 |  معلق پارلیمنٹ کے خوف سے سرمایہ کار حصص فروخت کر رہے ہیں۔ |
انڈیا میں منگل کے روز حصص بازار میں تین اعشاریہ پانچ فیصد کی کمی آئی ہے جس کی وجہ پیر کے روز سامنے آنے والے وہ ابتدائی اندازے بتائی جا رہی ہے جس کے مطابق حالیہ الیکشن کے نتیجے میں ایک غیر یقینی پارلیمینٹ وجود میں آسکتی ہے۔ پچھلے تین برسوں میں حصص کی قیمتوں میں یہ سب سے زیادہ کمی ہے اور اس کے بعد معاشی اصلاحات میں تاخیر کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ سٹاک میں کمی کا اثر انڈین روپے پر بھی پڑا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں اس میں گیارہ پیسے کی کمی آئی ہے۔ ممبئی سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کے مطابق بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت کی وجہ پیر کو سامنے آنے والے وہ ابتدائی اندازے ہیں جن کے مطابق بی جے پی کی سربراہی والی مخلوط حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات اتنے قوی نہیں جتنے الیکشن کے پہلے راؤنڈ کے بعد نظر آرہے تھے۔ ایک سٹاک بروکر سشیل چوکسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حصص مارکیٹ میں شائد الیکشن کے حتمی نتائج تک مزید کمی آئے۔ |