چوتھے مرحلے میں ووٹنگ مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں انتخابا ت کے چوتھے مرحلے میں تراسی حلقوں میں ووٹ ڈالے جا چکے ہیں جن میں لکھنؤ میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا حلقہ انتخاب بھی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ پچاس سے پچپن فیصد رہا جبکہ کشمیر کے ایک حلقے اننت ناگ میں یہ شرح صرف سولہ فیصد رہی۔ بدھ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں راجھستان میں باون سے پچپن فیصد جنکہ مدھیا پردیش میں یہ شرح پچاس سے پچپن فیصد رہی۔ بہار میں پچاس فیصد ووٹروں نے اپنے رائے حق دہی استعمال کیا۔ اب تک پہلے تین مرحلوں میں دو سو اٹھہتر حلقوں میں ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ انتخابات کے آخری مرحلے کی ووٹنگ دس مئی کو ہوگی۔
ملک کی ریاستوں اترپردیش اور بہار میں سخت سکیورٹی دیکھنے میں آئی جہاں انتخابات کے پہلے مرحلوں میں تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ان ریاستوں میں پولیس کو نقص امن کی صورت میں موقع پر گولی چلانے کا حکم تھا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور اننتناگ کے حلقے میں انتخابات کی مخالفت میں نکالے جانے والے ایک جلوس پر آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ اننتناگ میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کے بعد بہت سے پولنگ اسٹیشن ویران نظر آرہے ہیں۔ ایک پولنگ اسٹیشن پر تعینات بشیر احمد وانی نے بتایا کہ پہلے دو گھنٹوں میں ان کے پولنگ اسٹیشن پر ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا۔ پولنگ سے قبل اسلامی شدت پسندوں نے چار پولنگ اسٹیشنوں پر حملہ کیا جس میں چھ افراد زخمی ہوئے۔ اس کے برعکس راجستھان میں پولنگ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل ہی ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ وزیر اعظم واجپئی نے بھی شہر کے مرکز میں اپنا ووٹ ڈالا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ان جماعت کی قیادت میں بننے والے اتحاد کو پانچ سو تینتالیس نشستوں کے ایوان میں برتری حاصل ہو جائے گی۔ تازہ ترین انتخابی تجزیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کی قیادت میں موجودہ حکمران اتحاد کی برتری کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ پرانے لکھنؤ میں ایک مکینک کلو خان اپنے خاندان کے ساتھ ووٹ ڈالنے آئے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کانگریس کو ووٹ ڈالوں گا۔ میرے خاندان نے ہمیشہ اسی جماعت کو ووٹ ڈالا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے لئے بہتر ہے‘۔ انتخابات کے چوتھے مرحلے میں دس کروڑ ستر لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ دور دراز ریاستوں اروناچل پردیش اور نگا لینڈ میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ان ریاستوں کے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے میں انتخابی عملے کو کئی دن لگے۔ یہ لوگ پیدل یا ہاتھیوں پر سفر کر رہے تھے۔ بعض مقامات پر بھارتی فضایہ کی مدد لی گئی۔ اروناچل پردیش کے دو حلقوں کے لئے سات لاکھ ووٹر ہیں جبکہ ناگالینڈ کے ایک حلقے میں دس لاکھ سے زیادہ ووٹر رجسٹر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||