بھارتی انتخابات: کچھ دلچسپ حقائق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں آج کل ملک کے چودہویں عام انتخابات ہو رہے ہیں اور منگل کے روز ان انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل بھی ہو گیا ہے۔ گزشتہ اور حالیہ انتخابات میں بہت سی باتیں مشترک ہیں لیکن اس مرتبہ انتخابات میں کچھ باتیں ماضی کے انتخابات سے مختلف بھی ہیں۔ مثلاً ان انتخابات میں گاندھی خاندان کی براہِ راست شرکت ہوئی ہے اور سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے پوتے راہول گاندھی بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ کئی فلمی ستارے بھی سیاسی میدان میں کود چکے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ دلی میں موجود صلاح الدین نے بھارت میں اب تک ہونے والے انتخابات کے بارے میں دلچسپ حقائق جمع کیئے ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ۔۔1988 میں میگھالیہ کے انتخابات میں دو امیدوار روسٹر سنگما اور چیمبر لائن مارک نے برابر ووٹ حاصل کیے تھے لیکن ریٹرنگ آفیسر نے سنگما کو کامیاب قرار دیا۔ کیوں؟ ریٹرنگ آفیسر نے فیصلے کے لیے ٹاس کیا جو سنگما کے حق میں نکلا۔ ۔۔مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی اور امریکہ کے صدر بش کی ریپبلکن پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی ایک ہی ہے۔ ۔۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا پہلی بار استعمال ریاست کیرالا میں کیا گیا۔ ایک ووٹنگ مشین میں زیادہ سے زیادہ چونسٹھ امیدواروں کے نشانات شامل کيے جا سکتے ہیں لیکن اگر امیدواروں کی تعداد زیادہ ہو تو پھر ووٹنگ بیلیٹ پیپر کے ذریعے ہوگی۔ ۔۔1996 کے اسمبلی انتخابات میں تمل ناڈو کے ایک حلقۂ انتخاب سے ایک ہزار تینتیس امیدوار میدان میں تھے جو ایک ریکارڈ ہے۔ موڈا کروچی نامی اس حلقے میں بیلیٹ پیپر ایک کتابچے کی شکل میں استعمال کیا گیا تھا۔ ۔۔پی وی نرسمہا راؤ ملک کےواحد ایسے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے ریاست مہاراشٹر سے بھی انتخاب جیتا ہے۔ ان کے حلقۂ انتخاب کا نام رام ٹیک تھا۔ ۔۔میزورم، سِکُم اور میگھالیہ سے صرف ایک ہی رکن منتخب ہوکر پارلیمان میں آتے ہیں۔
۔۔ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان منصور علی خان پٹودی [اداکار سیف علی خان کے والد] نے 1971 میں وشال ہریانہ پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑاتھا۔ ۔۔ایک وقت تھا کہ ریاست اترپردیش کو کانگریس پارٹی کا گڑھ مانا جاتا تھا لیکن 1998 کےعام انتخابات میں کانگریس وہاں سے ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکی تھی۔ ۔۔1977 میں ہندی فلموں کے مشہور اداکار دیوآنند نے مسز اندرا گاندھی کی مخالفت میں ایک قومی پارٹی تشکیل دی تھی۔ پارٹی کے قیام کے موقع پر ممبئی کے شیوا جی پارک میں ایک زبردست ریلی بھی منعقد ہوئی تھی جس میں مشہور قانون داں نانی پھالکی والا اور وجئے لکشمی پنڈت نے بھی شرکت کی تھی۔ تاہم دیوآنند کی وہ پارٹی ایک ماہ کے اندر ہی گمنام ہوکر رہ گئی اور عام انتخابات میں اسکا کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں اترا۔ ۔۔کا کا جوگندر سنگھ جو دھرتی پکڑ کے طور پر بھی مشہور ہیں، 25 بار لوک سبھا کے انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں۔ دھرتی پکڑ وی پی سنگھ اور راجیو گاندھی جیسے بڑے بڑے رہنماؤں کے خلاف امیدور رہے ہیں جن کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات کیے جاتے تھے تاکہ کہیں انکی ہلاکت کی وجہ سے انتخاب کالعدم قرار نہ دے دیئے جائیں ۔ ۔۔وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی واحد ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے یوپی ،گجرات، مدھیہ پردیش اور دلی جیسی مختلف ریاستوں سے لوک سبھا کےانتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ۔۔کسی بھی پولنگ بُوتھ پر سب سے کم ووٹنگ کا ریکارڈ اروناچل پردیش میں ضلع بوم ڈیلہ کا ہے جہاں ایک پولنگ بوتھ پر صرف تین ہی ووٹ ڈالے گئےتھے۔
۔۔ملک کے پہلے انتخابات کے لئے گودریج کمپنی نے 17 لاکھ بیلیٹ باکس بنائے تھے اور ایک باکس کے عوض حکومت سے پانچ روپے وصول کئے تھے۔ ۔۔آنجہانی مسز اندراگاندھی نے1977 میں اپنے خلاف جنتا پارٹی کے اتحاد کو بے ہنگم کھچڑی سے تعبیر کیا تھا اور بعد میں جب جنتا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو گئی، تو اس نے اپنے فتح کے جشن میں کئی جگہ کھچڑی تقسیم کروائی تھی۔ ۔۔99 19 میں مدھیہ پردیش کے انتخابات میں پہلی بار ایک خواجہ سرا نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ۔۔لکش دیپ ملک کا سب سے چھوٹا حلقۂ انتخاب ہے جہاں صرف 36 ہزار رائے دہندگان ہیں۔ ۔۔1950 کے انتخابات میں ہر امیدوار کے لئے بیلیٹ پیپر کے بجائے مختلف رنگوں کے الگ الگ بیلیٹ باکس استعمال کئے گئے تھے۔ ۔۔انتخابی مہم کے لئے پہلی بار جو فلم بنائی گئی تھی اسکا نام تھا پنڈت جواہر نہرو کا پیغام۔اس فلم کے ہدایت کار مینو مسانی تھے۔ ۔۔ آنجہانی مسز اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی، نہرو گاندھی خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے 1952 میں رائے بریلی سے انتخاب لڑکر کامیابی حاصل کی تھی۔ ۔۔1984 کے انتخابات میں رائے دہندگان نے سب سے زیادہ ووٹ ڈالے تھے جس میں 63.3 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ ۔۔57 19 میں اٹل بہاری واجپئی نے تین حلقوں سے انتخاب لڑا تھا۔ لکھنوء میں وہ ہارگئے تھے۔متھرا میں انکی ضمانت ضبط ہو گئی تھی لیکن بلرام پور سے وہ جیت گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||