شوکت عزیز دونوں سیٹوں پر کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر سرکاری نتائج کے مطابق وزیرِ خزانہ شوکت عزیز اٹک سے تھر میں مِٹھی کے حلقوں سے واضح اکثریت کے ساتھ کامیاب ہو گئے ہیں۔ دونوں حلقوں میں اصل مقابلہ حکمران جماعت مسلم لیگ کے امیدوار اور وزارت عظمیٰ کے خواہشمند شوکت عزیز اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہے۔ سرکاری امیدوار کے اٹک سے مد مقابل امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات جبکہ تھرپار کر سے ڈاکٹر مہیش ملانی تھے۔ اسلام آباد میں الیکشن کمِشن نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹک کے حلقے سے شوکت عزیز چھہتر ہزار ایک سو اِکسٹھ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ تھر سے انہوں نے ایک لاکھ باون ہزار ایک سو دو ووٹ حاصل کیے۔ الیکشن کمِشن کے مطابق تھر میں ان کے مخالف امیدوار پی پی پی کے مہیش ملانی کو دس ہزار سات سو بتیس ووٹ ملے۔ اٹک میں پی پی پی کے ڈاکٹر سکندر حیات خان نے انتیس ہزار چار سو تینتالیس ووٹ حاصل کیے۔ حلقے میں ووٹنگ کی شرح پینتالیس عشاریہ چوہتر فیصد رہی۔ اٹک سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 59 میں ووٹوں کی کل تعدا دو لاکھ اٹھتیس ہزار چار سو انہتر ہے جِن میں سے ایک لاکھ نو ہزار اکیانوے ووٹ ڈالے گئے۔
اٹک اور تھرپارکر سے قومی اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی انتخابات میں اطلاعات کے مطابق ووٹنگ پرامن ماحول میں ہوئی ہے۔
سخت حفاظتی انتظامات میں جاری انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں پر جوش و خروش کم رہا جو عام طور پر انتخابات میں نظر آتا ہے۔ بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر پیپلز پارٹی کے پنجاب بھر سے بلائے گئے اراکین پارلیمینٹ اور سرکردہ رہنما و ’جیالے‘ بھی موجود تھے۔ بعض پولنگ سٹینوں پر سرکاری اور حزب اختلاف کی خواتین ایجنٹوں کے درمیاں تُو تُو میں میں تو دیکھنے میں آئی تاہم دونوں امیدواروں کے مرد پولنگ سٹیشنوں پر حالات پرامن رہے۔ پی پی پی کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات نے ووٹوں کی کم شرح کا سبب یہ بتایا کہ علاقے میں ضلع ناظم نے خوف کا ماحول بنایا ہوا ہے اور لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||