بھارت کے انتخابات کا چوتھا مرحلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں انتخابات کے چوتھے مرحلے میں بدھ کو دس کروڑ ستر لاکھ ووٹر اتر پردیش سمیت سات ریاستوں میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں وزیر اعظم اٹل بہاری واچپئی ذرائع ابلاغ کی توجہ کامرکز رہیں گے کیونکہ وہ بھی اس مرحلے میں اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم لکھنؤ میں اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ اب تک انتخابات پر ہونے والے عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس میں برابر کا مقابلہ ہے۔ انتخابات کے چوتھے مرحلے میں بھارت کی سات ریاستوں میں تراسی نشتوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔ بھارت کی لوک سبھا کی 543 نشتوں میں سے 278 پر تینوں مرحلوں میں پولنگ ہو چکی ہے جب کہ پانچویں اور آخری مرحلے میں دس مئی کو پولنگ ہو گی۔ انتخابات پر ہونے والے عوامی جائزوں کے مطابق پہلے تین مرحلوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پارٹی اتر پردیش میں زیادہ توجہ دے رہی ہے کیونکہ اس ریاست میں اسی نشتیں ہیں۔ پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما جن میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی شامل ہیں گزشتہ کئی ہفتوں سےاتر پردیش میں موجود رہے اور یہاں جلسوں اور انتخابی ریلیوں سے خطاب کر تے رہے۔ بدھ کو بھارت کی دور دراز ریاست ناگا لینڈ اور ارونچل پردیش میں بھی پولنگ ہو رہی ہے۔ ان ریاستوں میں بہت سی جگہوں پر سڑکیں نہیں ہیں اور انتخابی عملہ ہاتھیوں اور پیدل سفر کر کے ان ریاستوں کے دور دراز پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچا ہے۔ کچھ جگہوں پر بھارت کی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انتخابی عملے اور ساز وسامان کو پہنچایا گیا ہے۔ ان پانچوں مرحلوں میں ڈالئے گئے ووٹوں کی گنتی تیرہ مئی کو ہو گی اور اسی دن انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام ووٹ الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ڈالے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||