بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا کی پانچ سو تنتالیس میں سے پہلے مرحلہ میں ایک سو چالیس نشستوں کے لئے منگل کے روز پولنگ مکمل ہو گئی۔ دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ نسل وادی انتہا پسندوں نے چتھیس گڑھ، آندھرا پردیش، بہار اور جھاڑ کھنڈ میں کئی جگہوں پر بم دھماکے کئے اور کئی پولنگ سٹیشنوں سے الیکٹرانک پولنگ مشینیں اٹھا کر لے گئے۔ ان پر تشدد واقعات میں انیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ انتخابات چار مرحلوں میں ہوں گے اور گنتی تیرہ مئی کو ہو گی۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کل سترہ کروڑ میں سے پچپن فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے دو حلقوں میں بھی پولنگ ہوئی اور الیکشن کمیشن کے مطابق چالیس فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ جموں و کشمیر کے حلقوں میں پولنگ شروع ہونے کے فوری بعد تشدد کے واقعات ہوئے اور ایک فوجی ہلاک ہو گیا اور چھ شہری زخمی ہوئے۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے تشدد کے ان واقعات کے باوجود انتخابات کو ماضی کے مقابلے میں پر امن قرار دیا ہے۔ ہندوستان میں پہلی مرتبہ تمام پولنگ الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں دیگر رہنماؤں کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم ایل کے ایڈوانی اور وزیرِ خارجہ یشونت سنہا کی قسمت بھی الیکٹرانک مشین میں بند ہو گئی ہے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ چھبیس اپریل کو ہو گی اور اس میں بہار کی سترہ، کرناٹک کی تیرہ، مہاراشٹر کی چودہ نشستوں کے علاوہ اتر پردیش کی اہم ریاست کے بتیس حلقوں کے لئے بھی ووٹنگ ہو گی۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد ٹی وی چینلز نے ایگزٹ پولز میں بتایا ہے کہ بی جے پی کے زیرِ قیادت قومی جمہوری اتحاد کو کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ دوسری مرتبہ اقتدار کی جانب گامزن ہے۔ تاہم انتخابی ماہرین نے عوام کہ یاد دلایا ہے کہ ایگزٹ پولز ہمیشہ صحیح ثابت نہیں ہوتے اور امریکہ کے گزشتہ انتخابات اور برطانیہ کے مسلسل تین انتخابات میں یہ غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||