ہم جنس پرستوں کی شادیوں کا ’رش‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سان فرانسسکو میں ہم جنس پرستوں پر سے شادی کی پابندی اٹھائے جانے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں ہم جنس پرست امریکہ بھر سے یہاں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ سان فرانسسکو میں ہم جنس پرستوں کے اجتماع کو امریکہ میں انیسویں صدی میں ہونے والے ’گولڈ رش‘ کی نسبت سے ’گے رش‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ سان فرانسسکو کے میئر گیون نیوسم نے ہم جنس پرستوں کی شادی پر سے پابندی اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیاز برتنے کے مترادف تھا۔ تاہم ہم جنس پرستی کے خلاف کام کرنے والے گروہوں نے اس پابندی کے اٹھائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔ امریکہ کی کسی ریاست میں ہم جنسوں کے درمیان شادی کی اجازت نہیں۔ سان فرانسسکو واحد ریاست ہے جو ہمیشہ سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کرنے میں پہل کرتی رہی ہے۔ صدر بش بھی ہم جنسوں کے درمیان شادیوں کے خلاف ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جلد ہی اس سلسلے میں امریکی آئین میں ترمیم لے کر آئیں گے تاکہ ہم جنسوں کے درمیان شادیوں پرہمیشہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے۔ ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی دستاویزات فراہم کر دینے کے فیصلے کے بعد سان فرانسسکو کےسٹی ہال کے باہر سینکڑوں ہم جنس پرست جمع ہو گئے۔ اور امریکہ میں قانونی طور پر ہم جنسوں سے شادی کرنے والے وہ اولین لوگوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ مئیر کے دفتر کے ترجمان فرانسسکو کیستلو نے کہا کہ جمعہ کو دو سو اٹھانوئے لوگوں کو شادی کی دستاویزات جاری کی گئیں اور جمعرات کو اٹھانوے لوگ یہ شادی نامہ یا لائنس حاصل کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ویلنٹائین کے موقع پر سان فرانسسکو میں ہم جنس پرست مرودں اور عورتوں یعنی ’گے‘ اور ’لسبینز‘ کی شادیاں جاری رہیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||