اگر میں انڈیا کا وزیراعظم ہوتا۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ یہاں عام انتخابات بیس اپریل سے دس مئی کےدوران چار مراحل میں منعقد ہورہے ہیں۔ ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لئےلگ بھگ پینسٹھ کروڑ لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ ہم نے ووٹروں سے پوچھا کہ اگر وہ وزیراعظم ہوتے تو ان کی ترجیحات کیا ہوتیں۔ آپ بھی ہمیں اپنے خیالات بھیجیں۔ اگر آپ اپنی تصویر بھی شائع کرانا چاہتے ہیں تو پتہ ہے: [email protected] نرسِمہن، عمر بائیس سال، بزنس اسٹوڈنٹ، لکھنؤ
میری سب سے پہلی ترجیح ہوگی کہ انڈیا۔پاکستان کے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔ ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ملنے کے مواقع ملنے چاہئیں جو ابھی دستیاب نہیں ہیں۔ ہم اپنے موقف پر اڑے رہتے ہیں۔ ہمیں ایک مشترکہ فورم میں ایک دوسرے سے بات کرنے کی ضرورت ہے چاہے اس کے لئے ہمیں تیسری پارٹی کی مدد حاصل کرنی پڑے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ایک ساتھ بیٹھیں اور اپنے تنازعات دور کرنے کی کوشش کریں۔ ورنہ ہمارے مسائل اگلے پچاس یا سو برسوں تک سلگتے رہیں گے۔ یہ آسان کام نہیں ہے لیکن اہمیں ایسا کرنا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو جیسے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینیجمنٹ جہاں میں طالب علم ہوں، اس بات کا حق ہونا چاہئے کہ وہ خود ہی فیصلہ کریں کہ ان کے وسائل کہاں سے آئیں گے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے میری کوشش ہوگی کہ ہم حکومت کو اعلی تعلیم کے شعبے سے باہر رکھیں۔ اور میں غربت کے خاتمے کے لئے کام کروں گا۔ ونیتا مِردھا، عمر اکیس سال، نوکرانی، نئی دہلی
یہ مضحکہ خیز لگتا ہے کہ اگر میں ملک کی وزیراعظم ہوتی تو کیا کرتی۔۔۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں ملک میں امن اور بھائی چارہ قائم کرنے کی کوشش کرتی۔ (ریاست مغربی بنگال میں) میری پرورِش کچھ ایسے ماحول میں ہوئی جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان تشدد اور قتل کے واردات عام تھے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ پارٹیوں کی سیاست اس گھناؤنے سطح تک کیوں گرجاتی ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے میری پہلی ترجیح ہوگی کہ میں اپنا گھر اور ملک کے گاؤوں کو پرامن بناؤں، سیاسی قتل کا خاتمہ کروں، اور قانون نافذ کروں۔ تب ہم سبھی گاؤں میں پرامن طریقے سے رہ سکیں گے۔ مجھے غربت پسند نہیں ہے۔ مجھے اس سے نفرت ہے، میں امیر بننا چاہتی ہوں۔ میں بہت سارے پیسے کمانا چاہتی ہوں اور اسے خرچ کرنا چاہتی ہوں۔ اگر ملک کا انتظام میرے ہاتھ میں ہو تو میں وہ راستے تلاش کروں گی جن کے ذریعے لوگ امیر بن سکیں۔ لیکن جو میری حقیقت ہے، مجھے لگتا ہے کہ میں غریب ہی رہوں گی۔ امیری تک کے لئے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے زیادہ نوکریوں کے لئے کوشش کروں گی۔ ورنہ ہمیں روزی روٹی کی تلاش میں خانہ بدوش کی حیثیت سے جگہ جگہ کا سفر کرنا پڑے گا۔ سوہاس پربھو، عمر پینتیس سال، بزنس مین، ممبئی
وزیراعظم کی حیثیت سے سب سے پہلے میں وسائل کی بہتری چاہوں گا۔ کتنی شرمناک بات ہے، سڑکیں تباہ ہیں، میں روزانہ ڈرائیو کرتا ہوں، ٹریفِک کے مسائل ہیں، اور اس سب کی وجہ بدعنوانیاں ہیں۔ اور انڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ آج کرپشن ہی ہے۔ آپ کو ہر کام کرانے کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے۔ ہم خود ہی کرپشن کے لئے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم رشوت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب مجھے ٹریفِک پر کسی غلطی کی وجہ سے پولیس والا روکتا ہے تو میں اسے اپنا ڈرائیوِنگ لائسنس دینے کے بجائے پیسہ دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن آج سے میں نے ایسا کرنا بند کردیا ہے۔ ہم سب ایک فرد کی حیثیت سے یہ فیصلہ کریں کہ رِشوت نہیں دینگے۔ کیونکہ ہمارے اسی رویے سے ہی کرپشن بڑھ جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ اسی وقت بہتر ہوگا جب کرپشن ختم ہو۔ میں لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر بنانے کی کوشش کروں گا تاکہ رِشوت دینے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ جئیش کانجی پٹیل، عمر چالیس سال، ماہی گیر، گجرات
اگر میں وزیراعظم ہوتا تو ملک کے تمام گاؤوں کو جوڑنے کے لئے روڈ تعمیر کراتا۔ یہ گاؤں ہی تو ہیں جہاں انڈیا کے بیشتر عوام بستے ہیں۔ میری ترجیح یہ بھی ہوگی کہ تمام غریب لوگوں کے لئے مٹی کے مکان کی جگہ اینٹ اور کنکریٹ کے مکانات بنوائے جائیں۔ لیکن سب سے اہم کام جو میں وزیراعظم کی حیثیت سے کرنا چاہوں گا وہ یہ ہوگا ان تمام ماہی گیروں کو رہا کروانے کی کوشش کروں جو پاکستان کے جیلوں میں قید ہیں۔ ہر ماہ کئی ماہی گیر پاکستان کے سمندر میں غیردانستہ طور پر داخل ہوجانے کے بعد گرفتار کرلیے جاتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کے ساتھ ملکر میں یہ کوشش کرنا چاہوں گا کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔ نِشا باگلے، عمر اٹھاون سال، وکیل، ناگپور
اگر میں وزیراعظم ہوتی تو بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتی اور ملک میں تبدیلیاں لاتی۔ میں نچلی اور پسماندہ طبقات اور غیرتعلیم یافتہ عوام کے لئے پالیسیوں پر عمل کرتی۔ میں سب کو تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کرتی۔ میں ان لوگوں پر زیادہ توجہ دیتی جو غریب ہیں اور دیہاتوں میں بستے ہیں۔ میں بیروزگار لوگوں کو نوکریاں دیتی۔ غریب لوگوں کی مدد کرتی، سب کو تعلیم مہیا کرتی۔ ملک کے غریب لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ہے۔ ان کے لئے آزادی سے اب تک کسی نے کچھ نہیں کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||