اٹک کی دلہن، حاضر اور غائب دولہوں میں مقابلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالئی جمہوریت والے تو کہہ رہے ہیں ’دلہن تو جائے گی دولہا راجہ کے ساتھ‘ مگر دو دولہوں کے اس سوئمبر میں ایک دولہے کے باراتی تو بہت سرگرم ہیں لیکن وہ ِخود کہیں دور بیٹھے ہیں شاید ڈر کے مارے، اسی لیے شاید اے آر ڈی والوں کا یقین اس بات پر بڑھتا جا رہا ہے کہ اٹک کے ضمنی انتخابات کی دلہنیا انہی کے دولہا کے حصے میں آئے گی۔ پنجاب کے ضلع اٹک کے انتخابی حلقہ 59 میں حکمران جماعت کے نامزد اُمیدوار اور نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کی انتخابی حکمت عملی فتح جنگ کے مقام پر کیح جانے والے خود کُش حملے کے بعد تبدیل کر دی گئی ہے۔ اس حملے میں انہیں اگرچہ کوئی گزند نہیں پہنچی تاہم اب وہ حفاظتی انتظام کے پیش نظر اپنے انتخابی حلقے میں نہیں آ رہے ہیں اور اُن کی انتخابی مہم اب حکومتی ارکان جن میں ضلع اٹک کے ناظم طاہر صادق سر فہرست ہیں چلا رہے ہیں۔ خود کُش حملے کے بعد شوکت عزیز کا اپنے انتخابی حلقے میں نہ جانا، اتحاد برائے جہموریت، اے آر ڈی کے جلسوں میں مقررین کا مرکزی موضوع بن چکا ہے اور وہ شوکت عزیز کو بھاگا ہوا دولہا قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جلسے میں شریک لوگوں کو یہ علاقائی روایت بھی سنائی جاتی ہے کہ ’دلہن کو ہمیشہ، دولہے کے ساتھ ہی رخصت کیا جاتا ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ دولہا بارات کے ساتھ نہ آیا ہو اور دلہن کو باراتیوں کے ساتھ رُخصت کیا گیا ہو، اب باراتی ووٹ مانگ رہے ہیں اور دولہا کہیں نظر نہیں آتا‘۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر سکندر حیات کے لیے چلائی جانے والی مہم کے سربراہ راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ روز سنجوال میں ایک انتخابی جلسے میں کہا کہ 9 اگست سے لے کر 18 اگست کی شام تک پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار کارکن جن میں سابقہ ایم این اے، سینیٹر اور گورنر بھی شامل ہونگے ضلع اٹک میں موجود رہیں گے اور ڈاکٹر سکندر حیات کی بھر پور مہم چلائیں گے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ شوکت عزیز کے اپنے انتخابی حلقے میں نہ آنے کی وجہ سے ڈاکٹر سکندر کی جیت یقینی ہے۔ ضلع اٹک کے ناظم میجر طاہر صادق جنہوں نے اپنی بیٹی کی سیٹ خالی کروا کر شوکت عزیز کو اٹک سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی ہے اب وہ ساری انتخابی مہم کی عملی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے تو پہلے بھی کہتا تھا کہ انتخابی حلقے میں شوکت عزیز کے نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، پہلے بھی میں ہی یہ مہم چلا رہا تھا اور اب تو اس میں اور تیزی آ گئی ہے‘۔ جلسوں میں تو دونوں جانب سے بڑے بڑے دعوے ہو رہے ہیں، اگر شوکت عزیز کو حکمران پارٹی کا رکن ہونے کی وجہ سے اپنے مدمقابل کے مقابلے میں اپنی جیت کے لیے زیادہ پر اُمید ہیں تو پیپلز پارٹی کے اُمیدوار ایم ایم اے اور مسلم لیگ نواز کاساتھ ہونے کی وجہ سے خود کو مستحکم امیدوار سمجھتے ہیں۔ لیکن فیصلہ اٹھارہ اگست کو ہی ہو گا کہ وہ دولہا جتیتا ہے جو اسلام آباد میں بیٹھ کر انتخاب لڑ رہا ہے یا وہ دولہا جو اٹک میں اپنی جیت کے لیے کوشاں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||