BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 May, 2004, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کا چودھری کون؟

گولڈن ٹیمپل
جوں جوں دس مئی کو بھارتی پنجاب میں لوک سبھا کی تیرہ نشستوں کے لیے پولنگ کا دن قریب آرہا ہے پنجاب کی چودھراہٹ کا مقابلہ گرم ہوتا جارہا ہے۔

پنجاب میں ایک کروڑ چھیاسٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹر ہیں اور آبادی میں سکھوں اور ہندؤوں کا تناسب تقریبا برابر ہے۔ دیہاتوں میں سکھ آبادی اور شہروں میں ہندو اور دلت آبادی اکثریت میں ہے۔

یہاں پر ایک طرف سکھوں کی جماعت شرومنی اکالی دل ہے اور دوسری طرف صوبہ میں حکمران جماعت کانگریس۔

اکالی دل نے مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے انتخابی اتحاد کیا ہوا ہے اور کانگریس کمیونسٹ پارٹی کے دونوں دھڑوں سے مل کر انتخاب لڑ رہی ہے۔

اس بار پنجاب کی انتخابی مہم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ قومی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نے صوبہ کا دورہ کیا ہے۔

چندی گڑھ کے انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلیپمینٹ اور کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر اور دانشور پرمود کمار کے مطابق اس سے پہلے کے عام انتخابات میں قومی لیڈروں نے پنجاب میں اتنے جلسے کبھی نہیں کیے۔

کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی پٹھان کوٹ ، چندی گڑھ اور پگھواڑہ میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرچکی ہیں اور اب ایک دو روز میں مزید جلسوں سے خطاب کرنے کا اعلان کرچکی ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی سشما سوراج نے چندی گڑھ میں جلسہ عام سے خطاب کیا اور ایل کے ایڈوانی اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے تو اپنی رتھ یاترا کا امرتسر میں اختتام کرکے ان جلسے جلوسوں کی ابتدا کی تھی۔ دو روز پہلے ایل کے ایڈوانی نے چندی گڑھ میں پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔

بی جے پی کے لیڈر سونیاگاندھی کے غیر ملکی ہونے اور ہندی تہذیب سے ناآشنا ہونے کا معاملہ اُٹھا رہے ہیں۔ بی جے پی نے اگلے پانچ سال میں بجلی ، سڑک اور پانی مہیا کرنے کا نعرہ بھی لگایا ہے۔

دوسری طرف کانگریس بی جے پی پر فرقہ واریت اور بے روزگاری پھیلانے کا الزام لگارہی ہے۔ سونیا گاندھی نوجوانوں کو روزگار، عورتوں اور پسماندہ ذاتوں کے حقوق کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔

کانگریس نے اس بار اپنی گیارہ میں سے چار نشستوں پر خاتون امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ کانگریس کی اتحادی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے بھی ایک عورت امیدوار ہے۔ اکالی دل اور بی جے پی نے بھی ایک عورت کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

مقامی سطح پر پنجاب میں لوک سبھا کے انتخابات کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی امریندر سنگھ اور سابق وزیراعلی اور شرومنی اکالی دل کے سربراہ پرکاش سنگھ بادل کے درمیان ایک شخصی لڑائی کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے حامی ایک دوسرے پر اخباروں میں اشتہارات کے ذریعے زبردست کیچڑ اچھالنے اور الزام تراشی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ دونوں ایک دورسرے پر بدعنوان ہونے اور خراب حکومت کی پھبتیاں کس رہے ہیں۔

کانگریس پچھلے دو سال سے صوبہ میں حکومت میں ہے اور اس سے پہلے پانچ سال اکالی دل نے حکومت کی ہے۔

امریندر سنگھ نے وزیراعلیٰ بنتے ہی پرکاش بادل کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے درج کیے اور انھیں جیل بھجوا دیا۔ لیکن وہ ضمانت پر رہا ہوگۓ اور مقدمے ابھی لٹکے ہوئے ہیں۔ اب وزیراعلیٰ کے بیٹے کے خلاف بھی بیرون ملک پیسے بھجوانے کے الزام کی تفتیش کے لیے ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن بن گیا ہے۔

دونوں جماعتیں اپنی مہم کے لیے فلمی ستاروں اور مشہور شخصیات کا سہارا بھی لے رہی ہیں۔ گورداسپور سے ونود کھنہ بی جے پی کے امیدوار ہیں اور امرتسر سے کرکٹر نووجیت سدھو۔ فلمی اداکارہ پونم ڈھلوں جن کا تعلق پنجاب سے ہے وہ ان دونوں کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ روز فلم اداکارہ زینت امان نے امرتسر میں کانگریس کے امیدوار آر ایک بھاٹیہ کی مہم چلائی۔

پنجاب میں ایک بڑا مقابلہ تو فیروز پور کی نشست پر ہورہا ہے جہاں پرکاش سنگھ بادل کے بیٹے سکھبیر سنگھ اکالیوں کے امیدوار ہیں اور ان کامقابلہ کانگریس کے کرن بڑار سے ہے۔

تاہم سب سے دلچسپ اور بڑا مقابلہ پٹیالہ کی نشست پر ہے جہاں وزیراعلیٰ کی اہلیہ پرنیت کور کا مقابلہ کنول جیت سنگھ سے ہورہا ہے۔ یہ مقابلہ دراصل امریندر سنگھ اور پرکش بادل کے درمیان ہے اور امیدواروں کی حیثیت ان کے نمائندوں کی ہے۔

کانگریس پچھلے دو سال سے صوبہ میں حکومت کررہی ہے اور اس دوران میں کانگریس میں خاصی دھڑے بندی ہوچکی ہے اور اسے کے اپنے ارکان صوبائی اسمبلی اپنے لوک سبھا کے امیدواروں کے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔ وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کی ’کچن کابینہ‘ سے لوگوں کو خاصی شکایات ہیں۔

دوسری طرف پسماندہ ذاتوں کی یوپی میں رہنما مایا وتی نے اس بار پنجاب میں بھی امیدوار کھڑے کردیئے ہیں جو دلت ووٹوں پر اپنا حق جما رہے ہیں۔ مسلمان اور دلت روایتی طور پر کانگریس کے اتحادی رہے ہیں اور دلت ووٹ تقسیم ہونے سے کانگریس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

دوسری طرف اکالی دل بنیادی طور پر دیہات میں رہنے والے سکھوں کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے اور بھارتیہ جنتا پھارٹی سے اتحاد کی وجہ سے اسے شہروں میں رہنے والے ایک بڑی تعداد میں متوسط ہندو ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

گزشتہ انتخابات میں کانگریس نے بھارتی پنجاب سے لوک سبھا کی سات نشستیں جیتی تھیں۔

صوبے میں انتخابی گرما گرمی اتنی زیادہ ہے کہ پولنگ کے دن کے لیے الیکشن کمیشن نے پولیس کے علاوہ بارڈر سیکیورٹی فورس کے دستے بھی طلب کرلیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد