BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 April, 2004, 02:30 GMT 07:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھراوی کے مکینوں کا ’فنڈامنٹل رائٹ‘

دھراوی
ممبئی کی کچی بستی دھراوی کے پونے تین لاکھ ووٹر بھی آج اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں
دو فٹ چوڑی گلی کے کنارے چار ضرب پانچ فٹ کی جگہ پر چھ سات فٹ اونچی ٹین سے بنی ایک قبر سے ذرا کشادہ جھونپڑی میں بیٹھا ستر سالہ راما چندرن چھبیس اپریل کو ممبئی اور ہندوستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

تامل نژاد راما چندرن اپنی ٹوٹی پھوٹی ہندی میں کہتا ہے کہ وہ ووٹ دینے تو جائیں گا یہ اس کا فنڈامٹیل رائٹ ہے، پڑھے لکھے لوگوں کو ووٹ دینے سے شرم آتی ہے ہمیں نہیں آتی۔

راما چندرن ممبئی کے شمال وسط میں واقع ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی ’دھراوی‘ کے ان پونے تین لاکھ لاکھ ووٹروں میں شامل ہے جن کی اکثریت چھبیس اپریل کو لوک سبھا کے لیے ممبئی میں ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالے گی۔

انہیں تامل ناڈو سے ممبئی آۓ ہوۓ پچاس سال سے زیادہ ہوگئےہیں۔ وہ درزی کا کام کرتے تھے اور اب ایک سماجی ادارہ میں ملازم ہیں۔ ممبئی میں ان کی ساری عمر دھراوی کی چھونپڑیوں میں گزری ہے۔

وہ ان لوگو ں میں شامل ہے جنھیں پچاس پچپن سال پہلے ممبئی میں چمڑے کے کارخانے کھولنے والے مزدوروں کی تلاش میں تامل ناڈو سے اس شہرمیں لاۓ تھے (اس وقت ممبئی میں مزدوروں کی کمی تھی) اور انھیں رہنے کے لیے کارخانوں کے ساتھ جوہڑ کے علاقہ میں جھگیاں بنا کر دی گئی تھیں۔ بعد میں یہ جھگیاں جھونپڑ پٹیاں بن گئیں۔

دھراوی
دھراوی کی جھونپڑ بستی میں شہری سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں
دھراوی کی کچی بستی جسے یہاں جھونپڑ پٹی کہتے ہیں حد نگاہ تک پھیلی ہوئی ہیں جس کی چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں اور براۓ نام گلیوں میں عام آدمی کو سانس لینا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔

ان جھونپڑیوں میں ایک ایک پلنگ پر دو دو تین آدمی لیٹے نظر آتے ہیں ، عورتیں کھانا پکا رہی ہیں اور بچے چُوڑا بہتی گلیوں کے پاس کھیل کود میں مصروف ہیں۔

ٹین سے چھتی اس کچی بستی کو دور سے ذرا اونچائی پر جا کر دیکھیں تو خیال آتا ہے کہ جو جھونپڑیاں بستی کے اندر ہیں وہاں سے لوگ باہر سڑک پر کیسے آتے جاتے ہوں گے۔

دھراوی میں پانچ لاکھ کے قریب لوگ تقریبا تراسی ہزار جھونپڑیوں میں رہتے ہیں جن کی اکثریت ممبئی کے باہر سے ملازمت کی تلاش میں ممبئی آنے والے لوگوں کی ہے۔

ممبئی کی سوا کروڑ میں سے نصف کے قریب آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے جو سڑک کےکنارے فٹ پاتھوں پر اور صنتعی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر میں تقریبا ہر جگہ نظر آتی ہیں۔

ان جھونپڑیوں میں رہنے والے مکین ہی شہر کی انتخابی سیاست کے نتائج پر بہت گہرا اثر انداز ہوتے ہیں۔

الیکشن واچ کے طور پر ووٹروں میں کام کرنے والی این جی او اگنی کے ڈائریکٹر شرد کمار کا کہنا ہے کہ ممبئی کے چالیس فیصد ووٹر جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کا ساٹھ فیصد اپنا حق راۓ دہی استعمال کرتا ہے۔

دھراوی
ممبئی کی جھونپڑیوں میں رہنے والے ساٹھ فیصد افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں
این جی او اگنی کے مطابق شہر کے شمال مشرق کے انتخابی حلقہ میں ستر فیصد سے زیادہ ووٹر جھونپڑ پٹی کے ہیں کیونکہ وہاں جھونپڑیوں کا سلسلہ چمبور کے علاقہ سے مُلند کے علاقہ تک پھیلا ہوا ہے۔

شہر کا جنوب جہاں خوشحال طبقہ اکثریت میں ہے وہاں پر بھی جھونپڑیوں کے مکین ووٹروں کی شرح بیس فیصد سے زیادہ ہے اور یہ لوگ ہی زیادہ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔

دوسری طرف شرد کمار کا کہنا ہے کہ متوسط اور اعلیٰ طبقہ کے علاقوں میں رہنے والے ساٹھ فیصد ووٹرووں میں سے بیس فیصد لوگ ہی ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متوسط طبقہ کے یہ لوگ زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنےجائیں تو انتخابی نتائج تبدیل ہوسکتے ہیں۔

متوسط طبقہ کے لوگوں کا ووٹ ڈالنے میں کم دلچسپی لینا اور کچی بستیوں کے ووٹرووں کی بڑی تعداد میں ہونے کی وجہ سے ہی ممبئی میں کانگریس کے سنیل دت ہوں یا شو سنہا کے لوک سبھا کے اسپیکر منور جوشی وہ ووٹ لینے کے لیے ان بستیوں کے چکر کاٹتے رہے۔

دھراوی میں مسلمان اور تامل آبادی کی غالب اکثریت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شو سنہا کے منوہر جوشی نے تامل فلم ہیروئین ہیما مالنی کو لے کر یہاں کا دورہ کیا اور ووٹ مانگے۔

انتخابی امیدوار ان جھونپڑ پٹی کےمکینوں سے وعدے کرتے ہیں جو دھراوی وکاس سمیتی کے سماجی کارکن متو کے مطابق سب وعدے پورے نہیں ہوتے لیکن کچھ نہ کچھ کام بھی ہوا ہے۔

متو کا کہنا ہے کہ آج دھراوی کے گرد چوڑی سڑکیں بن گئی ہیں اور بجلی دستیاب ہے اور پچیس گھروں کے لیے ایک سرکاری پانی کے نل کا کنیکشن بھی مل جاتا ہے۔

دھراوی میں شو سنہا کے امیدوار منوہر جوشی نے اس بستی کے لوگوں کو فلیٹ بنوا کر دینے اور دوسری سہولیات مہیا کرنے کے لیے پانچ سو کروڑ کےمنصوبوں کا اعلان کیا ہوا ہے جبکہ ان کے کانگریس کے حریف ایک ناتھ گائیکوارڈ کا کہنا ہے کہ منوہر جوشی دھراوی کی زمین پرائیوٹ بلڈرز کو بیچنا چاہتے ہیں۔

جیتنے والا امیدوار دھراوی کے لوگوں کی کچی جھونپڑیوں کو ان سے پیسے لیے بغیر فلیٹ میں تبدیل کرواۓ گا یا یہاں پر پرائیویٹ فلیٹ بنیں گے جنھیں لاکھوں کڑوڑوں روپوں میں بیچا جاۓ گا یا معاملہ جوں کا توں رہے گا اس کا پتا تو وقت کے ساتھ ہی چلے گا۔

چار ضرب پانچ فٹ کی قبر نما جھونپڑی میں بیٹھا راما چندرن ان لوگوں کی طرح مایوس نہیں جو کف پریڈ کے کھلے بڑے لگزری اپارٹمنٹس میں رہتے ہوۓ سیاستدانوں سے متنفر ہیں اور ووٹ ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔ دھراوی کا راما چندرن ووٹ ڈالے گا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ اس کا فنڈامینٹل رائٹ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد