BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 May, 2004, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دِلّی کی پارلیمانی نشِستیں

سمرتا ایرانی
بی جے پی کی امیدوار سمرتا ایرانی
ہندوستان کی دارالحکومت دِلّی میں لوک سبھا کی کل سات نشستیں ہیں جِنکی اپنی منفرد خصوصیات ہیں۔

ان نشِستوں پر دس مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے جِن کے لیۓ فی الوقت شدید انتخابی مہم جاری ہے۔

پورے ملک میں جہاں ’انڈیا شائننگ‘، ’فِیل گُڈ فیکٹر‘ اور ’واجپئی کا کرشمہ‘ وغیرہ جیسے نعرے گونج رہے ہیں تو وہیں دِلّی کے کچھ اپنے مسائل بھی ہیں۔

گزشتہ اِنتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے دِلی کی ساتوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار حالات کچھ پیچیدہ نظر آرہے ہیں جس کی بناء پر ماضی کے کارنامے کو دہرنا اس کے لیۓ ذرا مشکل امر ہوگا ۔

تاریخی دِلّی
چاندنی چوک، جامع مسجد، بلی ماران ،مٹیامحل، کھاری باؤلی اور چتلی قبر جیسی تاریخی گلیوں و حویلیوں سے معمور چاندنی چوک کا علاقہ جغرافیائی اعتبار سے ملک کی سب سے چھوٹی پارلیمانی نشست ہے لیکن سیاسی اعتبار سے بے حد حساس ہے۔

اس حلقے کی عجیب بات یہ ہے کہ جہاں دوسرے علاقوں میں رائے دہندگان کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں چاندنی چوک میں اسکا تناسب گھٹا ہے جہاں تقریباً تیس فیصدمسلم ووٹر ہیں۔

News image
دِلّی کی جامعہ مسجد
اس بار کے انتخابات میں اس علاقے سے دو مشہور ہستیاں میدان میں ہیں۔ کانگریس نے اپنے ترجمان کپل سبل کو بی جے پی کی امیدوار اسمرتی ایرانی کے خلاف میدان میں اتارا ہے جو ٹی وی کی مشہور اداکارہ ہیں۔

جب بھی اس حلقے میں دو رُخی مقابلہ ہوا ہے کانگریس کو کامیابی ملی ہے جب کہ سہ فریقی مقابلے میں بی جے پی نے بازی ماری ہے۔

اس بار جنتا دل کے امیدوار شعیب اقبال میدان میں نہیں ہیں اس لیۓ سیدھا مقابلہ کپل سبل اور اسمرتی ایرانی کے درمیان ہے۔

اس بار شعیب اقبال کے کانگریس کے حق میں دستبردار ہو جانے کے سبب کپل سبل کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دوسری جانب اسمرتی ایرانی اگرچہ پہلی بار انتخابات لڑرہی ہیں لیکن انہیں ایک مشہور اداکارہ ہونے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

ایرانی کے ساتھ بی جے پی کی حمایت تو ہے ہی خواتین کی بھی کثیر تعداد انکے ساتھ دیکھی جارہی ہے۔ اسی علاقے میں جامع مسجد کے امام احمد بخاری نے بھی بی جے پی کی حمایت کا اعلان کیاہے ۔

مشرقی دِلّی
مشرقی دِلّی ملک کا دوسرا سب سے بڑا پارلیمانی حلقہ انتخاب ہے جہاں تقریباً ستائیس لاکھ رائے دہندگان ہیں۔

دِلّی میں کانگریس کی مہم
دِلّی میں کانگریس کی مہم
کسی زمانے میں یہ حلقہ کانگریس لیڈر ایچ کے ایل بھگت کا گڑھ مانا جاتا تھا لیکن انیس سو اکانوے کی ’رام لہر‘ کے بعد سے اس سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ مشرقی دلی میں پانچ لاکھ سے زائد مسلم ووٹرز ہیں۔

اس بار بھی بی جے پی نے اپنے موجودہ رکن پارلیمان لعل بہاری تیواری ہی کو اس سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے جبکہ کانگریس کے امیدوار دِلّی کی وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت ہیں۔

انیس سو اٹھانوے میں شیلا دیکشت اس حلقے سے انتخاب ہار گئیں تھیں۔

مشرقی دِلّی کا علاقہ دِلّی کے دیگر علاقوں کی نِسبت کم ترقی یافتہ ہے۔ پانی، بجلی،سڑک کے علاوہ بھی کئی مقامی مسائل اس علاقے میں انتخابات کا موضوع ہیں۔

علاقے کے لوگوں کو وزیراعلیٰ کے بیٹے ہونے کے سبب سندیپ دکشت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

باہری دِلّی
باہری دِلّی ملک کا سب سے بڑا پارلیمانی حلقہ انتخاب ہےجہاں رائے دہندگان کی تعداد پینتیس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

اس نشست پر بھی مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار وہاں سے موجودہ رکن پارلیمان اور وفاقی وزیر صاحب سنگھ ورما ہیں جبکہ کانگریس نے دس سال کے وقفے کے بعد اپنے پرانے امیدوار سجن کمار کو میدان میں اتارا ہے۔

انتخابات میں یہاں بجلی، پانی سڑک جیسے روزمرّہ کے مسائل اہم موضوع ہیں۔ صاحب سنگھ ورما سے علاقے کے لوگوں کو کافی شکایات ہیں لیکن کانگریس امیدوار سجن کمار کی شخصیت انیس سو چوراسی کے سِکھ مخالف فرقہ وارانہ فسادات کے سبب داغدار مانی جاتی ہے۔

مقامی اخبارات اپنے جائزوں میں کانگریس کی پوزیشن کو بہتر بتارہے ہیں۔ یہاں تشدد کے واقعات کا خدشہ بھی ہے۔

نئی دِلّی
نئی دِلّی کے حلقۂ انتخاب میں سب سے زیادہ مرکزی حکومت کے ملازمین بستے ہیں۔ اس حلقے میں رائے دہندگان کی کُل تعداد تقریباً ساڑھے چار لاکھ سے کچھ زیادہ ہے جس میں سے تین لاکھ وفاقی حکومت کے ملازم ہیں۔

اس سیٹ سے موجودہ رکن پارلیمان مرکزی وزیر سیاحت و ثقافت جگموہن بی جے پی کے امیدوار ہیں جبکہ کانگریس نے ریاستی حکومت کے وزیر اجے ماکن کو میدان میں اتارا ہے۔

بھارتیہ پارلیمان
بھارتیہ پارلیمان
دونوں ہی امیدوار پنجابی ہیں جگموہن عمردراز تو ماکن نوجوان لیڈر ہیں۔

اس سیٹ کے زیادہ تر رائے دہندگان تعلیم یافتہ ہیں اور مقامی اخبارات کی خبروں کے مطابق اجے ماکن کو نوجوان لیڈر ہونے کی وجہ سے جگموہن پر سبقت حاصل ہے لیکن عام طور پر سرکاری ملازمین کا جھکاؤ روایتی طور پر بی جے پی کیطرف زیادہ ہے۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اِس حلقے میں اس امیدوار کے کامیابی امکانات زیادہ ہیں جو اپنے رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے پر زیادہ سے زیادہ راغب کرسکے۔

جنوبی دِلّی
جنوبی دِلّی دارالحکومت دِلّی کا سب سے ماڈرن علاقہ تصور کیاجاتا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں اس حلقے سے بی جے پی کے ترجمان وجیۓ کمار ملہوترا نے کانگریس کے سینرء رہنما منموہن سنگھ کو شکست دی تھی۔ اس بار ملہوترا کے خلاف کانگریس نے مشہور وکیل آر کے آنند کو میدان میں اتارا ہے جو راجیہ سبھا میں کانگریس کے رکن ہیں۔

مسٹر ملہوترا اس علاقے میں جانا پہچانا چہرا ہیں جو ان کے لیۓ فائدے مندثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ آنند ایک مشہور وکیل ضرور ہیں لیکن اس علاقے کے عوام سے ان کا رابطہ کم ہی ہے جسکا انہیں نقصان ہو سکتا ہے۔

قرول باغ
قرول باغ دِلّی کی وہ سیٹ ہے جو دلتوں کے لیۓ محفوظ ہے۔ یہاں سے اس بار دو خواتین میدان میں ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس حلقے سے انیتا آریہ کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے تو گانگریس نے دِلّی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کرشنا تیرتھ کو کھڑا کیا ہے۔

کرِشنا اس علاقے سے تین بار رکن اسمبلی رہ چکی ہیں تو انیتا نے وہاں سے گزشتہ بار لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اس سیٹ پر بھی سیدھا مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔

دِلّی صدر
دِلّی صدر کا علاقہ دارلحکومت میں تجارتی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حلقے میں تجارتی طبقے کا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ وفاقی وزیر وجیۓ گویل اس بار چاندنی چوک کی بجائے صدر کے حلقے سے بی جے پی کے امیدوار ہیں جبکہ کانگریس نےاپنے پرانے امیدوار جگدیش ٹاٹلر کو ٹکٹ دیا ہے ۔

انیس سو ننانوے میں بی جے پی کے لیڈر مدن لعل کھورانہ نے صدر سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ٹاٹلر نے انیس سو اکانوے میں اس حلقے سے انتخاب جیتا تھا۔

وجيےء گویل اور ٹاٹلر ایک دوسرے کے سخت حریف مانے جاتے ہیں اس حیثیت سے دونوں کے درمیان مقابلہ دلچسپی سے پُر ہونے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد