BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 July, 2004, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت: سخت سکیورٹی انتظامات
شوکت عزیز
شوکت عزیز انتخابی ریلی کے جلسے میں
نامزد وزیر اعظم شوکت عزیز پر کل شام کے قاتلانہ حملے کے بعد ان کی حفاظت کے لیے ان کے گرد سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

جمعہ کی شام کئے گئے اس خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہوگئی ہے جبکہ بیس سے زائد زخمی ہیں۔

شوکت عزیز اٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران فتح جنگ کے قریب ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر کے باہر آ رہے تھے کہ جلسہ گاہ سے تھوڑے فاصلے پر ان کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

ہلاک ہونے والوں میں شوکت عزیز کے ڈرائیور کے علاوہ حملہ آور بھی شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور بیس پچیس سالہ نوجوان معلوم ہوتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید کے مطابق شوکت عزیز نے کہا ہے کہ وہ قاتلانہ حملے کے بعد بھی اپنی انتخابی مہم جاری رکھیں گے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ سندھ میں آج کے لیے طے کی گئی ریلی کے لیے جاسکیں گے یا نہیں۔

شیخ رشید نے بی بی سی کو حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز کی گاڑی لیفٹ ہینڈ ڈرائیو تھی جس کے باعث حملہ آور کا نشانہ چوک گیا اور وہ بال بال بچ گئے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا ہے کہ تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ حال ہی میں پاکستان میں اہم لوگ گرفتار کیے گئے ہیں اور ’ان‘ کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے جس کے رد عمل میں ایسی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز پر ہونیوالے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملے انہیں دہشت گردی مخالف جنگ سے نہیں ہٹا سکیں گے۔

جنرل پرویز مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے حملے اسلام اور اس کی ہدایات کے خلاف ہیں۔

حملے سے بچ نکلنے کے بعد شوکت عزیز نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے انہیں ملک اور اسلام کی خدمت کرنے کے عزم کو مزید تقویت دی ہے۔

شوکت عزیز نے اس حملے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور ہلاک ہونیوالوں کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کی۔ صدر پاکستان جنرل مشرف نے بھی ہلاک ہونیوالوں کے رشتہ داروں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

فتح جنگ پولیس تھانے کے محرر کے مطابق یہ حملہ جمعہ کی شام سوا سات بجے کے قریب جعفر گاؤں میں اس جگہ ہوا جہاں انہوں نے انتخابی جلسہ سے خطاب کرنا تھا۔

شوکت عزیر اٹک کے حلقے سے اٹھارہ اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد