والد کا مشن پورا کروں گا:راہل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی ریاست اتر پردیش میں امیٹھی سے اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کرنے کرنے والے راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ انتخابات جیتنے کے بعد ان کی پہلی ترجیح لوگوں کی توقعات پورا کرنے کی ہوگی۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں راہول نے کہا کہ ان کے والد آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے امیٹھی میں جو فلاحی کام شروع کیا تھا وہ اسے انتخابات جیتنے کے بعد پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اپنی والدہ اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی پر حزب اختلاف کی جانب سے ہونے والی ذاتی تنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ یہ بی جے پی کے پاس انتخابی موضوع کے فقدان کی عکاس ہے۔ ’بی جے پی بھلے ہی فِیل گڈ یا انڈیا شائننگ کی بات کرے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی موضوع نہیں بچا ہے جس سے وہ رائے دہندگان کو اپنی جانب مائل کر سکے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو محبت و دوستی کا پیغام دیتے ہیں۔ راہول کے مطابق ایک جمہوری ملک میں کسی کو کچھ بھی بولنے کا حق حاصل ہے۔
واضح رہے کہ اس انتخابات میں بی جے پی نے رائے دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ سونیا گاندھی کی پارٹی کو اس بنیاد پر ووٹ نہ دیں کہ بقول بی جے پی وہ ایک غیر ملکی خاتون ہیں۔ اطالوی نژاد سونیا راجیو گاندھی سے شادی کے بعد ہندوستان منتقل ہو گئیں تھیں اور اس وقت سے وہ ہندوستانی شہری ہیں۔ راہول اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ انہیں راجیو اور سونیا گاندھی کے بیٹے ہونے کے ناتے سیاست میں آنے کا موقع ملا۔ ’گاندھی خاندان سے میرا تعلق میرے لئے فائدہ مند اور نقصاندہ دونوں ہی ہے۔ فائدہ اس وجہ سے کہ مجھے اپنے خاندان کی وجہ سے پہچان بڑی آسانی سے مل گئی اور نقصان اس صورت میں کہ لوگ مجھ پر خاندانی اقتدار کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔ ’کسی نے مجھ سے کہا کہ میرے والد کی موت میرے لئے ایک نا قابل تلافی نقصان تھا۔ یہ صحیح ہے لیکن اگر میرے والد کی موت نہ ہوئی ہوتی تو میری اور میری بہن پرینکا (گاندھی) کی شخصیت آج الگ ہوتی۔ آج میں میری بہن بے حد مضبوط کردار کے مالک ہیں تو اس کی ایک وجہ میرے والد کی موت تھی کیونکہ اس کی وجہ سے ہمیں ایک انتہائی مشکل دور سے گزرنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘ قدرے شرمیلے مزاج کے راہول ان دنوں امیٹھی میں جہاں بھی جاتے ہیں لوگوں کا جم غفیر انہیں دیکھنے کے لئے امڈ پڑتا ہے۔
راہول اس سال کے انتخابات میں امیٹھی سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ راہول اپنے خالی اوقات میں کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بقول ان کے وہ ان دنوں افغانستان پر کئی کتابوں کا بیک وقت مطالعہ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||