BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 July, 2004, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہورضمنی الیکشن: اسلحہ کی نمائش

ضمنی انتخابات
لاہور کے ضمنی انتخابات خاصی کشییدگی کے ماحول میں ہوئے
آج لاہور میں ایک صوبائی حلقہ کے ضمنی انتخابات خاصے تناؤ کی فضا میں ہوئے اور حکمران جماعت کے افراد اسلحہ لے کر پولنگ اسٹیشنوں پر گھومتے نظر آئے۔ تاہم تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

لاہور کے علاوہ بہاولپور کے تین صوبائی حلقوں میں بھی ضمنی انتخابات ہوئے۔

لاہور کے صوبائی حلقہ ایک سو چھپن کے ضمنی انتخاب کی وجہ سے شہر میں مقامی تعطیل تھی لیکن ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی اور عام طور پر پولنگ اسٹیشن سنسان نظر آئے۔ سیاسی جماعتوں نے بہت سرگرمی سے انتخاب میں حصہ تو لیا لیکن وہ ووٹروں کو گھروں سے نکالنےمیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

مسلم لیگ(ن) کے رکن صوبائی اسمبلی شیخ امجد عزیز کے نااہل قرار دیےجانے پر یہ نشست خالی ہوئی تھی جہاں سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے شعیب صدیقی، پیپلز پارٹی کے عباد قریشی، ، مسلم لیگ (نواز) کے نصیر بھٹہ اور پاکستان انصاف تحریک کے عمر سرفراز چیمہ ایک دوسرے کے مقابلہ پر تھے۔

مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ پولیس رات بھر ان کے کارکنوں کو گرفتا ر کرنے کی کوشش کرتی رہی۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نصیر بھٹہ نے کہا ہے کہ پولیس نے کاہنہ کے علاقے میں چند کارکنوں کو حراست میں رکھا تاہم ان کی مداخلت پر رہا کردیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیا نے کہا کہ پولیس نے رات کو ان کی پارٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے۔

قاسم ضیاء نے والٹن روڈ کے بوائز سکاؤٹ سکول کے پولنگ اسٹیشن سے تین سو جعلی شناختی کارڈ پکڑنے اور نصیر بھٹہ نے چار سو جعلی شناختی کارڈ پکڑنے کا دعوی کیا ہے جو ان کے مطابق دھاندلی کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔

نصیر بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومتی سرپرستی میں خواتین کے سات آٹھ گروہ پورے حلقہ میں جعلی ووٹ ڈالنے میں مصروف رہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خواتین مسلم لیگ ہاؤس سے چلتی تھیں اور جعلی شناختی کارڈوں کے ساتھ ایک پولنگ اسٹیشن سے دوسرے پولنگ اسٹیشن پر جاکر ووٹ ڈالتی رہیں اور پولیس ان کی مدد کرتی رہی۔‘

لاہور پولیس اور حکومتی جماعت کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چودھری نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگوں نے اسلامیہ ہائی اسکول طفیل روڈ کے پولنگ اسٹیشن پر کلاشنکوف سے مسلح ایک شخص کی اطلاع پولیس کو دی۔ انھوں نے کہا کہ نادرآباد کے پولنگ اسٹیشن پر معمولی جھگڑے کے باعث پولنگ کچھ دیر رکی رہی۔

نصیر بھٹہ نے کہا کہ ’چار پانچ پولنگ اسٹیشنوں پر غنڈہ گردی کی گئی اور فیڈرل بوائز ہائی اسکول صدر میں ایک وزیر غنڈوں کے ساتھ داخل ہوئے جہاں سے انھوں نے ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال دیا اور جب ہمیں اس کی اطلاع ہوئی اور جب تک ہم نے انھیں وہاں سے نکلوایا وہ اپنا کام کرچکے تھے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد