انتخابات: عوام اور خاندان تقسیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے انتخابات نے ملک کو محض سیاسی خطوں پر تقسیم نہیں کیا بلکہ اقتدار کی اس جنگ نے بہت سے خاندانوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش میں گوالیار کے سندھیا خاندان سےوجیا راجے سندھیا بی جے پی میں تھیں تو ان کے بیٹے آنجہانی مادھوراؤ سندھیا کانگریس کے سرکردہ لیڈر تھے۔ مادھوراؤ سندھیا کے ایک حادثے میں انتقال کے بعد ان کے بیٹے جیوتی رادتیہ سندھیا اب موروثی طور پر کانگریس میں ہیں تو وجیہ راجے سندھیا کی بیٹی وسندھرا راجے سندھیا راجستھان میں بی جے پی کی وزیر اعلٰی ہیں۔ سابق وزیراعظم لعل بہادر شاستری کےا یک بیٹے سنیل شاستری کانگریس میں ہیں تو دوسرے بیٹے انیل شاستری بی جے پی میں ہیں۔ دوسری طرف کانگریس کے اہم ترجمان ابھیشیک سنگھوی کے والد ایل ایم سنگھوی بی جے پی کے رکن پارلیمان ہیں۔ کانگریس کے سرکردہ رہنما شیاما چرن شکلا کے بھائی وی سی شکلا کبھی کانگریس میں ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ بی جے پی سے قریب تر ہیں۔ دیکھا جائے تو ان مذکورہ افراد کے درمیان نظریاتی اختلافات ہیں جس کے سبب وہ دو خیموں میں تقسیم ہو گئے ہیں لیکن کچھ خاندان ایسے ہیں جو انتخابات کی لڑائی میں اپنوں ہی کے خلاف تال ٹھوک کر میدان میں کھڑے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلٰی دگ وجے سنگھ کے بھائی لکشمن سنگھ راج گڑھ حلقہ انتخاب سے بی جے پی کےامیدوار ہیں جو اپنے بھائی دگ وجے کے لیے درد سر بن چکے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد اپنے بھائی کی بی جے پی میں شمولیت سے دگ وجے کو پارٹی کے اندر اور باہر دونوں ہی طرف سے کافی حزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ شمالی ریاست اتر پردیش میں آنجہانی کلپناتھ رائے کی بیوہ سدھا کانگریس کے ٹکٹ پر گھوسی پارلیمانی حلقہ انتخاب سے اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں لیکن ان کے بیٹے سدھارتھ راشٹریہ جنتادل کے امیدوار کی حیثیت سے اپنی ماں کے خلاف میدان میں ہیں۔ دونوں ہی انتخابی مہم کے دوران اپنے آپ کو کلپناتھ رائے کا اصل وارث ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔ ریاست اڑیسہ میں کوراپٹ پارلیمانی سیٹ، سابق وزیراعلٰی گردھر گومانگ اور ان کی بیوی ہیما کے درمیان شدید تنازعہ کا باعث بن گئی تھی۔ حالات اتنے زیادہ ابتر ہو گئے تھے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق تک نوبت آگئی تھی لیکن بعد میں خود ہیما اس سیٹ سے دستبردار ہو گئیں جہاں سے اب گومانگ کانگریس کے امیدوار ہیں۔ کانگریس کا گاندھی خاندان بھی ان انتخابات میں پوری طرح سے دو خانوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف جہاں کانگریس کی صدر سونیا کے صاحبزادے راہل گاندھی کانگریس کے ٹکٹ پر امیٹھی کے حلقہ انتخاب سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کر رہے ہیں تو دوسری طرف انھیں کے چچازاد بھائی ورن گاندھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے زور و شور سے انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ جنوبی ریا ست کرناٹک میں بھی باپ بیٹے آمنے سامنے ہیں۔ سینیئر کانگریسی رہنما ایس بنگا رپا نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے لیکن ان کے بیٹے کمار بنگا رپا نے کانگریس کا دامن نہیں چھوڑا ہے جو اپنے والد کے حلقہ انتخاب میں انھیں کے خلاف کانگریس کی مہم چلا رہے ہیں۔ کمار نے اپنے خاندان کی تقسیم کے لیے بی جے پی پر الزام بھی عائد کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ بڑے بزرگوں کی باتوں کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور ان کی پاسداری کی جاتی تھی لیکن وقت کے ساتھ معاشرے کی قدریں بدل گئی ہیں بلکہ یوں کہیں کہ جمہوری نظام میں انتخابی عمل نے سبھی کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس طرح کے معاملات میں نظریات سے کہیں زیادہ ذاتی مفادات اور سیاسی موقع پرستی کار فرما ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||