’سیاسی کلچر‘ قائم کیا ہے کہ اعلیٰ سطحی تبدیلیاں پرسکون انداز میں جمہوری طریقے سے ہورہی ہیں۔

وزراء اعظم کی تیزی سے تبدیلیوں کے بعد پاکستان مخالف بیشک یہ باتیں کریں کہ ’وہ کپڑے بھی اتنے تیزی سے نہیں بدلتے جتنا جلد پاکستان میں وزیراعظم بدلتے ہیں‘ لیکن ایسی بار بار تبدیلوں کا فائدہ صحافیوں کو بھی خبروں کی صورت میں ملتا ہے اور یوں سب کا کام ’اچھا‘ ہی چل رہا ہے۔

اٹک کی کئی پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے جانے اور انتخابی سرگرمیوں کا مشاہدے کرنے والے بیشتر مبصرین اور صحافیوں کی رائے تھی کہ جو کچھ نظر آرہا تھا اس کے مطابق حکومتی امیدوار شوکت عزیز کے جیتنے کے امکانات روشن تھے لیکن جتنے ووٹ پڑنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس پر کئی مبصرین کو تحفظات ہیں۔

تھرپارکر میں بھی ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے صورتحال شائع شدہ خبروں اور تبصروں کے مطابق اٹک سے کچھ مختلف نہیں تھی۔

اٹک کے حلقہ میں مختلف پولنگ سٹیشنوں سے ہوتے ہوئے جب پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات کے آبائی شہر حسن ابدال پہنچے تو پتہ چلا کہ امیدوار گھر پر موجود ہیں۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ پولنگ کے دن امیدوار گھر میں ہوں گے!

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سکندر حیات نے الزام لگایا کہ ضلع ناظم کے خوف اور ڈر کے مارے ان کے ووٹر پولنگ پر نہیں آئے اور انہوں نے سولہ کے قریب ایسے پولنگ سٹیشن بتائے جہاں بقول ان کے انہیں کوئی مقامی پولنگ ایجنٹ بھی نہیں ملا اور انہیں دیگر شہروں سے بلائے گئے پارٹی کارکنان کو بطور ایجنٹ بٹھانا پڑا۔

جب ان سے پولنگ کے دن گھر میں موجود رہنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ کچھ پولنگ سٹیشنز سے ہو آئے ہیں اور بعض پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاہم بقول انکے ’ جیتنا تو سرکاری امیدوار نے ہی ہے ۔‘

اٹک میں جن پولنگ سٹیشن پر جانے کا اتفاق ہوا وہاں پیپلز پارٹی جیسی جماعت کے کارکن کم اور لیڈر زیادہ نظر آرہے تھے اور مسلم لیگ جیسی جماعت کی کیمپوں میں کارکن زیادہ بیٹھے ہوئے تھے چاہے اس کی وجہ ضلع ناظم کا مبینہ خوف ہو یا لالچ یا پھر کوئی اور۔

بہرحال ضمنی انتخابات ہوگئے شوکت عزیز جیت گئے لیکن اب بھی قانونی رسومات باقی ہیں جس کے مطابق شوکت عزیز بطور سینیٹر مسعفی ہوں گے، یہ طے ہونا ہے کہ وہ کونسی نشست رکھیں گے اور کون سی چھوڑیں گے، اٹک اور تھرپارکر کی کسی ایک نشست پر پھر سے ضمنی انتخاب ہوگا، سینیٹ کی ان کی خالی ہونے والی نشست پر بھی ضمنی انتخاب ہونا ہے، قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے اور انتخاب وغیرہ وغیرہ کی خبریں ابھی چلیں گیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد