BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 April, 2004, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگریس کو کرشمے کا انتظار

سونیا گاندھی کی کانگریس کو کوئی چمتکار ہی بچا سکتا ہے
سونیا گاندھی کی کانگریس کو کوئی چمتکار ہی بچا سکتا ہے
مرکزی ریاست چھتیس گڑھ میں لوگ پہلی بار ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لئے ووٹ دینگے۔ چند سال قبل ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے چھتیس گڑھ کو ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔

کبھی کانگریس کا گڑھ سمجھی جانے والی اس ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر حکمراں اتحاد ثابت ہونے جارہی ہے۔ گزشتہ سال کے اسمبلی الیکشن میں اس نے کانگریس کی حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

اس بار انتخابات میں جیتنے کا مطلب یہ ہوگا کہ راجستھان، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، آندھر پردیش، اڑیسہ اور جھارکھنڈ کی جو قبائلی پٹی ہے اس پر بی جے پی کا پرچم لہرانے کا ہندو پرست تنظیموں کا خواب پورا ہوجائے گا۔

چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو کامیابی نہ تو اچانک ہوئی ہے اور نہ ہی حیران کن ہے۔ چھتیس گڑھ ان علاقوں میں سے ہے جہاں کانگریس کا زور سب سے آخر میں ختم ہوا ہے۔

گیارہ نشستوں کا حساب
وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل کے بعد بھی کانگریس کو انیس سو اکیانوے کے انتخابات میں ہندی بیلٹ کے کافی علاقوں میں شکست ہوئی تھی لیکن چھتیس گڑھ واحد علاقہ تھا جہاں کانگریس نے مخالفین کا بالکل صفایا کردیا تھا۔

کانگریس کی مشکلات
 ریاست میں بی جی پی کی حالیہ کامیابی، نئی حکومت کی جانب سے غریبوں کے لئے مراعات کے اعلانات، راشٹروادی کانگریس کی بی جے پی میں شمولیت، حزب اختلاف کانگریس میں افراتفری کا عالم، وغیرہ کانگریس کے نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
یوگندر یادو

کانگریس نے یہاں کی کل گیارہ پارلیمانی نشستیں جیت لی تھیں اور اس کو بی جے پی کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ووٹ ملے تھے۔ لیکن اس کے بعد بی جے پی نے لوک سبھا کے ہر الیکشن میں اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا، صرف چھتیس گڑھ میں ہی نہیں بلکہ پورے مدھیہ پردیش میں۔

ساتھ ساتھ کانگریس کے مقابلے میں بی جے پی کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ انیس سو چھیانوے میں کانگریس پر بی جے پی کو صرف ایک فیصد ووٹ کی برتری تھی، جو بڑھ کر تین فیصد اور پھر چار فیصد ہوگئی۔ لیکن اس دور میں ہونیوالے اسمبلی انتخابات میں بی جی پی کی مقبولیت واضح نہیں ہوپارہی تھی۔

لہذا اسمبلی انتخابات میں کانگریس کامیاب رہتی رہی۔ لیکن دسمبر دو ہزار تین میں ہونیوالے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کا زور ٹوٹا اور بی جے پی نے چھتیس گڑھ کے اقتدار پر غیرمتوقع طور پر قبضہ جمالیا۔

پھر بھی اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ بی جے پی کو ووٹوں کے لحاظ سے کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ یعنی اس کے ووٹوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس نے اسمبلی کی نوے نشستوں میں سے انچاس پر کامیابی حاصل کی لیکن اسے صرف انتالیس فیصد ووٹ ملے جو کانگریس کے ووٹ سے صرف تین فیصد زیادہ ہے۔

چھتیس گڑھ میں جنوبی علاقے کے قبائلی ووٹروں میں اگر کانگریس کی مقبولیت برقرار رہی ہوتی تو وہ یہ اسمبلی الیکشن جیت جاتی۔ اگر کانگریس نے وِدیا چرن شُکل کی سربراہی والی چھوٹی جماعت راشٹروادی کانگریس سے گٹھ جوڑ کی ہوتی تو بی جے پی کامیاب نہیں ہوتی۔

لہذا اگر ہم گزشتہ دسمبر میں بی جے پی اور کانگریس کو ملنے والے ووٹوں کا جائزہ لیا جائے تو چھتیس گڑھ میں مقابلہ سخت ہے۔ گزشتہ دسمبر کی طرح ہی اس بار بھی ووٹِنگ ہوئی تو بی جے پی کو لوک سبھا کی گیارہ میں صرف سات سیٹیں مل سکتی ہیں، جو کہ گزشتہ لوک سبھا کے نتیجوں سے ایک کم ہے۔

لیکن اس بار اگر بی جے پی دو فیصد زیاودہ ووٹ حاصل کرلے تو اس کی پرانی کامیابی برقرار رہے گی۔ اور اگر دو فیصد مزید ووٹ حاصل کرلے تو اسے دس سیٹیں مل جائیں گی۔

امکانات اور نئی حکومت
دوسری جانب کانگریس کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اگر اسے گزشتہ دسمبر کے مقابلے میں اب دو فیصد زیادہ ووٹ ملے تو اسے چھ پارلیمانی سیٹیں ملیں گی اور بی جے پی کی صرف پانچ رہ جائیں گی۔

اور اگر کانگریس کے حق میں چار فیصد ووٹ زیادہ پڑے تو اسے سات پارلیمانی نشستیں مل جائیں گی۔ لیکن کانگریس کا المیہ یہ ہے کہ چھتیس گڑھ کی سیاست میں زمینی حقائق اس کے لئے تلخ ہیں۔

بی جے پی کیلئے نئے مواقع
 بی جے پی کی قومی قیادت نئے مواقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ بی جے پی کے رہنما کوشش کررہے ہیں کہ انہیں وہ سات فیصد ووٹ بھی مل جائیں جو گزشتہ دسمبر کے اسمبلی انتخابات میں راشٹروادی کانگریس کے کھاتے میں گئے تھے۔ ساتھ ہی قبائلی رہنما اروِند نیتم اور راشٹروادی کانگریس کے رہنما وِدیا چرن شُکل کو بی جے میں شامل کرلیا گیا ہے۔
یوگندر یادو

چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی فتح کا ہنی مون ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ لوک سبھا کے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے چوبیس پیسے کلو نمک، غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے پچاس ہزار خاندانوں کو مفت گیس کنیکشن، دال-چاول مراکز پر پانچ روپئے میں بھرپور کھانا، کسانوں کو تیس ہزار روپئے تک کے قرض کی معافی جیسی مراعات دینے کا اعلان کردیا ہے۔

بی جے پی کی حکومت نے قبائلیوں کو وہ زمین پٹّے پر دینے کا اعلان بھی کیا جو ان کی اراضی میں ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ان منصوبوں پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ نے قبائلیوں کو زمین پٹّے پر دینے کے خلاف روک لگادی ہے۔

لیکن اپریل اور مئی میں ہونیوالے انتخابات تک کے لئے حکومت کے یہ اعلانات ووٹروں کے لئے کشش کا باعث ضرور ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ووٹر اتنے کم وقت میں کسی نئی حکومت کو سزا نہیں دیتے۔ یہ بھی خیال میں رکھنے والی بات ہے کہ دسمبر کے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں کانگریس شدید اختلافات کا شکار ہے۔

کانگریس نے اپنے رہنما اور سابق وزیراعلی اجیت جوگی کو پارٹی سے اس لئے معطل کردیا تھا کہ اسمبلی انتخابات میں ناکامی ہوئی، ان پر پارٹی کو سختی سے چلانے کا الزام تھا، اور یہ بھی الزامات عائد کیے گئے کہ انہوں نے بی جے پی کے رہنماؤں کو اسمبلی الیکشن کے دوران خریدنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب بی جے پی نے یہاں پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب کو بڑی خوبی سے نبھالیا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی اتنے اعتماد میں ہے کہ وہ اپنے ایک بدنام رہنما دلیپ سِنگھ جودیو کو بھی انتخابی میدان میں اتارنے پر غور کررہی ہے۔

بی جے پی کی قومی قیادت نئے مواقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ بی جے پی کے رہنما کوشش کررہے ہیں کہ انہیں وہ سات فیصد ووٹ بھی مل جائیں جو گزشتہ دسمبر کے اسمبلی انتخابات میں راشٹروادی کانگریس کے کھاتے میں گئے تھے۔ ساتھ ہی قبائلی رہنما اروِند نیتم اور راشٹروادی کانگریس کے رہنما وِدیا چرن شُکل کو بی جے میں شامل کرلیا گیا ہے۔

ریاست میں بی جی پی کی حالیہ کامیابی، نئی حکومت کی جانب سے غریبوں کے لئے مراعات کے اعلانات، راشٹروادی کانگریس کی بی جے پی میں شمولیت، حزب اختلاف کانگریس میں افراتفری کا عالم، وغیرہ کانگریس کے نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

چھتیس گڑھ میں کانگریس کو کوئی چمتکار ہی کامیابی دلا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد