BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلکتے میں نفیسہ اور موسمی کا زور

نفیسہ علی
نفیسہ علی سماجی کام کےتجربے کےساتھ سیاست کے میدان میں اتری ہیں۔
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کلکتہ میں اس مرتبہ مقابلہ انتہائی دلچسپ ہے۔ اس کی وجہ سیاسی اکھاڑے میں سابق ملکہ حسن نفیسہ علی اور بالی ووڈ کی اداکارہ موسمی چیٹرجی کی موجودگی ہے۔

کلکتہ میں لوک سبھا کی کل تین انتخابی نشستیں ہیں اور پچھلے چند انتخابات میں ان سیٹوں پر غیر کمیونسٹ جماعتوں کا ہی غلبہ رہا ہے۔

انیس سو اٹھانوے تک یہاں سے کانگریسی امیدوار کامیاب ہوتے تھے لیکن ممتابنرجی کی قیادت میں کانگریس منقسم ہونے کے بعد یہاں سے وہی پرانے کانگریسی امیدواروں نے نئی پارٹی ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنا شروع کی۔

تاہم اس مرتبہ معاملہ ذرا مختلف ہے۔ شہر میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی اور مسلمانوں کا ممتا بنرجی سے بیزار ہونا اس جانب اشارہ کر رہا ہے کہ اس سال کے انتخابات میں ترنمول کانگریس کی برتری شاید تمام سیٹوں پر برقرار نہ رہ سکے۔ واضح رہے کہ ترنمول کانگریس مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کا ایک اہم حصہ ہے۔

علاوہ ازیں کلکتہ میں مسلم ووٹرز کی کثیر آبادی بھی گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کی وجہ سے بی جے پی اور ترنمول کانگریس سے سخت نالاں ہے۔

جنوبی کلکتہ میں ممتا بنرجی کے خلاف کانگریس نے سابق مس انڈیا اور سماجی کارکن نفیسہ علی کو میدان میں اتارا ہے اور بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ موشمی چیٹرجی شمال مشرقی کلکتہ میں اجیت پانجا کے خلاف کانگریس کی امیدوار ہیں۔

لیکن یہاں ریاستی کابینہ میں کمیونسٹ پارٹی کے وزیرمحمد سلیم بھی فتح کے اہم دعویدار ہیں۔

موشمی چیٹرجی بنگالیوں میں خوب مقبول ہیں، لہذا ان کے سیاسی میدان میں آنے سے اجیت پانجا کے خیمے میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔

موشمی چیٹرجی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین نے اب ان کے خلاف ذاتی نوعیت کے حملے شروع کر دئے ہیں۔ تو کیا اب انہیں سیاست میں آنے کے فیصلے پر افسوس ہوتا ہے؟

موشمی چیٹرجی کا کہنا ہے کہ، ’نہیں ہر گز نہیں۔ شرمندگی ہوتی ہے جب میرے مخالفین میرے کردار پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ دراصل وہ بوکھلا گئے ہیں۔ انہیں یہ بھی خیال نہیں میں ایک عورت ہوں۔ لیکن میں نے بھی تہیہ کر لیا ہے کہ اس الیکشن میں انہیں جیتنے نہیں دوں گی۔‘

دوسری جانب نفیسہ علی یہ ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ انہیں سیاست کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں۔ ان کے مطابق ان کا سماجی کارکن ہونا ان کے الیکشن جیتنے میں معاون ثابت ہوگا۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’میں بیس سال سے سماجی کاموں سے وابستہ رہی ہوں۔ میں نے ایچ آئی وی ایڈذ اور دیگر موذی امراض کے خاتمے کے سلسلے میں متعدد کام کئے۔ لوگ یہ جانتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس علاقے میں ممتا بنرجی نے چار مرتبہ الیکشن جیتنے کے باوجود فلاحی کاموں کے نام پر کچھ بھی نہیں کیا۔‘

ترنمول کانگریس کے امیدواروں کو نفیسہ علی یا موشمی چیٹرجی سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہیں خوف اس بات کا ہے کہ ان دونوں خواتین کی موجودگی سے جو غیر کمیونسٹ ووٹ تقسیم ہوں گے اس کافائدہ کمیونسٹ پارٹی کے امیدواروں کو ہونا لازمی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار محمد سلیم اجیت پانجا سے صرف چالیس ہزار ووٹ سے ہارے تھے۔ لہذا انہیں امید ہے کہ اس مرتبہ فتح ان کی ہوگی۔ جیسا کہ وہ اپنے ووٹرز سے کہتے نہیں تھکتے کہ ’پچھلی بار اجیت پانجا کے کندھے تک پہنچا تھا ، اس مرتبہ ان کے سر تک پہنچنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

کلکتہ کے شمال مغربی حلقے میں گزشتہ الیکشن کے فاتح سدیپ بندوپادھیائے بحیثیت آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ترنمول سے اپنا ناطہ توڑ لیا ہے۔ انہیں اس مرتبہ کانگریس کی حمایت حاصل ہے۔

یہاں ان کے اور کمیونسٹ پارٹی کے سدھانشو سیل کے مابین براہ راست مقابلہ ہے۔ ان دونوں میں سے جیت خواہ کسی کی بھی ہو نقصان ترنمول اور بی جے پی کے اتحاد کا ہونا لازمی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد