BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 May, 2004, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاست بچوں کا کھیل نہیں: واجپئی

News image
ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے اگلے روز لکھنؤ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ سیاست بچوں کا کھیل نہیں۔

واجپائی سابق وزیراعظم کے چونتیس سالہ بیٹے راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی کی طرف اشارہ کررہے تھے جو پہلی بار بڑے پیمانے پر کانگریس کی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔

راہول اور پریانکا کی انتخابی مہم میں شرکت نے لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی میں ایک نئی جان ڈال دی ہے اور اب اندازہ لگایا جارہا ہے کہ کانگریس کو ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ نشتسوں پر کامیابی ملنے کا امکان ہے۔

راہول گاندھی یو پی میں امیٹھی سے اپنے والد کی روایتی نشست سے امیدوار ہیں جہاں چھبیس اپریل کو پولنگ ہوچکی ہے جبکہ پریانکا خود تو انتخاب نہیں لڑ رہیں لیکن انھوں نے اپنے بھائی کے حلقے میں انتحابی مہم چلائی اور اپنی والدہ سونیا گاندھی کا راۓ بریلی کا حلقہ سنبھالا۔ یہاں بھی دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جاچکے ہیں۔

پریانکا کے شوہر رابرٹ ودرا بھی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ وہ راہول گاندھی کی گاڑی بھی چلاتے ہیں اور ان کے لیے پر جوش نعرے بھی لگواتے ہیں۔ ان کا ایک نعرہ خاصا مقبول ہوا۔ وہ ہجوم سے کہتے ’میرے آگے بولو راہول گاندھی زندہ باد۔ میرے پیچھے بولو راہول گاندھی زندہ باد۔‘

یوپی میں راہول اور پریانکا کی وجہ سے جو ہجوم کانگریس کے جلسوں میں امڈے تو وہ دوسرے حلقوں میں بھی اپنی پارٹی کے امیدواروں کی مہم چلانے کے لیے گۓ۔

کہا جاتا ہےکہ یو پی میں مسلمان اور نیچی ذات سمجھے جانے والے دلت کانگریس سے نالاں ہیں جن کی پارٹی سے دوری کی وجہ سے اسے گزشتہ انتخابات میں دو نشستیں ملیں تھیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے یہ دونوں طبقے مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی اور ملایم سنگھ یادیو کی سماج وادی پارٹی کو ووٹ دیتے آۓ ہیں۔

اس بار راہول اور پریانکا کی جو پذیرائی ہوئی اسے دیکھ کر کانگریس کے بہت سے لوگوں کو یوں لگا کہ شائد کانگریس نے گاندھی اور نہرو خاندان کے ان دونوں بچوں کو میدان میں اتارنے میں کچھ دیر کردی۔

انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے لیے راہول اور پریانکا یو پی کے دوسرے علاقوں ، راجھستان اور جنوب میں ، جہاں پانچ اور دس مئی کو انتخابات ہونے ہیں ، کانگریس کی انتخابی مہم کے لیے جائیں گے۔

راہول اور پریانکا کی یو پی میں جو مقبولیت دیکھنے میں آئی اس کے بارے میں لوگو ں کا خیال ہے کہ یہ دونوں راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی سے مشابہ ہیں اور ان کی یاد تازہ کردیتے ہیں۔

جواہر لال نہر یونیورسٹی میں ماہر سیاسیات پروفیسر اوما سنگھ کہتی ہیں۔ ’پریانکا میں ایک کشش ہے۔ ایک عام ہندوستانی ان میں اندرا گاندھی کی جھلک دیکھتا ہے۔ ان میں عام لوگوں کے ساتھ خود کو جوڑنے کی ایک خاصیت ہے۔ وہ راۓ بریلی میں لوگوں کے کچن میں چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح راہول کو راجیو گاندھی کی چھاپ مانا جاتا ہے۔‘

پروفسر اوما سنگھ کا کہنا ہے کہ خاندانی سیاست کا جنوبی ایشیا میں بڑا کردار رہا ہے۔ عام ہندوستانی جذباتی ہے اور اندرا گاندھی اور راجیو کے قتل سے اس کے دل میں ان کے لیے ہمدردی آتی ہے۔

اوما سنگھ کہتی ہیں کہ راہول اور پریانکا کا میدان میں آنا انگریس کے لیے اہم تھا کیونکہ سونیا گاندھی کے غیرملکی نژاد ہونے پر ہندوستان میں بڑے سوال اٹھے ہیں۔ اب ان دونوں کا آنا سونیا کے لیے ایک بڑا سیاسی فائدہ ہوا ہے۔

ایک اور سیاسی تجزیہ نگار اور جواہر لال یونیورسٹی دلی کے سابق پروفیسر کلیم بہادر ایک اور رخ سے اس معاملہ کو دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نہرو خاندان کا جدوجہد آزادی اور ہندوستان کی تعمیر میں جو حصہ ہے وہ لوگوں کو یاد ہے اور اسے کانگریس نے نہرو کی نواسی پریانکا اور نواسے راہول کے ذریعے انتخابات میں استعمال کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کو بی جے پی کے مقابلے میں انتخابات میں زیادہ زور لگانا پڑے گا کیونکہ کانگریس کی تنظیم ہندوستان کے کئی حصوں میں ختم ہوچکی ہے۔ ان کمزوریوں کو دیکھتے ہوۓ کانگریس نے دیکھا کہ نہرو خاندان کا جو فائدہ ہے اگر اسے استعمال کیا جاۓ تو کچھ حد تک وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرسکتی ہے۔

تاہم پروفیسر کلیم بہادر کا خیال ہے کہ راہول اور پریانکا کے سامنے آنے سے کانگریس کو کچھ فائدہ تو ہوگا لیکن اتنا فائدہ نہیں ہوگا کہ وہ بی جے پی سے زیادہ نشتیں لے سکے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد