BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جموں وکشمیر: ایک چیلنج

کشمیر ہائیوے پراجیکٹ: سیاست حقیقت کی راہ میں؟
کشمیر ہائیوے پراجیکٹ: سیاست حقیقت کی راہ میں؟
جموں و کشمیر میں پارلیمان کی صرف چھ نشستیں ہیں، لہذا ریاستی سیاست کا لوک سبھا کے چناؤ پر کوئی اہم اثر نہیں ہوگا۔ لیکن یہاں انتخابات میں جو کچھ بھی ہوگا ریاست میں جمہوری سیاست کے مستقبل پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ لیکن اس بار جموں و کشمیر میں پارلیمانی انتخابات اس معنی میں زیادہ اہم ہیں کہ یہاں انتخابی سیاست اسی رنگ میں سامنے آئےگی جیسا کہ پورے ملک میں بڑے مزے سے ہوتی ہے۔

اور اگر یہ ہوا تو یقینی طور پر سن دو ہزار دو میں ہونیوالے اسمبلی انتخابات تاریخ ساز ثابت ہونگے۔ اس سے پہلے کے انتخابات میں، بالخصوص انیس سو ستاسی کے اسمبلی چناؤ میں، ووٹِنگ کے دوران دھاندلی اور دوسری بدعنوانیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو مانتے ہیں کہ انیس سو ستتر کو چھوڑ کر جموں و کشمیر میں تمام انتخابات میں غلط ووٹِنگ ہوئی تھی اور حکمراں جماعت زور زبردستی کراتی تھی۔

سچائی جو بھی جو لیکن دوہزار دو میں غیرمتوقع طور پر ہونیوالا صاف ستھرا اسمبلی الیکشن ریاست کے لوگوں کے لئے بھی تبدیلی کا احساس کرانیوالا تھا۔ اور اسی لئے یہاں ایک ایسا راستہ کھلا ہے جو ایک پرجوش عام انتخابی مہم کی طرف جاتا ہے۔ اس سال کے انتخابات میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ ریاست میں، بالخصوص وادئ کشمیر میں، پرجوش انتخابی مقابلہ ہوتا ہے یا نہیں، جیسا کہ پورے ملک میں عام ہے۔

تین علاقے: وادئ کشمیر، جموں، لداخ
جموں و کشمیر میں عام انتخابی سیاست کے عمل کے معنی ریاست کے تینوں علاقوں کے لئے الگ الگ ہیں۔ ریاست میں تین علاقے ہیں: وادئ کشمیر، جموں اور لداخ۔ ان تینوں علاقوں کی مذہبی اور معاشرتی بناوٹ مختلف ہے جس کی وجہ سے ان کی سیاست بھی علیحدہ ہوتی ہے۔ ان کی اپنی اپنی روِش ہے، ان کی اپنی اپنی فطرت ہے۔

پی ڈی پی بمقابلہ نیشنل کانفرس
 پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کے متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ پی ڈی پی کی رہنما مفتی محبوبہ نے اس بات میں کامیابی پائی ہے کہ کشمیری لوگ ان کی پارٹی کو اپنا تصور کریں اور نیشنل کانفرنس کا ریاستی سیاست میں مرکزی کردار ختم ہو۔ لیکن ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ بھی بہت کوشش میں ہیں کہ ان کی جماعت کی حمایت برقرار رہے۔
یوگندر یادو

اس لحاظ سے لوک سبھا کے چناؤ ایک ریاست میں ہی الگ الگ علاقوں میں تین طرح کے پہلوانوں کی الگ الگ کُشتی ثابت ہوگی۔ جموں و کشمیر کے مخلتف فرقوں کی زندگی میں سیاست کے عملی دخل پر بھی اس بار کی سیاست کا بہت بڑا اور مختلف اثر ہوگا۔ ریاست کی چھ پارلیمانی نشستوں میں سے تین سیٹوں والی وادئ کشمیر میں عوام کا مذہب اور ثقافت یکساں ہے۔

وادئ کشمیر
یہاں ہندوؤں کی آبادی مشکل سے پانچ فیصد ہوگی جبکہ مسلمانوں کا حصہ پچانوے فیصد ہے۔ ان میں بھی کشمیری زبان بولنے والوں کا حصہ کافی بڑا ہے۔ گجروں، پہاڑیوں اور شیعہ فرقے کی تعداد کم ہیں۔

اس سماج میں چاہے جس بنیاد پر تفریق ہو سیاسی گہما گہمی کم نہیں رہی ہے۔ عشروں سے یہاں نیشنل کانفرنس کا بول بالا رہا ہے۔ وادی میں نیشنل کانفرنس کا مقام وہی ہے جو پورے ملک میں کانگریس کا رہا ہے۔

نیشنل کانفرنس کا زور اس وقت ٹوٹا جب کانگریس سے نکل کر پیپلز ڈیموکریٹِک پارٹی (پی ڈی پی) بنانے والے مفتی محمد سیعد نے گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور کانگریس کی مدد سے حکومت بنائی۔

اگر پارلیمانی سیٹوں کے حساب سے دیکھیں تو پی ڈی پی کی جیت کا فرق بہت کم تھا۔ اسے تین میں سے دو پارلیمانی حلقوں میں ہی برتری حاصل تھی۔ ویسے تو پی ڈی پی کانگریس سے ٹوٹ کر بنی ہے تاہم اس کی اپنی الگ پہچان بھی ہے۔ وہ نہ تو کانگریس کا ایک متبادل مانی جاتی ہے، نہ ہی مرکزی حکومت کی حامی۔

اتنا ہی نہیں، پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کے متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ پی ڈی پی کی رہنما مفتی محبوبہ نے اس بات میں کامیابی پائی ہے کہ کشمیری لوگ ان کی پارٹی کو اپنا تصور کریں اور نیشنل کانفرنس کا ریاستی سیاست میں مرکزی کردار ختم ہو۔ لیکن ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ بھی بہت کوشش میں ہیں کہ ان کی جماعت کی حمایت برقرار رہے۔

خود سرینگر میں چناؤ لڑنے کی ان کی دلیرانہ اعلان سے نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اسی لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بار انتخابات میں وادئ کشمیر میں انتخابی معرکہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان ہی ہونیوالا ہے۔ یہاں کانگریس ’’تیسرا کھلاڑی‘‘ ہے اور وہ کسی چھوٹی جماعت سے گٹھ جوڑ کرسکتی ہے۔

حریت کانفرنس سے الگ ہونیوالا گروپ پیپلز کانفرنس بھی اس انتخابی میدان میں ہوگا جس نے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں ایک سیٹ جیتی تھی۔

جموں
وادئ کشمیر کے برعکس جموں و لداخ کی آبادی معاشرتی طور پر ملی جلی ہے۔ جموں کا علاقہ جموں، کٹھوا اور ادھم پور کے ضلعوں سے ملکر بناہے اور یہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے، لیکن اتنی نہیں جتنا کہ وادی میں مسلمانوں کی ہے۔ جموں کے علاقے میں چھیاسٹھ فیصد ہندو، تیس فیصد مسلمان اور باقی سکھ ہیں۔

انتخابات کی مقبولیت؟
 چناؤ کے دوران شدت پسند وارداتوں میں اضافہ کردیتے ہیں، وادئ کشمیر میں بھی اور جموں میں بھی۔ لیکن سن دوہزار دو کے اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کردیا تھا کہ ناامیدی اور گولیوں کا خوف لوگوں کی جمہوری خواہش پر اس وقت اثر انداز نہیں ہوتے جب جمہوری انتظامات سچ مچ کھلی اور بدعنوانیوں سے پاک ہو۔
یوگندر یادو

ہندوؤں میں بھی نچلے طبقات یعنی دلِتوں کی آبادی اٹھارہ فیصد ہے جن میں بہوجن سماج پارٹی کا اثر بڑھتا رہا ہے اور گزشتہ اسمبلی انتخابات میں یہاں اس نے ایک سیٹ جیتی بھی تھی۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ اس علاقے میں بی جے پی کی موجودگی اچھی رہی ہے۔ ہندو مفاد کے لئے لڑنیوالی اس جماعت کو کامیابی بھی حاصل ہوتی رہی ہے۔

انیس سو نناوے کے پارلیمانی انتخابات میں اس علاقے کی دونوں پارلیمانی سیٹیں بی جے پی کو ملی تھیں، لیکن بعد میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں اسے ایک نشست ہاتھ دھونا پڑا۔ اس علاقے کے مسلمانوں میں نیشنل کانفرنس کا اثر رہا ہے جبکہ کانگریس بھی تھوڑا بہت اثر رکھتی ہے۔

گزشتہ سال اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کو اس علاقے میں زبردست کامیابی ہوئی تھی۔ اس وقت سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس نے بی جے پی کا ساتھ نہ دیکر ایک نئے ہندو مورچے کو حمایت دی تھی کیونکہ اس وقت بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کا گٹھ جوڑ تھا۔ جموں راجیہ مورچہ نامی یہ نئی ہندو تنظیم الگ جموں پردیش نامی ریاست بنانے کا مطالبہ کررہی تھی۔ اسے ایک اسمبلی نشست ملی تھی۔

اس علاقے میں بھیم سِنگھ کی پینتھرس پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کافی فعال ہیں۔

لداخ بالکل الگ
لداخ کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ یہاں بودھ مت کے ماننےوالوں اور مسلمانوں کی آبادی لگ بھگ برابر ہے۔ لیکن بودھ دھرم کے ماننےوالے جہاں بیشتر لداخ ضلعے میں آباد ہیں، وہیں مسلمان کارگل ضلع میں۔ اہم بات یہ بھی کہ وادئ کشمیر کے مسلمان سنی ہیں، جبکہ کارگل کے مسلمان شیعہ ہیں۔

یہاں انتخابی مقابلہ نیشنل کانفرنس اور لداخ کی خود مختاری کی مطالبہ کرنیوالی تنظیم کے درمیان ہوگا۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اس جماعت نے کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ اس کے مدمقابل کوئی نہ تھا۔

اس تجزیے سے ایک احساس اجاگر ہوا ہے کہ جموں و کشمیر میں انتخابی تصویر بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ پورے ملک میں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں انتخابی عمل پرجوش اور نارمل طور پر ممکن ہوگا؟ جموں و کشمیر کے انتخابات میں اہم بات ہوتی ہے ووٹروں کی شرکت۔

اگر باہر سے مداخلت نہ ہوئی تو انتخابات میں لوگوں کی شمولیت بہت اچھی ہوسکتی ہے کیونکہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے ثابت ہے کشمیری عوام سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن یہ صورت حال شدت پسندوں اور حریت کانفرنس کو پسند نہیں ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار حریت کانفرنس انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے یا نہیں اور ماضی کی طرح اس کے اعلان کا انتخابی عمل پر اثر پڑے گا یا نہیں۔ حریت کے انصاری گروہ کا ردعمل اس بات پر منحصر ہوگا کہ مرکزی حکومت سے ہونیوالی ان کی بات چیت کیسی ہوتی ہے۔

چناؤ کے دوران شدت پسند وارداتوں میں اضافہ کردیتے ہیں، وادئ کشمیر میں بھی اور جموں میں بھی۔ لیکن سن دوہزار دو کے اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کردیا تھا کہ ناامیدی اور گولیوں کا خوف لوگوں کی جمہوری خواہش پر اس وقت اثر انداز نہیں ہوتے جب جمہوری انتظامات سچ مچ کھلی اور بدعنوانیوں سے پاک ہو۔

چناؤ جمہوریت کے لئے ایک چیلنج ہے، جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے تو ہے ہی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد