BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 April, 2004, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں‘

انڈیا کے انتخابات
ایگزٹ پولز کے مطابق بی جے پی کی اکثریت متاثر ہو رہی ہے
ملک میں عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد ٹیلی ویژن چینلز پر جو عوامی رجحانات اور ایگزٹ پولز دکھائے گئے ہیں ان سے اشارہ ملتا ہے کہ مرکز میں حکمراں قومی جمہوری محاذ یعنی این ڈی اے کو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ کافی نقصان ہو سکتا ہے۔

ابھی تک جن 236 سیٹوں کے لیۓ ووٹنگ ہوئی ہے اس میں سے این ڈی اے کو اوسطاً 140 اور کانگریس کو تقریبا سو سیٹیں ملنے کی پیشین گویاں کی جا رہی ہیں۔ اس حساب سے این ڈی اے کو 1999 کے مقابلے میں 33 سیٹوں کا نقصان ہے جبکہ کانگریس کے محاذ کو تقریبا تیس سیٹوں کا فائدہ ہوتے دکھائی دیا جا رہا ہے۔

تقریبا سبھی ٹی وی چینلز کے پیش کردہ عوامی رجحانات ایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں لیکن ان سب سے جو اشارے مل رہے ہیں اس سے واضح یہی ہوتا ہے کہ نئی لوک سبھا میں کسی ایک محاذ کو شاید اکثریت نہیں ملے گی۔

رائے عامہ کے جائزوں کی صداقت کیا ہے یہ ایک مختلف سوال ہے لیکن اسکے اثرات بڑی تیزی سے کئی شعبوں پر مرتب ہوئے ہیں ۔اس خبر کے عام ہوتے ہی کہ نئی لوک سبھا شاید معلق ہوگی ممبئی شیئر بازار اوندھے منھ لڑھک گیا اور اچانک ڈالر کے مقابلے میں روپئے کی ‎قیمت بھی گر گئی ہے۔

لیکن سیاسی جماعتوں پر اس کا اثر سب سے زیادہ پڑاہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے خیمے میں اس سے جہاں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے وہیں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرمیاں اسکی گھبراہٹ کی غماز ہیں۔ پارٹی نے اس سلسے میں ہنگامی اجلاس طلب کر کےنئی حکمت عملی پر غور و فکر کیا ہے۔

بی جے پی کو آہستہ آہستہ احساس ہو چلا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اس لۓ اس نے انتخابات کے بعد کے نۓ اتحادیوں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب اچانک کیسے ہو گیا؟ تیز رفتار اقتصادی ترقی تو جاری ہی تھی، سود کی شرح میں بھی کمی آئی تھی۔ مزید کمی مون سون کی مہربانی نے پوری کردی جسکے رحم وکرم سے کئی علاقوں میں خریف کی فصل بھی لہلہا رہی تھی، ہر طرف ہریالی کا ماحول تھا، تبھی ریاستی اسمبلی انتخابات میں کامیابی سے سرشارحکمراں جماعت نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی لڑکھڑاتے دیکھا۔ پھر کیا تھا اعتماد سے پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے مرضی کے مطابق وقت سے قبل ہی لوک سبھا کے انتخابات کا فیصلہ کر لیا۔

راہول گاندھی
راہول گاندھی امیتھی میں

لیکن آخر ہوا کیا کہ عین انتخابات کے درمیان ہی درخشاں ہندوستان کے نعرے کو گرہن لگ گیا؟ بہتر حکومت کی فراہمی، بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا دعویٰ‎ اور حکومت کی بہتر کار کردگی۔ کیا اسکے سبھی نعرے بے اثر ثابت ہو رہے ہیں؟

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکمراں جماعت نے انتخابی لڑائی کے لۓ جو نعرے چنے ہیں اور جس پر اس نے زیادہ توجہ دی ہے انکا تعلق عام لوگوں سے کم ہی ہے۔ تیز رفتار اقتصادی ترقی سے ان کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ملا جنہیں قرضوں کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب خود کشی کرنا پڑی۔

دوسری طرف بے روزگاری، غربت اور بھوک جیسے کئی ایسے اہم بنیادی مسائل ہیں جو انتخابات میں کانگریس کی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔

انڈیا شائنگ کی چمک شاید ان مزدوروں تک نہیں پہنچی جو رات کے کھانے کے لۓ دن بھر مزدوری کرتے ہیں۔

انتخابی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ شاید بی جے پی اس طبقے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکی جو چل چلاتی دھوپ میں لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر ووٹ ڈالنے کے لیۓ گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔

بڑی جمہوریت
کئی ووٹر تو ہاتھیوں پر بیٹھ کر آئے

ظاہر ہے کہ رائے دہندگان کے ووٹ ڈالنے کے اس شدید جذبے میں ناراضگی اور غصہ وگرمی کے وہ عناصر بھی کارفرماں ہوتے ہیں جنکی وجہ سے انکی زندگی اجیرن ہوئی ہوتی ہے۔

وجوہات کوئی بھی ہوں بی جے پی اور اسکی حلیف جماعتوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔

ویسے ابھی لوک سبھا انتخابات کے دو مرحلے اور باقی ہیں جن میں کل 265 سیٹوں کا انتخاب ہونا ہے۔ اس لیۓ ابھی سے کوئی قطعی راۓ یا حتمی فیصلے کا اشارہ درست نہیں ہوگا۔ تاہم ریاست مدھیہ پردیش اور راجستھان کے علاوہ آئندہ کے دو مرحلوں میں ہونے والی پولنگ میں اسکی حالت مزید پیچیدہ نظر آرہی ہے۔

باقی ماندہ دوسو پینسٹھ حلقوں میں سے گزشتہ انتخابات میں این ڈی اے نے 127 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ اس بار حکومت مخالف رجحان کے سبب اس میں اضافے کے بجائے نقصان کے آثار زیادہ ہیں۔ تاہم ایگزٹ پول کے حساب سے دیکھا جائے تو اقتدار میں واپسی کے لۓ این ڈی اے کو اس مرحلے میں پہلے سے زیادہ سیٹیں جیتنی ہوں گی جو آسان کام نہیں ہے۔

معلق پارلیمان کی صورت میں سیاسی صورت حال کے مزید پیچیدہ ہونے کے امکان زیادہ ہیں جس کے آثار ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہی ہے کہ این ڈی اے کے متبادل کانگریس کے محاذ کی قیادت کس کے ہاتھوں میں ہوگی؟ یا پھر کیا کوئی تیسرا محاذ بھی وجود میں آسکتا ہے؟ ان سب کے متعلق ابھی صرف قیاس آرائیاں جاری ہیں جن کا جواب آئندہ 13 مئی کے بعد ہی ملے گا جب ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد