بش مخالفت اور ہم جنس شادیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس جوڑے نے ایک دوسرے کو چاندی کی جو دو انگوٹھیاں ہندوستان میں ایک مندر کے باہر سے خرید کر پہنائی تھیں انہیں سان فرانسسکو کے سٹی ہال میں اُتار کر اُن کی جگہ ایک دوسرے کو شادی کی نئی لیکن طلائی انگوٹھیاں پہنائیں ۔ ایک دوسرے کو ایسی انگوٹھیاں پہنانے والے لیوس اور گرفنی بھی ان دو ہزار سے زائد ہم جنس پرستوں میں شامل ہیں جنہوں نےگزشتہ دس روز سے سان فرانسسکو میں اپنے ہم جنسوں سے شادیاں رچاتے ہوئے شادی کے لائسنس لیے ہیں اور ایسی شادیاں صدر بش کےکانگرس سے گے (Gay) شادیوں پر پابندی کے لئےترمیمات کے کہنے کے باوجود جاری رہیں۔ اب تک سٹی ہال سان فرانسسکو سے تقریباً دو ہزار تین سو شادی کے ایسے لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔ مئیر آفس کے پریس ترجمان کیسٹلو فرانسسکو نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی گے شادیوں کے لائسنس لینے والوں میں ستر سال کی عمر کے جوڑے بھی ہیں تو اٹھارہ اور بیس سال کے نوجوان بھی۔ امریکہ میں ہم جنس مردوں کے سب سے بڑے مرکز سان فرانسسکو میں باقاعدہ ہم جنس شادیوں کا دستاویزی اور رسمی سلسلہ اُس وقت سے شروع ہوا جب گزشتہ برس فروری کو شہر کے میئر گیوین نیوزاوم نے کیلفورنیا ریاست کے ایک ہی جنس کی شادیوں پر قدغن لگانے والےقوانین کو امریکی آئین کےمنافی قرار دیا اور کہا کہ آئین میں کسی کے ساتھ جنسی ترجیحات کی بنیاد پر امتیاز برتنے کی ممانعت ہے۔ مئیر نیواوم نے اپنے دفتر سے جنسی ترجیحات کی بنیاد پر شادیوں کے لائسنس جاری کرنےکا اعادہ کیا۔ مئیر کی ایسی اسنادِ ازدواج حاصل کرنے والوں میں سب سے پہلا لیزبین جوڑا وہ تھا جن میں سے ایک مئیر کے اپنے ہی دفتر کی چیف آف سٹاف تھی۔ اور اس کے بعد جوق در جوق، قطار اندر قطار گے مرد اور لیزبین عورتیں پھولوں کے ہاروں اور گلدستوںاور شمپین کی بوتلوں کے ساتھ آنا شروع ہوگئیں۔ سب سے پہلے سان فرانسسکو کے سٹی ہال میں پہنچنے والا لسبین جوڑا ڈیل مارٹن اور فیلس لیون کا تھا جو آدھی صدی سے بھی زیادہ عرصے تک ایک ساتھ رہتے ہوئے آنے کے بعد شادی کے رشتے میں بندھا۔ ’ہم نے اس دن کے لئے برسوں انتظار کیا۔ اور یہاں تک پہنچنے کے لئے گے اور لیزبین لوگوں نے بڑی تگ و دو کی‘۔ فیلس نے وہاں موجود پریس والوں بتایا تھا۔ میں صدر بش کو کیلیفورنیا آ کر اس سنئیر جوڑے سے ملنے کی دعوت گا کہ وہ آ کر دیکھیں کہ یہ جوڑا بھی اسی طرح رہتا ہے جس طرح میں اور میری بیوی رہتے ہیں۔ سان فرانسسکو کے مئیر گیوین نے کہا ہے۔ سان فرانسسکو سٹی ہال میں جوق در جوق ہم جنس پرست جوڑوں کی شادیوں کے لائسنسوں کے لئے لگنے والی قطاروں کی وجہ سےشہر میں ایک جشن کا سما بندھا ہوا ہے۔ گل فروشوں، شراب ، کیمروں اور اُن کے فلم رولوں، زیورات کی دُوکانوں پر بِکَری خلافِ معمول زیادہ ہو رہی ہے۔ سوک سنٹر، میشن سٹریٹ، کاسترو اور نو ویلی تک، یہاں تک کہ زیر زمین ریلوں میں بھی نو بیاہتا ہم جنس جوڑے اور اُن کے باراتی ہی ملیں گے۔ ایسا لگتا ہے پورے سان فرانسسکو شہر نے شادی کی ہوئی ہے، سان فرانسسکو کے مشہور روزنامے ’سان فرانسسکو کرانیکل‘ نے تبصرے میں کہا ہے۔ شادی کے لیے یہاں آنے والے جوڑوں میں نہ صرف کیلیفورنیا سے باہر دور دراز راستوں کے امریکہ سےگے لوگ شامل ہیں، بلکہ سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ اور افریقہ کے ممالک کے لوگ بھی ہیں۔ سان فرانسسکو کے مئیر کے دفتر والوں کا کہنا تھا۔ سان فرانسسکو میں برسوں سے مقیم پاکستانی نژاد اعجاز سید نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹی ہال کی پہلی اور دوسری منزل کے بعد لوگ باہر سڑک پر قطاریں بنائے کھڑے ہیں اور اس کے لئے لوگ رات کو باہر سردیوں میں سٹی ہال کے باہر گزارتے بھی دیکھنے میں آئے۔ اور ایسے بھی جوڑے ہیں جو اپنے دفتر سے کھانے کے وقفے میں شادیاں کرنے سٹی ہال پہنچے۔ ایک لیزبیس جوڑا میلنڈا میکلسٹر اور جینفر کیمٹ لاس اینجلس سے سفر کر کے شادی کے لائسنس کے لئے سان فرانسسکو سٹی ہال پہنچا تو ہال بند ہو رہا تھا۔ جوڑے کو ہال کے دروازے بند کرنے والوں نے دوسرے دن آنے کو کہا تو جوڑا رونے لگا۔ سان فرانسسکو کے مئیر کے دفتر سے شادی کے لائسنس سے متعلق جاری کیا ہوا کتابچہ کہتا ہے ’اگر آپ کی عمر اٹھارہ سال ہے، اور ضروری نہیں کہ آپ کیلیفورنیا کہ ہی باشندے ہوں، 82 اور اضافی 62 ڈالروں کے ساتھ شادی سرٹفیکیٹ کے 21 ڈالر بھی ادا کر سکتے ہیں تو سان فرانسسکو سٹی ہال شادی کے لئے تشریف لا سکتے ہیں‘۔ لیکن شکاگو میں جنوبی ایشیا کے گے، لیسبیس سپورٹ گروپ کے بانی پاکستانی نثراد افتی نسیم نے کہا ’اگرچہ میں ہمیشہ گے حقوق اور ان لوگوں کے بھی حقوق کے لئے لڑتا رہوں گا لیکن یہ سب کچھ بہت برا ہے‘۔ گے لوگوں کو غیر گے یا ’سٹریٹ‘ لوگوں کی طرح شادی کی کیا ضرورت ہے! افتی نسیم نے کہا ’گے ایک جگہ اور ایک رشتے میں زیادہ دیر ٹھہر ہی نہیں سکتے اور پھر امریکہ میں طلاقوں کی شرح دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہم جنس پرستوں کے لئے بہت ہی تباہ کن ہو گا۔ ’شادی ایک بہت ہی فرسودہ ادارہ ہے جس سے بچنے کے لیے صدر بش غیر ہم جنس پرست لوگوں کو پیسے بھی دے رہا ہے‘ افتی نسیم نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا۔ صدر بش کے گے شادیاں مخالف بیان پر افتی نسیم نے کہا ’گے بھی امریکی شہری ہیں انہیں غیر گے لوگوں سے یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ گے لوگ کوئی مریخ کی مخلوق نہیں‘۔ لیکن سان ڈیاگو سے شائع ہونے والے گے، لیزبین ٹائمز کی ایڈیٹر نے بی بی سی سے کہا ’یہ امریکہ میں گے حقوق کے لیے بہت خوش آئند بات ہے ۔ آج ان گے شادیوں تک پہنچنے کے لئے ان لوگوں نے امریکہ میں طویل اور کٹھن جدوجہد کی ہے اور اس سے امریکہ میں کوئی آسمان نہیں گر گیا‘۔ صدر بش کے گے شادیوں پر بندش کے متعلق حالیہ بیان پر انہوں نے کہا ’صدر بش تو ایک گھریلو عورت کی طرح ہیں، جس نے نہ تو کبھی گے دیکھا ہے اور نہ گے لوگوں کی زندگی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||