لکھنؤ: واجپائی کا مضبوط قلعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی ایک بار پھر لکھنؤ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ لکھنؤ بھارتی مسلمانوں کے تشخص کی ایک مضبوط علامت سمجھا جاتا ہے۔ مسٹر واجپئی نے ماضی میں مسلسل چار مرتبہ بھارت کے اس شمالی شہر سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بادی النظر میں واجپائی کا لکھنو سے انتخاب لڑنا ان کے ایک قوم پرست جماعت کا رہنما ہونے کی وجہ سے کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ لکھنؤ اٹھارویں صدی میں مسلم تہذیب و تمدن کے مرکز کے طور پر مشہور تھا۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ کا اثر شہر کی خوبصورت تعمیرات کی صورت میں آج بھی نظر آتا ہے۔ یہ تعمیرات مسلمان حکمرانوں اور اشرافیہ کی سرپرستی کا نتیجہ ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لکھنؤ کا انتخاب مسٹر واجپئی جیسے سیاستدان کے لئے، جو ایک مقرر اور شاعر بھی ہیں، بہت موزوں ہے۔ وزیراعظم کے قریبی دوست اور مقامی رہنما لال جی ٹنڈن کے مطابق مسٹر واجپئی کے لکھنؤ کے ساتھ بڑے مضبوط ناطے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’ یہ وہی شہر ہے جہاں سے انہوں نے نہ صرف اپنے کیریر کا آغاز ایک صحافی کے طور پر کیا تھا بلکہ یہ شہر ان کی شاعری کا محرک بھی تھا‘ یہی وجہ تھی کہ مسٹر واجپئی نے اپنی زندگی کا سب سے پہلا انتخاب انیس سو چون میں لکھنؤ سے لڑا جس میں انہیں شکست ہوئی۔ لیکن حالیہ سالوں میں یہ شہر مسٹر واجپئی پر خاصا مہربان رہا ہے۔
لکھنؤ کے سو سالہ پرانے مشہور ٹنڈے میاں کباب ریستوراں کے مالک رئیس احمد کے مطابق باہر سے آنے والوں کو خوش آمدید کہنا اہل لکھنؤ کی پرانی روایت ہے۔ لکھنؤ یورنیورسٹی کے پروفیسر متین خان کا کہنا ہے: ’ لکھنؤ میں مسلمان حکمرانوں کے زمانے سے مختلف قومیں اکٹھی رہ رہی ہیں‘ ’ انیس سو بانوے کے مذہبی فسادات کے وقت بھی لکھنؤ بالکل پرامن رہا تھا۔ ان فسادات میں بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا‘ مسٹر واجپائی کی پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششوں سے بھی لکھنؤ میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک مقامی دکاندار جمیل اختر کے مطابق مسٹر واجپئی باقی رہنماؤں سے مختلف ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کوئی امتیاز نہیں برتتے اور سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے: ’میری خالہ اور بہت سے دوسرے رشتہ دار کراچی میں رہتے ہیں۔ میں انیس سو چوراسی سے انہیں نہیں ملا۔ لیکن اب مجھے امید ہے کہ ان گرمیوں میں میں انہیں مل سکوں گا‘ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس پر تمام عمر اور طبقوں کے لوگ انتہائی خوش ہیں۔ اٹھارہ سالہ سونل سمن نے لکھنؤ کے جدید حصے میں واقع ایک کیفے میں کافی پیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ بڑے شوق سے دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ میں واجپئی کو پاکستان کے ساتھ دوستی کے فروغ کی کوششوں کی وجہ سے پسند کرتی ہوں کیونکہ جنگ کے ذریعہ کچھ حاصل نہیں کیا سکتا۔ میں یقینّا واجپئی کو ووٹ دوں گی‘
لکھنؤ کی کشادہ سڑکوں اور اس کا حال میں ہی صاف کیا گیا دریا اس بات کا ثبوت ہے کہ حلقے کی نمائندگی اگر کوئی سیاسی طور پر نمایاں شخصیت کرے تو اس سے حلقہ کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ شہر کی ایک مرکزی مارکیٹ میں تازہ جوس بیچنے والے راج کمار کا کہنا ہے: ’یہ ہماری بڑی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے حلقے کی نمائندگی ملک کا وزیراعظم کر رہا ہے‘ ایک اور شہری نشاط ورمہ کا کہنا ہے: ’ شہر میں پیسہ آ رہا ہے جس کا ثبوت شہر کی پہلے سے بہتر سڑکوں، پارکوں اور سٹریٹ لائٹیں ہیں‘ ایک اور شہری پرکاش کے مطابق اس سارے عمل کا ایک ضمنی فائدہ یہ ہوا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی ووٹروں کا دل جیتنے کے لئے شہر پر اچھاخاصا پیسہ خرچ کر رہی ہیں۔ لکھنؤ ریاست اترپردیش کا دارالحکومت ہے جہاں پچھلے کچھ برسوں سے مسٹر واجپئی کی جماعت بی جے پی کی مخالف جماعتوں کی حکومت ہے۔ لیکن کچھ اور لوگ کے خیالات مسٹر واجپئی کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ چوبیس سالہ نٹن وھال کہتے ہیں: ’ میں ایک نوجوان سیاستدان کو ترجیح دوں گا جو ہمارے مسائل کا منفرد حل تجویز کر سکتا ہو‘ لکھنؤ کے ایک تاجر مسٹر پربھات گارگ کا مسٹر واجپئی کو مشورہ ہے: ’سیاستدانوں کو قومی مفاد میں مذہب، ذات اور جماعتی تعصبات سے بلند ہو نا پڑے گا‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||