اف یہ گرمی، اف یہ سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے پہلے بھی بھارت میں انتخابات کی سیاسی سرگرمیاں دیکھیں ہیں اور جب گرمیوں میں انتخابات ہورہے ہوں تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دگنی گرمی میں ووٹروں کا کیا حال ہوسکتا ہے۔ سیاست کی طرح یہاں کی گرمی بھی بہت ظالم ہے جس کی زد میں ہمیشہ بےچارہ ووٹر ہی رہتا ہے۔ آج بھی سیاست دان انہیں اپنی طرح مائل کرنے کے لئے بڑے اور سہانے خواب دکھارہے ہیں۔ سیاست دان وہی ہیں۔ وہ نہیں تو ان کی بیٹیاں، بیٹے یا بیویاں ہیں۔ درجنوں سرکردہ سیاست دانوں نے سیاست کو اپنے گھر میں رکھنے کو ہی ترجیح دی ہے۔ ان میں سے بیشتر سن سینتالیس میں بچے کھچے تقریباً پانچ سو پینسٹھ راجوں مہاراجوں کے جانشیں رہ چکے تھے اور اپنی ساکھ بچانے کے لئے آنکھ بند کرکے الحاق بھارت کے دستاویز پر دستخط کرکے ماہانہ وظیفے کی ضمانت حاصل کی۔
لیکن آج ایک تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ ووٹر بہت بدل گیا ہے، جیسے اس نے پہلی بار بولنا سیکھا ہے۔ سیاست دان پہلے انہیں بہتر زندگی اور بہتر معیشت کا خواب دکھایا کرتے جسے وہ سچ سمجھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا، بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے اور خوشگوار زندگی کے خواب پالنے لگتا۔ ووٹر ان ہی خوابوں کے سہارے زندگی کی اذیتوں کو سہتا، اس امید پر کہ آنے والا دن خوبصورت ہوگا۔۔۔ غریب غریب تر ہوگیا اور ووٹر کو بہلا پھسلاکر بے وقوف بنایا جاتا رہا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||