BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 May, 2004, 08:12 GMT 13:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’روز روز ٹائم کون خراب کرے‘

کانگرس کا جھنڈا
بھارتی ووٹر صرف الیکشن سنمبل کو دیکھ کر ووٹ ڈالیں گے
ایک بوڑھی سی عورت چندی گڑھ کے سیکٹر پچیس کی کچی بستی میں ایک سائکل پر آگ جلانے کی لکڑی لادے اسے گھسیٹتی نظر آئی تو میں نے اس سے پوچھا چناؤ میں ووٹ ڈالوگی تو کہنے لگی: ڈالوں گی۔ کسے؟ سونیا جی کو۔ کیوں؟ ہم تو اسے ہی ڈالتے آئے ہیں۔ امیدوار کا نام معلوم ہے؟ منے نہیں پتا نہیں۔ پنجہ (کانگریس کا نشان) دیکھ کر ڈالوں گی۔ کون سے الیکشن ہورہے ہیں؟ پتا نہیں۔

یہ تو تھی چندی گڑھ کی ایک کچی بستی میں رہنے والی بھوڑی عورت نتھیا کی کہانی لیکن شہر میں بہت سے لوگوں کی کہانی اس سے ملتی جلتی ہے۔

چندی گڑھ کی لوک سبھا کے لیے ایک ہی نشست ہے جو کسی صوبہ کا حصہ نہیں بلکہ مرکز کے ماتحت ہے۔ اس کے لیے عام انتخابات کے چوتھے مرحلہ میں دس مئی کو ووٹنگ ہوگی۔

چندی گڑھ میں انتخابات کا خاص جوش و خروش نہیں ہے گو اتوار کے روز کانگریس کی صدر سونیا گاندھی یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرکے گئی ہیں اور ا س میں بھی ہجوم زیادہ پرجوش نہیں تھا۔ بہت سے لوگ پنجاب اور ہریانہ سے بسوں اور ٹرکوں میں لاۓ گۓ تھے۔

چندی گڑھ شہر میں، جو اسلام آباد کی طرح ایک نیا بنایاگیا شہر ہے اور بہت کھلا اور صاف ستھرا شہر دکھائی دیتا ہے، بیس سے زیادہ لوگوں سے انتخابات کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان کی اکثریت نے کہا کہ وہ ووٹ دے گی لیکن اکثر کو امیدواروں کے نام معلوم نہیں تھے اور ان میں سے زیادہ تر نے کسی انتحابی ریلی میں شرکت نہیں کی تھی۔

کئی لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ لوک سبھا (قومی اسمبلی) کے الیکشن ہیں یا ودان سبھا (صوبائی اسمبلی) کے۔

زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ وہ اسے ووٹ ڈالیں گے جو اچھا کام کرے گا۔ اکثر لوگ اچھے کام کی تعریف کرتے ہوۓ قومی معاملات سے زیادہ لوگوں اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

مولی جاگراں کے رہنے والے نوجوان راجیش کمار کباڑیہ کا کام کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ اب تک کسی ریلی میں نہیں گۓ ، انھیں کسی امیدوار کا نام معلوم نہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ووٹ اس بنیاد پر ڈالیں گے کہ دیس کو اچھی سرکار ملے۔ ’اب تک کوئی سرکار کامیاب نہیں ہوئی۔ اس آدھار (بنیاد) پر ووٹ ڈالوں گا کہ شائد کوئی سرکار ٹک جاۓ اور دیش کا بھلا ہوجاۓ۔ غریبی ختم ہوگی تو سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا۔‘

وشنو پرجاپتی جو ایک دستکار ہیں اور آرائشی سامان بناتے ہیں کہتے ہیں ووٹ دیتے ہوۓ پارٹی کے قائد کو دیکھیں گے۔ وشنو کہتے ہیں۔ ’بنیاد دیکھی جاتی ہے۔ باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے دیش کو کون سنبھال سکتا ہے۔ آج کے دن تو واجپائی جی ہیں۔ ان سے اچھا لیڈر ہماری نظر میں نہیں ہے۔‘

News image
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد واجپئی کی جماعت کو ووٹ دے گی

سائکل رکشا چلانے والے نوجوان رمیش کمار کشن نگر میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’یہ پکے الیکشن ہورہے ہیں‘۔ انھیں لوک سبھا کا نام معلوم نہیں۔ امیدواروں کے ناموں کا بھی پتا نہیں اور وہ کسی ریلی میں نہیں گۓ۔ وہ ووٹ اسے دیں گے ’جو کام اچھے کرے گا۔‘

متوسط طبقہ کی سوچ مزدور پیشہ لوگوں سے فرق ہے۔ چندی گڑھ کی سیکٹر سترہ کی مارکیٹ میں دکاندار دنیش بیدی کہتے ہیں وہ ضرور ووٹ ڈالیں گے اور بی جے پی کے امیدوار کو دیں گے کیونکہ انھوں نے کراۓ داری کے قانون کو ختم کرانے کا وعدہ کیا ہے۔’رینٹ ایکٹ کے خلاف ووٹ دوں گا۔ اگر یہ لاگو ہوگیا تو ہمارے پاس کیا رہ جاۓ گا۔‘

ایک اور دکاندار سُکھ ویندر سنگھ کہتے ہیں وہ شائد ہی ووٹ ڈالیں کیونکہ ’سب ہی ایک جیسے ہیں۔سب اپنا پیٹ بھرنے میں لگے ہیں پہلے کانگریس تھی۔ پھر بی جے پی آئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کے کام پر ٹیکس بڑھتے جارہے ہیں۔ ’ایکسائز ڈیوٹی بڑھ گئی ہے۔ مال پر چونگی لگتی ہے اور اب سن رہے ہیں کہ ویٹ (سیلز ٹیکس) لگنے جارہا ہے۔‘

چندی گڑھ کے بازار میں دو مسلمان ، پرویز محمد اور اسد علی، بھی ملے ایک دکاندار اور دوسرے کشیدہ کاری کے کاریگر۔ دونوں بھارتی جنتا پارٹی کی طرف مائل نظر آۓ۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ یو پی سے مسلمانوں کی، زیادہ تر کاریگر، ایک اچھی خاصی تعداد روزگار کے لیے پنجاب اور چندی گڑھ نقل مکانی کرکے آرہی ہے۔

سیکٹر اکتالیس کے35 سالہ پرویز احمد نے کہا کہ بی جے پی نے خاصا کام کرایا ہے اور وہ پارٹیوں کا منشور دیکھ کر ووٹ ڈالیں گے گو انھیں ان پارٹیوں کے وعدوں پر خاص اعتبار نہیں۔

سیکٹر سترہ کے اسد علی کا کہنا تھا کہ انھیں امیدواروں کے نام تو معلوم نہیں لیکن وہ بی جے پی کو ووٹ ڈالیں گے کیونکہ ’ان کا تعلق لکھنؤ سے ہے اور واجپئی کا شہر بھی لکھنؤ ہے جہاں انھوں نے شہر میں بہت زیادہ سدھار کیا ہے۔ لائٹیں لگوائی ہیں اور سڑکیں اچھی ہوگئی ہیں۔‘

اسد علی کی خوش امیدی اپنی جگہ لیکن چندی گڑھ میں سیاست سے مایوس اور متنفر لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ کبھی ریاست کی اسمبلی کے لیے الیکشن ہوتے ہیں، کبھی میونسپل کارپوریشن کے لیے اور کبھی لوک سبھا کے۔ لوگ آۓ روز کے انتخابات سے اکتاۓ ہوۓ لگتے ہیں۔

پچیس سیکٹر کا ایک نوجوان مزدور راجو کہتا ہے اسے اپنی روٹی کمانے سے مطلب ہے اس نے پہلے بھی ووٹ نہیں دیا اور اب بھی نہیں ڈالے گا۔ وہ کہتا ہے۔ ’دل نہیں کرتا۔ روز روز ٹائم کون خراب کرے۔ ہر روز کا کام بنا رکھا ہے انھوں نے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد