عدنان عادل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 |  شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں ان کے ڈرائیور سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے |
اٹک میں پچیس جولائی کو وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز پر قاتلانہ حملہ کی تفتیش کے لیے اٹک کے مختلف دیہاتوں اور مدرسوں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور متعد علماء اور کالعدم تنظیموں کے سابق سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اٹک میں متحدہ مجلس عمل کے ایک مقامی رہنما کا کہنا ہے کہ پولیس نے اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ سے مولانا افتخار چشتی، حافظ محمد منیر، شکردرہ سے حافظ نثار، چھچھ کے گاؤں غور غشی سے مولانا محمد نعیم مرزا، گاؤں سے ڈاکٹر حافظ عبدالوحید ، مولانا محمدمسکین سمیت متعدد علما کو گرفتار رکیا ہے۔ اٹک حضرو کے علماء کرام شیخ الحدیث مولانا عبداالسلام اور متحدہ مجلس عمل کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا محمودالحسن توحیدی نے دوسرے علما کے ہمراہ اٹک پولیس کے سربراہ ظفر اقبال سے ملاقات میں ان چھاپوں ، گرفتاریوں اور پولیس کے رویے کی شکایت کی تو انھوں نے کہا کہ بے گناہوں کو تفتیش کے بعد جلد رہا کردیاجائے گا۔ دوسری طرف لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اٹک میں قاتلانہ حملہ کے سلسلہ میں آٹھ نو افراد کو تفتیش میں شامل کیا گیا ہے لیکن گرفتار نہیں کیا گیا۔ |