BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 April, 2004, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: انتخابی امکانات سے بھر پور

وزیراعلی نریندر مودی فسادات کی وجہ سے متنازع رہے ہیں
وزیراعلی نریندر مودی فسادات کی وجہ سے متنازع رہے ہیں
ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات کو پوری دنیا میں ’گجرات‘ کے بعد کا پہلا چناؤ مانا جارہا ہے۔ تمام لوگ یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ عام انتخابات کے نتیجوں پر گجرات کے واقعات کا کیا اثر ہوتا ہے۔ لیکن خود ریاست گجرات کے لئے لوک سبھا کے انتخاب کا ایک الگ ہی مطلب ہے۔ گجرات کیلئے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ سن دو ہزار دو کے فسادات کو پیچھے چھوڑ کر سیاست کے عوامی دھارے میں واپس لوٹے۔

صرف اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ انتخابی اکھاڑے میں حکمران جماعت بی جے پی کی حالت بہتر ہے۔ ریاست میں بی جے پی کا اثر اتنا زیادہ ہے کہ اسے گزشتہ پندرہ برسوں میں اتنا اثر کسی بھی ریاست میں نہ تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گجرات بی جے پی یا سخت گیر ہندو تنظیم جن سنگھ کا گڑھ کبھی نہیں رہا ہے۔

انیس سو اکیانوے کے لوک سبھا کے انتخاب کے بعد بی جے پی نے ریاست میں ہونیوالے ہر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی یعنی وِدھان سبھا کے الیکشن میں بھاری کامیابی حاصل کی ہے۔ ہر انتخاب میں بی جے پی کی ووٹوں میں دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ریاست سے چھبیس پارلیمانی نشستوں میں سے اس نے بیس سیٹیں جیتیں ہیں۔

بہار کی حکمران جماعت راشٹریہ جنتا دل اور مغربی بنگال کی برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کی طرح گجرات کی بی جے پی حکومت نے ایک عشرے تک ریاست کے سیاسی اقتدار پر اپنا قبضہ بنائے رکھا ہے۔

کانگریس۔۔۔۔؟
 سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس ان مواقع کا فائدہ اٹھانے کی حالت میں ہے؟ کانگریس کو ریاست میں اہم کامیابی انیس سو پچاسی میں ملی تھی، وہ بھی اس لئے کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی کا قتل ہوگیا تھا۔ بی جے پی کی آمد کے بعد سے کانگریس نے اس سے لڑنے کی نہ تو طاقت دکھائی ہے، نہ ہی اخلاقی قوت یا نظریاتی سوجھ بوجھ۔
یوگندر یادو

لیکن انتخابی اعداد و شمار ہی سب کچھ نہیں بتاتے۔ اصلیت یہ ہے کہ انیس سو پچانوے میں اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کو عوام کی ناراضگی اٹھانی پڑتی رہی جو ہر بار انتخابات میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لحاظ سے اس سال کا انتخاب گجرات میں مختلف ہوگا۔

عرصے کے بعد پہلی بار یہ انتخاب جذباتی ماحول میں نہیں ہورہا ہے۔ اس بار نہ تو کارگل کی لڑائی ہے۔۔۔، نہ گودھرا کا ٹرین حادثہ اور نہ ہی اس کے بعد ہونیوالے فسادات کا مسئلہ انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ اس لئے یہ بی جے پی کے لئے یہ انتخاب مشکل ہوسکتا ہے۔

ریاست میں بی جے پی کی حالت اتنی بہتر نہیں ہے جتنا اوپر سے دکھائی دیتی ہے۔ اگر دوہزار دو میں ہونیوالے اسمبلی انتخابات میں اپنی کامیابی کو بی جے پی اس سال بھی دہراتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس کی ریاست سے لوک سبھا کی سیٹیں بیس سے بڑھ کر چوبیس ہوجائیں گی۔ ریاست میں کل چھبیس نشستیں ہیں۔

لیکن اگر بی جے پی کے ووٹوں میں کمی آنی شروع ہو تو سیٹیں بھی بڑی تیزی سے اس کے ہاتھ سے نکلنا شروع ہونگی۔ اگر صرف دو فیصد ووٹ بھی کم ہوئے تو اس کی پانچ نشستیں کم ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں کانگریس اس مقام پر آجائے گی جہاں وہ گزشتہ انتخاب میں تھی۔

اگر بی جے پی کو دو فیصد مزید ووٹوں کا نقصان ہو تو مزید سات نشستوں کا نقصان ہوگا۔ ایسے میں کانگریس کی چودہ اور بی جے پی کی بارہ نشستیں رہ جائیں گی۔ اور بی جے پی کے ووٹوں میں دو فیصد اور کمی آئے یعنی کل ملاکر چھ فیصد تو کانگریس کے حق میں لہر ہوگی جس کی وجہ سے کانگریس کو اٹھارہ پارلیمانی نشستیں حاصل ہوجائیں گی۔

حکومتوں کی مقبولیت میں معمولی گڑبڑ کے باعث چار سے چھ فیصد ووٹوں کا نقصان کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ بی جے پی ریاست کے سوراشٹر، کچھ اور شمالی گجرات میں اچھی کارکردگی کے باعث اقتدار میں آئی تھی۔ سوراشٹر-کچھ کے علاقے میں لوک سبھا کی نو سیٹیں ہیں اور شمالی گجرات میں سات۔

بی جے پی رہنما شنکر سِنگھ واگھیلا کی پارٹی سے بغاوت کا اثر براہ راست شمالی گجرات پر پڑا تھا جبکہ جماعت سے عوام کا عدم اطمینان اور بی جے پی کے ریاستی رہنما کیشو بھائی پٹیل کی ناراضگی نے سوراشٹر-کچھ کے علاقے میں اپنا اثر دکھایا۔ یہاں بی جے پی کو جو کچھ بھی نقصان ہوا وہ اس نے مرکزی گجرات میں کانگریس کے علاقے میں کامیابی حاصل کرکے پوری کی تھی۔

اس بار انتخابی میدان میں جذباتی ایشوز نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے لئے ایک خطرہ ہے، ووٹروں کی سوچ میں تھوڑی سی بھی تبدیلی آئی تو سوراشٹر اور شمالی گجرات کے گاؤں میں اسے بھاری نقصان ہوسکتا ہے۔

بہت مشکل سے بی جے پی نے جو سماجی گٹھ جوڑ ریاست میں قائم کی ہے وہ اس بار دباؤ میں ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کے اس سماجی گٹھ جوڑ کو نقصان پہنچایا تھا جو چھتریہ، ہریجن، آدیواسی اور مسلمان یعنی ’کھام‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پھر بی جے پی نے چھتریہ طبقے کے لوگوں کے ساتھ نہایت پچھڑے طبقات اور پٹیلوں کو ملاکر اپنا سماجی گٹھ جوڑ پیدا کیا۔ بی جے پی کا یہ فارمولا انتخابات میں کامیاب رہا۔

عوام کی ناراضگی؟
 لیکن انتخابی اعداد و شمار ہی سب کچھ نہیں بتاتے۔ اصلیت یہ ہے کہ انیس سو پچانوے میں اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کو عوام کی ناراضگی اٹھانی پڑتی رہی جو ہر بار انتخابات میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لحاظ سے اس سال کا انتخاب گجرات میں مختلف ہوگا۔
یوگندر یادو

اونچے طبقات میں بی جے پی کی حمایت برقرار ہے لیکن پٹیل برادری کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ان کے رہنما کیشو بھائی پٹیل کو بی جے پی نے جماعتی سیاست میں حاشیے پر رکھا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی آٹھ فیصد ہے اور دو سال قبل ہونیوالے فسادات کے زخم اب بھی تازہ ہیں۔ ریاست میں دلتوں کی آبادی نو فیصد ہے اور وہ کانگریس کے حامی ہیں۔ مرکزی گجرات کے علاوہ دیگر علاقوں کے آدیواسی بھی کانگریس کی حمایت کرتے ہیں۔

اس صورت میں اگر کانگریس کو چھتریہ برادری کے اپنے پرانے ووٹ تھوڑی تعداد میں بھی مل جائیں تو وہ بی جے پی کے گڑھ پر دھاوا بول سکتی ہے۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کسانوں میں جو غصہ پایا جاتا ہے اس سے کانگریس کو ایک اہم موقع ملا ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ المیہ ہی ہے کہ اس معاملات کو اس کی حمایتی تنظیم بھارتیہ کسان سنگھ نے اٹھایا ہے۔ بی جے پی نے کسی طرح سمجھوتہ تو کرادیا لیکن یہ معاملہ ابھی بھی حل نہیں ہوا ہے۔

بی جے پی ریاستی شاخ میں شدید اختلافات موجود ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ کیشو بھائی پٹیل کی ناراضگی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔ بی جے پی کے ایک اور رہنما پروشوتم سولنکی جنہوں نے کولی طبقے کے لئے زیادہ انتخابی ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھا، اب بھی ناراض ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ’برادری پارٹی سے بڑی ہے۔‘

پارٹی میں اختلافات کی وجہ سے وزیراعلی نریندر مودی نہ تو اپنی کابینہ کا توسیع کرسکے ہیں اور نہ ہی کارپوریشن کا قیام۔ اسمبلی انتخابات کے بعد مقامی انتظامیہ کے لئے ہونیوالے انتخابات میں بی جے پی کو نقصان بھی ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس ان مواقع کا فائدہ اٹھانے کی حالت میں ہے؟ کانگریس کو ریاست میں اہم کامیابی انیس سو پچاسی میں ملی تھی۔ بی جے پی کی آمد کے بعد سے کانگریس نے اس سے لڑنے کی نہ تو طاقت دکھائی ہے، نہ ہی اخلاقی قوت یا نظریاتی سوجھ بوجھ۔

یہ معاملات گزشتہ اسمبلی الیکشن میں ابھر کر سامنے آئے تھے۔ بی جے پی سے لڑنے کی طاقت صرف شنکر سِنگھ واگھیلا نے دکھائی تھی جو کہ سابق بی جے پی رہنما ہیں اور اب کانگریس میں ہیں۔ انہوں نے ’شکتی سینا‘ منظم کی تھی لیکن کانگریس کے رہنماؤں نے ان کی مخالفت کی تھی۔

اب کانگریس نے شنکر سِنگھ واگھیلا کو کنارے لگادیا ہے اور بی کے گڈھوی کو ریاست میں اپنا سربراہ بنایا ہے۔

اگر کانگریس نے ہوشیاری سے ٹکٹ تقسیم کی اور تنظیمی چوکسی دکھائی تو وہ اپنے پرانے ریکارڈ سدھار سکتی ہے۔ ورنہ مقابلہ بی جے پی بنام بی جے پی ہی رہے گا، چاہے ووٹر ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ ووٹر کبھی کبھی ووٹ دینا ضروری بھی نہیں سمجھتے۔

حالیہ برسوں میں ووٹِنگ کی شرح سب سے کم ریاست گجرات میں رہی ہے جہاں انیس سو ننانے کے لوک سبھا الیکشن میں صرف چھتیس فیصد ووٹِنگ ہوئی تھی۔

اگر کچھ ایسا ہوا تو بہت سے امکانات گڑبڑ ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد