BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 February, 2004, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گے شادیوں کی مخالفت میں کمی

News image
ہم جنس پرست جوڑا
کیلیفورنیا کے ووٹروں نے ایک بہت ہی معتبر اور آزادانہ سروے میں جہاں سان فرانسسکو میں ہونے والی تین ہزار سے زائد ہم جنس gay شادیوں کے خلاف اپنی رائے دی ہے، وہاں انہوں نے ایسی ’گے‘ شادیوں پر بندش کے لئے امریکی آئین میں ترامیم کی بھی مخالفت کی ہے۔

یہ سروے رپورٹ کیلیفورنیا سے ’فیلڈ پول‘ نامی ایک آزاد اور غیر جانبدار تنظیم کی طرف سے کیا گیا ہے۔ جس میں کیلیفورنیا کی ریاست سے ڈیموکریٹس، ریپبلکن اور آزاد ووٹروں نے اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔

سرویز کے، جو یہاں کے مقامی روزنامے (یونین ٹرائبیون) میں شائع ہوئے ہیں، دو مصنفوں میں سے ایک مروِن فیلڈ نے بی بی سی اردو سے سان فرانسسکو سے ایک بات چیت میں کہا۔ ’یہ کیلیفورنیا کے ووٹروں کا ایک نمائندہ سروے ہے اور یہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں۔ ان جائزوں کے نتائج لوگوں کے تحفظات اور سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔‘ پھر انہوں نے کہا ’کیلیفورنیا کے ووٹروں نے بڑی تعداد میں امریکی آئین میں گے شادیوں پر پابندی کے لئے ترمیم کی تجویز کو مسترد کیا ہے کیونکہ آئین میں ترمیم کوئی معمولی بات نہیں۔ امریکی آئین اپنی تاریخ میں محض دو مرتبہ ترمیمات سے گزرا ہے۔‘

یہ سروے صدر بش کی آئینی ترمیم کی تجویز سے پہلے کئے گئے تھے۔ 1957 میں کیلیفورنیا کے مفاد عامہ میں ووٹروں کے مابین سیاسی اور سماجی موضوعات اور مسائل پر رائے عامہ جاننے کے لئے سرویز کرنے کے لئے قائم کیے جانے والے اس ’فیلڈ پول‘ نے مقامی اخبار کے مطابق اپنی دس صفحات پر مبنی انہی رپورٹوں کے سروے دیکھائے ہیں۔ بقول شخصے، انیس بیس کے فرق سےکلیفورنیا کے ووٹر عوام کے چالیس فیصد کے مقابلے میں پچاس فیصد نے ہم جنس پرست شادیوں کی مخالفت میں رائے دی ہے۔

جبکہ پچپن فیصد نے ان اقدامات کی مخالفت کی ہے جن میں حال ہی میں سان فرانسسکو کے میئر نے ہم جنس شادیوں کے لائسنس جاری کئے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ہم جنس شادیوں کو ناپسندیدگی سے دیکھنے والے انہی ووٹروں نے صدر بش کی طرف سے ہم جنس شادیوں پر پابندی کی آئینی ترامیم کی تجویز پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

کیلیفورنیا ریاست میں ان تبدیلوں کو ’نہ‘ کہنے والے لوگوں کی تعداد اکتالیس فیصد کے مقابلے میں چون فیصد ہیں۔ اس سروے کے نتائج اُس سروے سے ملتے ہیں جو اگست 2003 میں کیے گئے تھے۔ لیکن ’فیلڈ پول‘ کی جانب سے یہ جو تازہ سروے فروری سولہ سے فروری بائیس تک کے عرصے کے اندر کیا گیا اور جس کا ہدف کیلیفورنیا کے 958 رجسٹرڈ ووٹروں کی مثالی نمائندگی سے لیا گیا تھا کے بارے میں بی بی سی اردو کے ایک سوال کے جواب میں اس سروے کے شامل مصنف مروِن فیلڈ نے کہا ’جی ہاں یہ وہی ووٹر ہیں، جو اسی سال نومبر میں ہونے والے انتخاب میں ووٹ ڈالنے جائیں گے۔ اور ہم نے اس ہدف کا انتخاب تمام آبادیوں، سماجی گرپوں اور پارٹیوں سے کیا تھا۔ اسی میں کیلیفورنیا یا امریکہ میں زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں‘۔

دوسری طرف یہاں کے مقامی روزنامے یونین ٹرائبیوں میں شائع ہونے والے ’فیلڈ پول‘ کے سروے میں چوالیس فیصد موافقت ہے۔ ادھر گیلپ کے سروے کے مطابق تمام امریکہ میں کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں گے شادیوں کی تینتیس فیصد موافقت کے مقابلے میں تریسٹھ فیصد مخالفت کی گئی ہے۔ اسی طرح ’فیلڈ پول‘ میں اکتالیس فیصد ووٹروں کی آراء صدر بش کی ہم جنس شادیوں کے خلاف آئین میں ترمیم کی تجویز کی مخالفت میں ہیں۔ اور یہاں چون فیصد ان کے حق میں، جب کہ ملکی سطح پر امریکی رائے عامہ کا اکاون فیصد آئینی ترمیم کے حق میں اور پنتالیس فیصد مخالفت کا اظہار کرتے ہیں۔

’فیلڈ پول‘ کا جو سال 1977 سے لے کر ہم جنس شادیوں پر رائے عامہ کو ریکاڈر کرتی آئی ہے کہنا ہے کہ ہم جنس شادیوں کے بارے میں کیلیفورنیا کے ووٹر عوام کی ناپسندیدگی میں غور طلب کمی آئی ہے۔ لیکن سروے میں کہا گیا کہ اس شکایت کے خلاف اب بھی ایک اچھی خاصی مزاحمت موجود ہے۔ لیکن پھر بھی کیلیفورنیا کے ووٹروں میں سے کئے ہوئے سروے کے نتائج ملکی سطح پر کئے گئے دیگر سرویز کے نتائج سے مختلف ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والے ’فیلڈ پول‘ کے مطابق گے شادیوں کی سب سے زیادہ حمایت سان فرانسسکو کے ’بے‘ ایریا سے آئی ہے۔ یہاں جنوبی کیلیفورنیا میں بی بی سی کے کئے ہوئے ایک جائزے کے مطابق اُن کے جنہوں نے امریکہ میں گے تحریک گزشتہ عشروں میں قریب سے دیکھی یا اُن میں کسی طرح ملوث رہے ہیں، وہ حال ہی کی شادیوں پر پائی جانے والی مخالفت کا موازنہ امریکہ میں شہری حقوق مانے جانے سے پہلے والے دنوں سے کرتے ہیں۔ ایک لیزبین جوڑے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا، اگرچہ ان شادیوں پر میرا رِدعمل ملاجلا ہے لیکن اس پر مچنے والا واویلا مجھے امریکہ میں ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب سفید فام کی شادی سیاہ فام سے ہونے پر نسلی رِد عمل کیا جاتا تھا۔ صرف سان ڈیاگو سے اب تک دو درجن کی قریب گے جوڑے جن میں لیزبین بھی شامل ہیں۔ سان فرانسسکو سے اسناد ازدواج حاصل کر چُکے ہیں۔

سان ڈیاگو کے گے، لیزبین ’بائے سیکشیول‘ اینڈ ’ٹرانس جینڈر‘ سینٹر سے جاری شدہ ایک بیان میں کہا گیا اگر گے شادیوں کو روکنے کے لئے آئین میں ترامیم کی گئیں تو آبادی کا ایک بڑا حصّہ دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنے پر مجبور کیا جائے گا۔

مروِن فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فیلڈ پول‘ کے سروے میں اُن ریپبلکن ووٹرں نے بھی حصّہ لیا جو گے شادیوں کے تو مخالف تھے لیکن اُنہوں نے اس پر پابندی کے آئین میں مجوزہ ترمیم کی بھی مخالفت کی۔

سان ڈیاگو کے اخبار یونین ٹرائبیون میں ’فیلڈ پول‘ کے نتائج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کیلیفورنیا کے انیس فیصد کے مقابلے میں چھہتر فیصد ریپبلکن ووٹروں نے ہم جنس شادیوں کی مخالفت کی۔ ڈیموکریٹس ووٹر کی چونتیس فیصد کے مقابلے میں اکاسٹھ فیصد نے حمایت کی۔ جبکہ آزاد ووٹروں میں سے چالیس فیصد کے مقابلے میں اکاسٹھ فیصد نے موافقت کی ہے۔

اسی حوالے سے مروِن فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ فیلڈ پول کے سروے میں ان ریپبلکن ووٹروں نے بھی حصّہ لیا جو گے شادیوں کے مخالف تھے۔ لیکن انہوں نے اس پر پابندی کے لئے آئین میں مجوزہ ترامیم کی بھی مخالفت کی۔ لیکن اس سوال کے جواب میں مسٹر مروِن نے کہا، ہاں یہ درست ہے ریپبلکن ووٹروں کی ایک بڑی تعداد آئین میں ترامیم کے حق میں ہے۔ جب کے اُتنی ہی شدت سے ڈیموکریٹ ووٹرز ترامیم کی مخالفت کرتے ہیں۔

ان رپورٹوں کے سروے میں عورتوں کی شرکت کے تناست کے متعلق بتایا گیا ہے کہ سینتالیس فیصد کے مقابلے میں سینتالیس فیصد ہی اس مسئلے پر بٹی ہوئی ہیں۔ جبکہ چوالیس فیصد مردوں کے مقابلے میں چون فیصد ووٹر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

سروے میں اٹھارہ سال سے چونتیس سال کی عمر کے ووٹروں میں سے اڑتیس فیصد کے مقابلے میں اٹھاون فیصد نے ہم جنس شادیوں کی حمایت کی ہے۔ جبکہ پینسٹھ سال سے زیادہ کی عمر والوں کی رائے چھیاسٹھ فیصد کے مقابلے میں چھبیس فیصد مختلف ہے۔

سروے کے نتائج پر مبنی اخباری رپورٹوں میں مزید کہا گیا ہےکہ وہ لوگ جو ہر ہفتے چرچ (گرجا گھر) جاتے ہیں اُن میں چھبیس فیصد کے مقابلے میں پینسٹھ فیصد نے ہم جنس شادیوں کی مخالفت کی ہے۔ ایک عیسائی ’مہم ماتی‘ مبلغ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’یہ ہم جنس شادیاں، میرے مذہب کے خلاف ہیں۔ اور خدا بھی اس کی اجازت نہیں دیتا اور جبکہ وہ لوگ جو ایک آدھ مہینے چرچ جاتے ہیں اُن کے ستاون فیصد نے چھتیس فیصد کے مقابلے میں حمایت کی ہے۔ کاوئٹی لاس اینجلس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ووٹر اٹھاون فیصد اور پینتیس فیصد کے تناسب سے ہم جنس شادیوں پر بٹے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ ترامیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ دوسری جانب ’فیلڈ پول‘ سے کچھ روز پہلے اخبار لاس اینجلس ٹائمز کی طرف سے کروائے گئے سروے انتخابات کے نتائج میں بتایا گیا تھا کہ کیلیفورنیا ریاست کے ستاون فیصد ووٹروں نے سان فرانسسکو کے مئیر کے اقدامات کی مخالفت کی تھی۔ یونین ٹرائیبیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کیلیفورنیا جو گے حقوق اور آزادیوں کے حوالے سے بہت ہی آزاد واقع ہوا ہے وہاں ہم جنس شادیوں پر مخالفت سال ہا سال میں بتدریج گھٹتی آ رہی ہے۔

1985 میں ہم جنس شادیوں کی مخالفت باسٹھ فیصد تھی جو 1977 میں گھٹ کر پچپن فیصد پر پہنچی۔ اس طرح کے نتائج کیلیفورنیا کو باقی ریاستوں سے گے آزادیوں اور شادیوں کی جانب روادار بنتی ہے۔

اگر رپورٹ شدہ گیلپ کے امریکہ میں کروائے ہوئے تمام پولز کو دیکھا جائے تو امریکیوں کی تینیس فیصد کے مقابلے میں ہم جنس شادیوں کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد تریسٹھ فیصد بنتی ہے۔ اور پینتالیس فیصد کے مقابلے میں اکاون فیصد ہم جنس شادیوں پر بندش کے لئے آئینی ترامیم کے حق میں ہیں۔ فیلڈ پول کے ذرائع نے بی بی سی کے ایک سوال پر اس رپورٹ کی تصدیق کی کہ کیلیفورنیا ووٹروں کی 958 کی تعداد پر کروائے اس سروے میں تین عشاریہ تین غلطی کی گنجائش موجود ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد