’مہم شوکت عزیز کی خرچ سرکار کا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور حکومتی عہدے ایک ساتھ رکھنے پر عائد پابندی ختم کرنے کے لیے حکومت نے ’ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 ‘ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا سینیٹ سے بھی بدھ کے روز اکثریت رائے سے منظور کرالیا ہے۔ سینیٹ میں حزب اختلاف نے بل کی عجلت میں منظوری کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ بھی کیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے سن دو ہزار دو میں نافذ کردہ ایک حکم کے ذریعے ’پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002، جاری کیا تھا، جس کا مقصد ملک میں نئے سیاسی کلچر پیدا کرنا بتایا گیا تھا۔ یہ بل پیر انیس جولائی کی شام کو حکومت نے قومی اسمبلی سے منظور کرایا تھا، جس کے خلاف اسمبلی میں بھی حزب اختلاف نے سخت احتجاج کیا تھا۔ سینیٹ میں بحث کے دوران حزب اختلاف کے رہنماؤں اور اراکین نے حکومت پر عجلت میں بل منظور کرانے پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اس بل سے اداروں کے بجائے افراد مضبوط ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی سمیت حزب اختلاف کے بیشتر سینیٹرز کا مطالبہ تھا کہ اس بل پر غور اٹھارہ اگست تک ملتوی کردیا جائے کیونکہ ان کے بقول اس بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو سرکاری عہدوں کا استعمال کرتے ہوئے شوکت عزیز کی انتخابی مہم چلانے کا اختیار مل جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوری طور پر ترمیم کا مقصد شوکت عزیز کو ضمنی انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے حکومتی وسائل کا استعمال کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت اور حکومتی عہدے ایک ساتھ رکھنے پر پابندی کے باوجود بھی وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سمیت متعدد وزراء اس کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں، آخر اب کیا جلدی ہے؟ واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کے وقت فرید احمد پراچہ سمیت کئی حزب اختلاف کے اراکین نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کل تک حکمران کہہ رہے تھے کہ قومی مفاد کی خاطر یہ قانون بنایا گیا اور چند ماہ بعد پھر قومی مفاد اور مفاد عامہ کے تحت اسے تبدیل کیا جا رہا ہے، آخر وہ کونسا قومی اور عوامی مفاد ہے جو اتنا تیزی سے تبدیل ہوگیا؟ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن اسمبلی سید نوید قمر سمیت بعض اراکین کا دعویٰ تھا کہ عوامی اور پارٹی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر پابندی ختم کرنے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف مسلم لیگ کے صدر بن سکتے ہیں۔ دونوں ایوانوں سے بل کی منظوری کے بعد اب صدر کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا اور جیسے ہی صدر مملکت بل پر دستخط کریں گے یہ ترمیمی بل نافذ العمل ہو جائےگا۔ حکومت کے منظور کرائے گئے اس بل کا اطلاق دسمبر دو ہزار تین سے ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||