BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 April, 2004, 07:48 GMT 12:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوقوم پرستوں کے خلاف اتحاد

کیرالہ
’انڈین مسلم لیگ زندہ باد۔۔‘
کیرالہ بھارت کی دوسری ریاستوں سے مختلف اور منفرد ہے اور یہ واحد ریاست ہے جہاں آج بھی سیاسی جماعت مسلم لیگ نہ صرف قائم ودائم ہے بلکہ حکومت میں ایک اہم کردار بھی ادا کر رہی ہے۔

کانگریس کی قیادت میں یونایٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت میں تقریبا سات جماعتیں شامل ہیں جن میں مسلم لیگ سب سے اہم ہے جس نے مہاپورم میں اپنے دو امیدواروں کو پارلیمانی انتخاب کے لے کھڑا کیا ہے۔

بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نے یہاں مسلمانوں کو تحفظ دینے اور انکے مسایل حل کرنے میں ہمیشہ دلچسپی دکھائی اور کبھی قوم پرستوں کو سر ابھارنے کا موقعہ نہیں دیا۔

کیرالہ
مہاپورم کے علاقے میں اسی فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے اور ہر کوئی مسلم لیگ کا شیدائی ہے۔

کیرالہ میں مسلمانوں کی آبادی تئیس جبکہ عیسائیوں کی اکیس فیصد آبادی بتائی جاتی ہے لیکن ہندووں کی طرح اقلیتیں بھی زندگی کی آسایشوں سے مالا مال اور تعلیم یافتہ ہیں۔

اس ریاست کی تقریبا چالیس فیصد آبادی بیرون ملک رہتی ہے جو اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ یہاں بھیجتی ہے جو انکی تعلیم یافتہ ہونے اور زندگی کی آسایشوں سے مالا لال ہونے کا سبب ہے۔

ریاست میں کیمونسٹوں کا کافی زور رہا ہے حالانکہ بھارت کے پہلے وزیرآعظم پنڈت نہرو نے سوشلسٹ ہونے کے باوجود انہیں سیاسی منظر سے ہٹانے کی سر توڑ کوشش کی لیکن انہوں نے بیشتر وقت ریاست پر حکمرانی کی ۔ کیرالہ کی خوبی یہ ہے کہ لوگ کارکردگی کی بنا پر ووٹ ڈالتے ہیں اور موجودہ پارلیمانی انتخابات میں بھی حکمران اتحاد یو ڈی ایف کی کارکردگی داو پر لگی ہے کیونکہ کسانوں کی شکایت ہے کہ وزیراعلیٰ اے کے اینٹونی نے سوکھے سے متاثرہ علاقوں کی حالت بدلنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے جس کے باعث کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

موجودہ پارلیمان میں یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف کے پاس دس دس نشستیں ہیں اور کیمونسٹ رہنما ہر کشن سنگھ سرجیت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ انکی پارٹی ماضی کے مقابلے میں مزید سیٹیں حاصل کریگی کیونکہ یہاں کے عوام کو احساس ہوا ہے کہ ملک کے اتحاد اور سیکولرازم کو صرف بائیں بازو والی جماعتیں ہی بچا سکتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادی کی لڑائی لڑنے والے اور پھر برصغیر کے بٹوارے کی ذمہ دار پارٹیاں کانگریس اور مسلم لیگ جہاں آج بھی ایک دوسرے پر سن سنتالیس میں مذہبی فسادات پھیلانے کی الزام تراشی کرتی ہیں وہیں کیرالہ میں یہی دو پارٹیاں ایک دوسرے سے بغلگیر ہوکر ہندو قوم پرست جماعتوں کو دور رکھنے کی حکمت عملی اپنا رہیں ہیں اور امید کر رہی ہیں کہ ریاست میں بی جے پی کو ابھی کھاتہ کھولنے میں بہت کام کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد