کانگریس یا اکالی دل؟ میڈیا کی جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل بھارتی پنجاب میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ اور شرومنی اکالی دل کے صدر اور سابق وزیراعلی پرکاش سنگھ بادل کے حامیوں کے درمیان مقامی میڈیا میں ان دو رہنماؤں پر کیچڑ اچھالنے کا ایک زبردست مقابلہ ہورہا ہے۔ مشرقی پنجاب میں لوک سبھا کی تیرہ نشستوں کے لیے دس مئی کو چوتھے اور آخری مرحلہ میں ہونے والے انتخابات سے پہلے یہ
ان بڑے بڑے اشتہاروں میں دونوں رہنماؤں کی تصویریں یا کارٹون دیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ سنگین اور بعض اوقات ایسے الزمات لکھے جاتے ہیں جو اخلاق اور قانون کی حدود پار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ اشتہار عام طور ایسی تنظیموں کی طرف سے جاری کیے جاتے ہیں جن کا علم لوگوں کو بہت کم ہے اور عام خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے انہی دو بڑے رہنماؤں کے نامزد لوگ ہیں۔ ایک مقامی انگریزی اخبار میں اکالی دل کے خلاف دیےگئے ایسے اشتہار کا عنوان ہے۔ ’بادل کا کالا دور‘ اس اشتہار میں بہت ایک ہوٹل اور ایک بڑے فارم ہاؤس کی تصویریں دی گئی ہیں جو اکالی دل کے سربراہ پرکاش سنگھ بادل کی ملکیت ہے۔ اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ بادل نے جب وہ وزیراعلٰی تھے تواقتدار اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے خاندان کی حکومت کو پروان چڑھایا۔ ثبوت کے طور پر تصویر کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ بادل کی ملکیت میں ساڑھے چار سو کروڑ روپے مالیت کا ایک شاندار اوربٹ نامی ہوٹل ہے جو گڑگاؤں (ہریانہ) میں واقع ہے۔ دوسری تصویر میں سات سو اکیاسی کنال پر پھیلا ایک فارم ہاؤس دکھایا گیا ہے جسے بادل کی ملکیت بتایا گیا ہے۔ ایک اور اشتہار میں چندی گڑھ کے سیکٹر نائن میں پانچ کروڑ مالیت کے ایک بڑے بنگلہ کی ملکیت بتایا گیا ہے۔ اسی طرح اور اشتہاروں میں پرکاش سنگھ بادل کی بہت سی جائداد کی تفصیل دی گئی ہے۔ اسی طرح کے ایک اور اشتہار میں پرکاش سنگھ بادل کی تصویر کے ساتھ بہت بُرے الفاظ لکھے گۓ ہیں اور اس کے بعد پرکاش بادل کی جائداد کی تفصیل دے کر کہا گیا ہے ’یہ دل مانگے اور‘۔ پرکاش سنگھ بادل کو بدعنوانی کے الزام میں مقدمے بھی درج ہیں اور ان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے اور مقدمے ابھی زیر تفتیش ہیں۔ اکالی دل کے قائد بادل کے خلاف جو اشتہار اخباروں میں تواتر سے آرہے ہیں ان کے جواب میں ان الزامات کی وضاحت کے طور پر کچھ سامنے نہیں آرہا البتہ کانگریس کے وزیراعلیٰ اور ریاست پٹیالہ کے حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے امریندر سنگھ ، جنھیں عام طور پنجاب میں کیپٹن کہا جاتا ہے (وہ فوج میں کیپٹن تھے) ، پر خاصے ذاتی قسم کے حملے کیے جارہے ہیں۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف جو اشتہار اخباروں میں آرہے ہیں ان میں انکی حکومت کو ’عیش کیش سرکار‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔ ایک اور اشتہار میں دوسرے الزامات کے ساتھ یہ تک بندی بھی کی گئی ہے کہ ’امریندر دا راج آیا پنجاب دا بھٹا بٹھایا۔‘ کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف اشتہاروں میں ان پر بینک کے قرضوں کے نادہندہ ہوئے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ اکالی دل کانگریس کے وزیراعلی پر صوبہ میں خراب حکمرانی کا الزام بھی لگا رہی ہے۔ ایک اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ’ٹوٹی ہوئی سڑکیں ، لوڈشیڈنگ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ، چونگی کا نفاذ، ریفائنری بند، کچھ کام نہیں ہورہا۔ تم نے صرف عوام کی مصیبتوں میں اضافہ کیا ہے۔ کام نہ کرنا تمہارا نام ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||