دِلّی کی پارلیمانی نشِستیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی دارالحکومت دِلّی میں لوک سبھا کی کل سات نشستیں ہیں جِنکی اپنی منفرد خصوصیات ہیں۔ ان نشِستوں پر دس مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے جِن کے لیۓ فی الوقت شدید انتخابی مہم جاری ہے۔ پورے ملک میں جہاں ’انڈیا شائننگ‘، ’فِیل گُڈ فیکٹر‘ اور ’واجپئی کا کرشمہ‘ وغیرہ جیسے نعرے گونج رہے ہیں تو وہیں دِلّی کے کچھ اپنے مسائل بھی ہیں۔ گزشتہ اِنتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے دِلی کی ساتوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار حالات کچھ پیچیدہ نظر آرہے ہیں جس کی بناء پر ماضی کے کارنامے کو دہرنا اس کے لیۓ ذرا مشکل امر ہوگا ۔ تاریخی دِلّی اس حلقے کی عجیب بات یہ ہے کہ جہاں دوسرے علاقوں میں رائے دہندگان کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں چاندنی چوک میں اسکا تناسب گھٹا ہے جہاں تقریباً تیس فیصدمسلم ووٹر ہیں۔
جب بھی اس حلقے میں دو رُخی مقابلہ ہوا ہے کانگریس کو کامیابی ملی ہے جب کہ سہ فریقی مقابلے میں بی جے پی نے بازی ماری ہے۔ اس بار جنتا دل کے امیدوار شعیب اقبال میدان میں نہیں ہیں اس لیۓ سیدھا مقابلہ کپل سبل اور اسمرتی ایرانی کے درمیان ہے۔ اس بار شعیب اقبال کے کانگریس کے حق میں دستبردار ہو جانے کے سبب کپل سبل کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دوسری جانب اسمرتی ایرانی اگرچہ پہلی بار انتخابات لڑرہی ہیں لیکن انہیں ایک مشہور اداکارہ ہونے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی کے ساتھ بی جے پی کی حمایت تو ہے ہی خواتین کی بھی کثیر تعداد انکے ساتھ دیکھی جارہی ہے۔ اسی علاقے میں جامع مسجد کے امام احمد بخاری نے بھی بی جے پی کی حمایت کا اعلان کیاہے ۔ مشرقی دِلّی
اس بار بھی بی جے پی نے اپنے موجودہ رکن پارلیمان لعل بہاری تیواری ہی کو اس سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے جبکہ کانگریس کے امیدوار دِلّی کی وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت ہیں۔ انیس سو اٹھانوے میں شیلا دیکشت اس حلقے سے انتخاب ہار گئیں تھیں۔ مشرقی دِلّی کا علاقہ دِلّی کے دیگر علاقوں کی نِسبت کم ترقی یافتہ ہے۔ پانی، بجلی،سڑک کے علاوہ بھی کئی مقامی مسائل اس علاقے میں انتخابات کا موضوع ہیں۔ علاقے کے لوگوں کو وزیراعلیٰ کے بیٹے ہونے کے سبب سندیپ دکشت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ باہری دِلّی اس نشست پر بھی مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار وہاں سے موجودہ رکن پارلیمان اور وفاقی وزیر صاحب سنگھ ورما ہیں جبکہ کانگریس نے دس سال کے وقفے کے بعد اپنے پرانے امیدوار سجن کمار کو میدان میں اتارا ہے۔ انتخابات میں یہاں بجلی، پانی سڑک جیسے روزمرّہ کے مسائل اہم موضوع ہیں۔ صاحب سنگھ ورما سے علاقے کے لوگوں کو کافی شکایات ہیں لیکن کانگریس امیدوار سجن کمار کی شخصیت انیس سو چوراسی کے سِکھ مخالف فرقہ وارانہ فسادات کے سبب داغدار مانی جاتی ہے۔ مقامی اخبارات اپنے جائزوں میں کانگریس کی پوزیشن کو بہتر بتارہے ہیں۔ یہاں تشدد کے واقعات کا خدشہ بھی ہے۔ نئی دِلّی اس سیٹ سے موجودہ رکن پارلیمان مرکزی وزیر سیاحت و ثقافت جگموہن بی جے پی کے امیدوار ہیں جبکہ کانگریس نے ریاستی حکومت کے وزیر اجے ماکن کو میدان میں اتارا ہے۔
اس سیٹ کے زیادہ تر رائے دہندگان تعلیم یافتہ ہیں اور مقامی اخبارات کی خبروں کے مطابق اجے ماکن کو نوجوان لیڈر ہونے کی وجہ سے جگموہن پر سبقت حاصل ہے لیکن عام طور پر سرکاری ملازمین کا جھکاؤ روایتی طور پر بی جے پی کیطرف زیادہ ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اِس حلقے میں اس امیدوار کے کامیابی امکانات زیادہ ہیں جو اپنے رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے پر زیادہ سے زیادہ راغب کرسکے۔ جنوبی دِلّی گزشتہ انتخابات میں اس حلقے سے بی جے پی کے ترجمان وجیۓ کمار ملہوترا نے کانگریس کے سینرء رہنما منموہن سنگھ کو شکست دی تھی۔ اس بار ملہوترا کے خلاف کانگریس نے مشہور وکیل آر کے آنند کو میدان میں اتارا ہے جو راجیہ سبھا میں کانگریس کے رکن ہیں۔ مسٹر ملہوترا اس علاقے میں جانا پہچانا چہرا ہیں جو ان کے لیۓ فائدے مندثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ آنند ایک مشہور وکیل ضرور ہیں لیکن اس علاقے کے عوام سے ان کا رابطہ کم ہی ہے جسکا انہیں نقصان ہو سکتا ہے۔ قرول باغ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس حلقے سے انیتا آریہ کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے تو گانگریس نے دِلّی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کرشنا تیرتھ کو کھڑا کیا ہے۔ کرِشنا اس علاقے سے تین بار رکن اسمبلی رہ چکی ہیں تو انیتا نے وہاں سے گزشتہ بار لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اس سیٹ پر بھی سیدھا مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ دِلّی صدر انیس سو ننانوے میں بی جے پی کے لیڈر مدن لعل کھورانہ نے صدر سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ٹاٹلر نے انیس سو اکانوے میں اس حلقے سے انتخاب جیتا تھا۔ وجيےء گویل اور ٹاٹلر ایک دوسرے کے سخت حریف مانے جاتے ہیں اس حیثیت سے دونوں کے درمیان مقابلہ دلچسپی سے پُر ہونے کی توقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||