گاندھی اور گیس سٹیشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ عرصہ قبل جب سینیٹر ہلیری کلنٹن نے مذاقاً یہ کہا تھا کہ گاندھی نے بھی امریکہ میں گیس سٹیشن چلایا تھا تو اُس پر اتنی لےدے ہوئی تھی کہ ہلیری کلنٹن کو اپنے الفاظ واپس لینا پڑے تھے۔ گویا امریکہ میں گیس سٹیشن چلانا گاندھی جی کے لئے کوئی گالی تھی۔ گاندھی جو امریکہ میں اپنے عدم تشدد کے نظریات کی وجہ سے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے بھی زیادہ تکریم و تعظیم سے دیکھے جاتے ہے۔ لیکن قطع نظر اس کے، پاکستان اور انڈیا کے باربروں کی دکانوں، چائے خانوں اور پان سگریٹ کے کیبنوں کی طرح امریکہ میں نکڑ کے شراب خانے کے بعد اگر کوئی ایک طرح کا ’سوشل انسٹیٹیوشن‘ ہے، تو وہ ہے گیس سٹیشن اور گراسیری سٹور جہاں آپ کا واسطہ روزمرہ کی امریکی زندگی اور سوچ سے پڑتا ہے۔ وہ بھی وقت تھا جب امریکہ میں بھولا ہوا اپنی منزلِ مراد کا پتہ گیس سٹیشن سے پوچھا کرتا تھا۔ امریکی لوک شاعری اور کنٹری گیتوں میں گیس سٹیشن بھی موضوع بنا رہا ہے۔ ’پیار کے گیس سیٹشن پر مجھے سیلف سروس پمپ ملا‘ ایک امریکی کنٹری گیت کی سطر ہے۔ گیس سیٹشن پر گاڑیاں بھرتے، جُڑتے ٹوٹتے دل۔ ملتے بچھڑتے، لڑتے بھڑتے، روتے، ہنستے لوگ۔ میں نے پیسیفک سمندر کے اُس پار جنوبی کیلیفورنیا کے اس خوابیدہ وادیوں، پُرشور ساحلوں اور خاموش صحراؤں والی سان ڈیاگو کاؤنٹی کے شہر لامیسا میں گیس سٹیشن پر کام کے کئی دنوں میں سے ایک دن امریکی زندگی کو قریب سے دیکھا اور اُس کی باتیں سُنیں۔ میں سُپر باؤ میں بارتھ کیرولینا سے کھیلنے والی ٹیم پینتھرز کا طرف دار ہوں کیونکہ وہ پچھاڑے ہوئے یا ’انڈر ڈاگز‘ ہیں۔ گیس سٹیشن میں صبح کو داخل ہونے والے پہلے شخص نے مجھ سے کہا۔ ’یہاں بھی مولوی آ گئے‘، میرے ایک دوست منصور شاہ نے مجھ سے گزشتہ انتخابات کے ابتدائیوں میں جیت کر آنے والے ریپبلکنز کے بارے میں کہا تھا۔ گیس سٹیشن کی دوکان پر آنے والی سیاہ فام بچی کے پاس مونگ پھلی خریدنے کے لئے پچاس سینٹ نہیں اور وہ مونگ پھلی کی تھیلی واپس رکھ دیتی ہے۔ وہ ہر خریدی چیز کی رسید طلب کرتا ہے اور واپس آنے والی ریزگاری خالی کنڈوم میں رکھتا ہے اور کافی کا بھرا ہوا کپ بھی سوٹ کیس میں بند کرتا ہے، اُس کے دو سوٹ کیس۔ جیسے سیلمان رشدی نے کہا تارکینِ وطن کے پاس سوٹ کیس ہوتے ہیں نظر میں نہ آنے والے خیالی سوٹ کیس۔ چی گویرا کی شرٹوں سے لے کر یو ایس میرینز اور بوب مورلے کی ٹی شرٹیں پہنے ہوئے لوگ۔ ’میں نے جب سے مدر ٹریسا تصویر والا یہ لاکٹ گلے میں پہنا ہے میری بیماری رفع ہو گئی ہے‘ ایک خاتون نے کہا۔ بےگھر جوڑا جیسن اور بیکی، آئنسٹائن کا ہم شکل ایک اور بے گھر عمر رسیدہ ایلن اور اُس کی گھر والی فیلّس۔ ’تم نے کبھی آئنسٹائن کا نام سنا ہے؟‘ سکول میں استاد نے افغان مہاجر لڑکے سے پوچھا۔ ’اُس کی شکل بےگھر لوگوں سے ملتی ہے۔‘ اُس افغان لڑکے نے کہا تھا۔ اُس افغان نوجوان کی نوّے سالہ ماں کو اب بھی اپنے اُس بیٹے کا انتظار ہے جو پشاور میں مر گیا اور اُسے کسی نے نہیں بتایا۔ بقول اُس افغان کنبے کے اُن کا تعلق جلال آباد کے حاکمینِ شہر سے تھا اور وہ اپنے یادگار سامان سے ایک لڑکی کی تصویر نکال کر لاتی ہے اور کہتی ہے یہ میرے بیٹے کی ہونے والی دلہن ہے۔ اور یہ کرزئی کی بیٹی ہے۔ ’کیا تم حکومتوں پر یقین رکھتے ہو۔ میں تو حکومتوں پر یقین نہیں رکھتا، ایک شخص اب ہر روز بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں پر کہتا ہے۔ دوسرا کہتا ہے، یہ سب کچھ (اوپیک) نے کیا ہے۔ بش کو الیکشن میں شکست دلوانے کے لئے۔ اب کی بار میں عراق جاؤں گا اور وہاں پر ہر شخص کی مقعد پر لات ماروں گا۔ اگر تمہیں معلوم ہو جائے میں کہاں کا رہنے والا ہوں تو تمہیں حیرت کے ساتھ غصّہ بھی آئے گا، مجھ سے میرے ایک اسرائیلی دوست ڈیوڈ نے اسی گیس سٹیشن پر پہلی ملاقات میں مجھ سے کہا تھا۔ این فرینک سے لے کر ڈینیل پرل تک اب بھی ہولوکاسٹ کی خوف تلے رہنے والے یہ یہودی بچے۔ میں یہاں سان ڈیاگو میں ہوں کیوں کہ یہاں کا موسم یروشلم جیسا ہے اُس نے کہا۔ آپ کو یہاں کا موسم ممبئی یا کراچی جیسا لگے گا۔ مجھے تو یہاں کا موسم سینٹیگو (چلی) جیسا لگتا ہے۔ میرے نئے واقف کار شاعر ’جّو‘ نے مجھے سے کہا۔ کیا تم نے سینٹیگو کا نام سنا ہے، اُس نے مجھ سے پوچھا۔ میرے ہاں کہنے پر اُس نے کہا، ’کیا تم نے ’نرودا‘ کا نام سُنا ہے؟‘ پھر اُس نے کہا، جنگ پر جانے سے مریخ پر جانا بہتر ہے۔ اور اس سفر میں تمام دنیا کے لوگوں کو ساتھ لینا چاہیے۔ گلابوں پر برف ، نامی گانے والوں کی بند گلے والی ٹی شرٹ پہنے ہوئے لڑکی اندر داخل ہوئی، وہ اپنے سیل فون پر کسی سے کہہ رہی تھی، وہ شخص مجھ سے فلرٹ کر رہا تھا جس کا ناول چھپنے کے لئے جانے کو ہے۔ کسی فلمی سین یا پینٹنگ کی طرح برستی بارش میں وہ جھومتا اور لڑکھڑاتا ہوا مراکشی شرابی تارکِ وطن۔ حُقہ لبنان کی چیز ہے، مراکش میں حُقہ نہیں حشیش ہوتی ہے۔ اُس شخص کا کیا ہوا جو سب کو نیوکلیئر بیچ رہا تھا۔ اُس نے مجھ سے پوچھا۔ مگر گاندھی کے ایک امریکی مداح نے مجھ سے کہا بچپن میں پچیس سینٹ میں ہم پاپ کارن لے کر فلم دیکھا کرتے تھے اور محظوظ یا رنجیدہ ہوتے تھے۔ لیکن کیا تم تھیٹر میں بیٹھے کسی سین کو تبدیل کر سکتے ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||