ووٹنگ مشین کی دھاندلی خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں عام انتخابات کی تاریخ جس قدر قریب آ رہی ہے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بابت شکوک شبہات کا اظہار بھی بڑھ رہا ہے۔خاص طور پر ریاست بہار اور اتر پردیش کے مقامی اخبارات سیاسی و سماجی کارکنوں کے خدشات کو برابر شائع کر رہے ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن ملک گیر سطح پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کرنے جا رہا ہے۔ کمیشن کو توقع ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین یا ای وی ایم کےاستعمال سے انتخابی دھاندلیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر آئی اے افسر اور اب تک بہار کے چیف الیکٹرل افسر رہے افضل امان اللہ کا خیال ہے کہ سارا انحصار نیت پر ہے۔ اگر پریذائیڈنگ افسر کی ملی بھگت ہو توای وی ایم کے ذریعے بھی ووٹنگ اتنی ہی اچھی یا بری ہو سکتی ہے جتنی روائتی طریقے کی تھی۔
ایڈمنسٹریٹو ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ‘ پٹنہ کے ایک اہلکار کہتے ہیں کہ ای وی ایم کے ذریعے انتخابی دھاندلی کتنی کامیاب ہو گی‘ اسے سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر دھاندلی ہوتی کس طرح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار میں ایک مشہورکہاوت ہے جس کے ذریعے اس عمل کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ’ چور کے آگے تالا اور بے ایمان کے آگے قبالہ۔ دونوں بے اثر‘۔ ان کے تجزئیے کے مطابق انتخابی دھاندلی کی دو صورتیں ہیں۔ بوگس ووٹنگ اور بوتھ پر قبضہ کے ذریعے۔ اکثرپولنگ بوتھ سے شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ایک ہی آدمی نے مختلف ناموں سے متعدد ووٹ ڈالے ہیں۔بھارتی الیکشن کمیشن اب تک سو فیصد ووٹروں کو شناختی کارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایسی صورت میں ای وی ایم ہو یا بیلٹ پیپر دھاندلی روکنا مشکل ہو گا۔ خاص طور پر اہلکار اگر چشم پوشی کرنےپر تیار ہو تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔ بوتھ پر قبضہ کی دو شکلیں ہیں۔ پریذائیڈنگ افسر کی مرضی نہ ہو تو بم‘ بندوق کے ذریعے اور وہ چشم پوشی کرے تو ’پرامن‘ قبضہ سے کسی کو اعتراض نہیں۔ الیکشن کمیشن نےای وی ایم کی جو چند خاص خوبیاں بتائی ہیں اس میں بزور قوت قبضہ کو روکنے کا طریقہ پہلے سے زیادہ مؤثر معلوم ہوتا ہے۔ اگر کسی پریذائیڈنگ افسر کوقبضہ کا خدشہ ہو تو وہ ای وی ایم کے ’close‘ بٹن کو دبا کر اسے روک سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس کے لئے بھی تھوڑی سی ہمت کرنا ہو گی ورنہ سر پر پستول رکھ کر کیا کچھ نہیں کرایا جا سکتا۔
ای وی ایم کی بابت جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ‘ وہ کتنے صحیح ہیں ان کا پتہ آئندہ چند ہفتوں میں لگ جائے گا مگر پچھلے سال ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے دوران راجھستان‘ مدھیہ پردیش اور چتھیس گڑھ سے جو شکایات ملیں ان سے ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ راجھستان کے کئی پولنگ بوتھوں سے اطلاعات ملیں کہ انتخابی اہلکار یہ بتانے کے لئے کہ بٹن کیسے دبانا ہے پہنچتے اور اپنی مرضی کا بٹن دبا دیتے اور باقی ووٹروں کو بھی ایسا ہی کرنے کو کہتے۔ کئی جگہوں پر مشین کو ری سٹ کرنے کی آواز پر ہی ووٹر کو کہ دیا جاتا کہ اس کا ووٹ ڈالا جا چکا۔ اسی طرح مدھیہ پردیش میں ووٹروں کو ایک خاص نمبر والے بٹن کو دبانے کو کہا جاتا۔ یہی نہیں ان سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر انہوں نے کوئی اور بٹن دبایا تو بجلی کا جھٹکا لگ جائے گا۔ دوسری جگہوں پر یہ بھی کہا گیا کہ بجلی گل رہنے کی وجہ سے ووٹر کے بٹن دبانےیا نہ دبانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لئے اگر وہ چاہیں تو اپنی پسند بتا دیں بجلی آنے پر ووٹ ڈال دیا جائے گا۔ ای وی ایم کے استعمال پر ایک اور اہم سوال اس کے ذریعے معلوم ہو جانے والی اس جانکاری کی بابت ہے کہ کس علاقے نے کسے ووٹ دیا۔ بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخاب میں تمام کاغذات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے گنا جاتا تھا۔ سماجی کارکن اس سلسلے میں اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس طرح سے ووٹنگ مخفی نہ رہنے سے کمزور طبقے کو بعد میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑ ساکتا ہے۔ سیاسی کارکن اس تکنیکی مسئلہ کی بھی نشان دھی کر رہے ہیں۔ ای وی ایم زیادہ سے زیادہ چونسٹھ امیدواروں کے نام درج کر سکتا ہے اگر تعداد اس سے بڑھ گئی تو بیلٹ پیپر کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کو بھی ان خدشات کا علم ہے۔ اس نے اس ضمن میں کافی معلومات بھی فراہم کی ہیں۔ مثلاً بجلی نہ ہونے کی صورت میں کیا ہو گا؟ اور کیا اس سے جٹھکا بھی لگ سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ چونکہ ای وی ایم پوری طرح بیٹری سے چلنے والی پلاسٹک کی مشین ہے اس لئے دونوں خدشات بے بنیاد ہیں۔ اونچی ذات کے پڑھے لکھے طبقے سے کوئی سرکاری اہلکار خاص بٹن دبانے کو نہیں کہ سکتا مگر ایک بڑا طبقہ جو مشین کے نام سے ہی گھبراتا ہے۔ جسے پہلے ذرا دھمکا کر ووٹنگ سے دور رکھا جاتا تھا اسے جٹھکے سے ڈرایا جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ سیاسی اور سماجی کارکن ای وی ایم کو کارگر بنانے کے لئے جو باتیں بتا رہے ہیں اسکی عکاسی سابق چیف الیکشن کمیشنر جے ایم لنگدوہ کے خیال سے بھی ہوتی ہے ۔ ان کے مطابق مشین تو ٹھیک ٹھاک ہے لیکن ووٹر میں آگہی لانے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت سرکاری اہلکار ٹریننگ لے رہے ہیں۔ ووٹروں کو جانکاری دینے کی ذمہ داری سیاسی کارکنوں پر چھوڑ دی گئی ہے۔ دوسری جانب اہلکاروں کی جانبداری روکنے کے لئے موجودہ چیف الیکشن کمیشنر ٹی ایس کرشنہ مورتی نے اعلان کیا ہے کہ انتخابی عمل کے لئے پچاس فیصد افسران دوسری ریاستوں سے ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||