BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 July, 2004, 19:47 GMT 00:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت کیخلاف مشترکہ امیدوار

شوکت عزیز
حزب اختلاف شوکت عزیز کے خلاف مشترکہ امیدوار پر غور کر رہی ہے
مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماؤں نے پنجاب اسمبلی کی چار نشستوں کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد اس بات پر افسوس کا اظـہار کیا ہے کہ انہوں نے مشترکہ امیدوار کیوں کھڑے نہیں کیے تھے اور اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ شوکت عزیز کے خلاف اے آر ڈی کا متفقہ امیدار کھڑا کیا جائےگا۔

الگ الگ پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے جنرل سیکرٹری خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کو اپنی مرکزی قیادت کا فیصلہ ماننا چاہیے تھا اگر اے آر ڈی کا متفقہ امیدوار میدان میں ہوتا تو حکومتی دھاندلی کا بہتر طریقہ سے پڑتی اور وہ مزید ننگے ہوجاتے۔

انہوں نے کہاکہ اے آر ڈی یہ غلطی نہیں دہرائے گی اور اٹک میں نامزد وزیر اعظم شوکت عزیز کے مقابلہ میں متفقہ امیدوار اتارا جائےگا۔

انہوں نے کہاکہ سابق رکن اسمبلی ملک لعل خان کے صاحبزادے ملک سہیل خان اور سابق رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب میں سے کوئی ایک اس حلقہ کے لیے مسلم لیگ کا نامزد امیدوار ہوگا لیکن اس کا حتمی فیصلہ اے آر ڈی کے پانچ جولائی کے اجلاس میں کیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ پنجا ب کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہاکہ انتخابی نتائج میں مسلم لیگ نواز کو ایک سازش کے تحت پیپلزپارٹی کے امیدوار سے بھی نیچے رکھا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو پریذائڈنگ افسروں نے جعلی کاغذات پر رزلٹ جاری کیے تھےاور ریٹرنگ افسروں کو تبدیل شدہ نتائج دیئے گئے۔یہ تبدیلیاں ڈیفنس کے ایک گھر میں کی گئیں۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایک صوبائی وزیر کے گھر پر تمام پریذائڈنگ افسروں کو بلا کر خریدنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین پنجاب کے صدر قاسم ضیانے دھاندلیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ کراچی کی طرح پنجاب کے چاروں ضمنی نشستوں کے انتخابات کے نتائج روک لے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں ووٹنگ کی شرح ان کے لیے حیرانگی کا سبب ہے لاہور جیسے سیاسی متحرک شہر میں امیدوار پانچ سے سات ہزار فی کس ووٹ لے رہے ہیں اور یزمان جیسے شہر میں حکومتی پارٹی کے امیدوار کے چوالیس ہزار ووٹ کیسے نکل آئے؟

انہوں نے کہاکہ لاہور میں اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے امیدوار میں تھا اور یہ بڑی تبدیلی ہے کہ پیپلزپارٹی کے ووٹ مسلم لیگ(نِ) سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی دیکھنے کے بعد ان کا مطالبہ ہے کہ اٹک کے ضمنی انتخابات انسانی حقوق کی آزاد تنظیموں کے زیر انتظام کرائے جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد