BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 August, 2004, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اٹک اور مٹھی میں شوکت عزیر آگے

ضمنی انتخابات
صبح کے وقت پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی تعداد خاصی کم تھی
اٹک اور تھرپارکر میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

جن پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے ان میں حکمراں جماعت کے امیدوار شوکت عزیز کو اپنے مخالف امیدواروں پر خاصی سبقت حاصل ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے صدر دفتر مٹھی شہر سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شوکت عزیز سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

اٹک میں رٹرننگ آفیسر کے مطابق اب تک ایک درجن کے لگ بھگ پولنگ اسٹیشنز کی گنتی مکمل ہوئی ہے جس کے مطابق شوکت عزیز آگے ہیں۔

اس سے پہلے جب پولنگ کا وقت ختم ہوا تو پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔

اٹک اور تھرپارکر سے قومی اسمبلی کے حلقوں میں جاری ضمنی انتخابات میں اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ووٹنگ پرامن ماحول میں ہوئی ہے۔

دونوں حلقوں میں اصل مقابلہ حکمران جماعت مسلم لیگ کے امیدوار اور وزارت عظمیٰ کے خواہشمند شوکت عزیز اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہے۔

سرکاری امیدوار کے اٹک سے مد مقابل امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات جبکہ تھرپار کر سے ڈاکٹر مہیش ملانی ہیں۔

اٹک سے نامہ نگار کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے فوج کی تعیناتی کا حکم دیا تھا لیکن نامہ نگاروں کے مطابق کہیں بھی فوج نظر نہیں آئی۔

سخت حفاظتی انتظامات میں جاری انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں پر جوش و خروش بہت کم ہے جو عام طور پر انتخابات میں نظر آتا ہے۔

ووٹنگ پانچ بجے ختم ہو رہی ہے جس کے بعدگنتی شروع ہوگی۔ تا حال کسی بڑی بے ضابطگی، دھاندلی اور ہنگامہ آرائی کی اطلاع نہیں ملی۔

ضمنی انتخابات
نامہ نگار نے بتایا کہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ خاصا کم ہے، بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر جہاں پانچ سو کے لگ بھگ ووٹ داخل ہیں وہاں دوپہر تک پچاس سے ساٹھ ووٹ پڑے ہیں۔

تاہم سرکاری امیدوار کی مہم کے انچارج اور ضلع ناظم طاہر صادق کے آبائی شہر ’باہتر‘ اور حزب اختلاف کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات کے آبائی شہر حسن ابدال میں دیگر علاقوں کی پولنگ اسٹیشنوں کی نسبت ووٹ کچھ زیادہ پڑے ہیں۔

بیشتر پولنگ اسٹیشنز جس میں کتبال، گڑھی حسو، فتح جھنگ، باہتر، جھنگ اور حسن ابدال وغیرہ شامل تھے وہاں وہ گرم جوشی نہیں دیکھنے میں آئی جو عام طور پر انتخابات میں ہوتی ہے۔

بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر پیپلز پارٹی کے پنجاب بھر سے بلائے گئے اراکین پارلیمینٹ اور سرکردہ رہنما و ’جیالے‘ بھی موجود تھے۔

بعض پولنگ سٹینوں پر سرکاری اور حزب اختلاف کی خواتین ایجنٹوں کے درمیاں تُو تُو میں میں تو دیکھنے میں آئی تاہم دونوں امیدواروں کے مرد پولنگ سٹیشنوں پر حالات پرامن رہے۔

پی پی پی کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات نے ووٹوں کی کم شرح کا سبب یہ بتایا کہ علاقے میں ضلع ناظم نے خوف کا ماحول بنایا ہوا ہے اور لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ڈپلو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے پی پی پی کی رکن صوبائی اسمبلی اور پولنگ ایجنٹ سسی پلیجو کو پولنگ کے دوران ہونے والے ایک جھگڑے کے بعد شام پانچ بجے تک کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے۔

پولنگ
انہوں نے پولنگ کے موقع پر ہونے والے جھگڑے کے بعد مٹھی میں ایک جلوس کی قیادت بھی کی تھی۔

دوسرے طرف پی پی پی کے صوبائی صدر اور صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد نٹار کھوڑو کو اسلام کوٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

پی پی پی کے ان دونوں رہنماؤں کو منگل کے روز بھی چند گھٹنوں کے لئے نظر بند کیا گیا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق تھرپارکر کے بعض مقامات پر پولنگ دیر سے شروع ہوئی تھی لیکن بعد دوپہر پولنگ سٹیشنوں پر زیادہ تعداد میں لوگ نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد