BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین مورچے، تین امکانات

حزب اختلاف کی رہنما سونیا گاندھی کی کوششیں کامیاب ہونگیں؟
حزب اختلاف کی رہنما سونیا گاندھی کی کوششیں کامیاب ہونگیں؟
ریاستوں کے انفرادی زمینی حقائق کا جائزہ شروع کرنے سے پہلے آئیے ہم لوک سبھا کے لئے ہونیوالے انتخابات پر ایک مجموعی نظر ڈالیں۔ عام انتخابات کو کُشتی کے تین اکھاڑوں کی شکل میں دیکھنا ہوگا اور ہر ریاست کے زمینی حقائق کو انہی تین اکھاڑوں کی بنیاد پر سمجھنا ہوگا۔

شمال میں ریاست پنجاب سے لیکر جنوب میں زیریں ریاست کیرالہ تک کا مغربی مورچہ جس میں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ شامل ہیں حکمراں اتحاد نیشنل ڈیموکریٹِک الائنس یعنی این ڈی اے کے لئے امکانات سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں اسے نہ صرف اچھے نتائج کی امید ہے بلکہ اس کے ووٹ اور پارلیمانی سیٹوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

انتخابات کے مشرقی مورچے میں شمال مشرق کی سات ریاستوں سمیت مغربی بنگال، بہار اور جھارکھنڈ سے لیکر تامل ناڈو شامل ہیں۔ گزشتہ چناؤ میں حکمراں اتحاد این ڈی اے کو یہاں جتنا ووٹ مل سکتا تھا مل چکا، اس سال کے انتخابات میں این ڈی اے کے لئے اس علاقے میں اپنے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

شمالی مورچہ انتخابات کا تیسرا اکھاڑا ہے جس میں شمالی ریاست اتر پردیش، ہماچل پردیش، جموں اور کشمیر سمیت دیگر شمالی مغربی ریاستیں شامل ہیں۔ یہ علاقہ چھوٹا ہے لیکن یہاں سب سے زیادہ غیریقینی صورتحال ہے۔ اور دو ہزار چار کے انتخابات میں لڑائی یہیں ہونی ہے۔

مغربی مورچہ: بی جے پی بنام کانگریس
مغربی مورچے پر تو انتخابی لڑائی بی جے پی بنام کانگریس ہے۔ انیس سو ننانوے کے انتخابات میں یہاں حکمراں اتحاد نے کل دو سو دو میں سے جو ایک سو آٹھ سیٹیں حاصل کی تھیں ان میں بی جے پی کو اٹھاسی ملی تھیں۔ ادھر حزب اختلاف کانگریس کو ستر اور اور اس کی اتحادی جماعتوں کو چار سیٹیں ملی تھیں۔

مشرقی مورچہ: دفاعی لڑائی
 مشرقی مورچے پر بی جے پی کا حکمراں اتحاد این ڈی اے ایک دفاعی لڑائی لڑے گا۔ اس علاقے میں بی جے پی اور اس کی علاقائی اتحادی جماعتیں میدان میں ہیں۔ جھارکھنڈ کے علاوہ اس علاقے کی کسی بھی دوسری ریاست میں کانگریس بنام بی جے پی کا مقابلہ نہیں ہے۔
یوگندر یادو

بی جے پی نے صرف پنجاب اور مہاراشٹر میں انتخابی اتحاد قائم کیا تھا۔ اس سال مہاراشٹر اور کیرالہ میں بی جے پی کا کانگریس سے براہ راست مقابلہ ہے۔ لہذا بی جے پی کی حالت بہتر لگتی ہے۔ پنجاب، مہاراشٹر، کرناٹک اور کیرالہ میں کانگریس کی پرانی حکومتیں ہیں اور ووٹروں نے ان کی غلطیاں گننی شروع کردی ہیں۔

دوسری جانب راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور کچھ حد تک گجرات میں بی جے پی کی حکومتیں نئی ہیں اور ان سے ووٹروں کا لگاؤ ابھی باقی ہے۔ پھر بھی حکمراں اتحاد ان ریاستوں میں انیس سو ننانوے کےمقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی امید نہیں کرسکتا۔

پنجاب اور کرناٹک کے علاوہ باقی ان سبھی ریاستوں میں حکمراں اتحاد این ڈی اے نے اچھے نتائج حاصل کیے تھے۔ اس بار مہاراشٹر میں جہاں کانگریس اور نیشلِسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد اقتدار میں ہے، این ڈی اے کی سیٹیں کم ہوسکتی ہیں۔ کیرالہ میں بی جے پی اپنی ووٹوں کو سیٹوں میں تبدیل کرنے کی اہلیت سے کافی دور ہے۔

مشرقی مورچہ: این ڈی اے کی دفاعی لڑائی
مشرقی مورچے پر بی جے پی کا حکمراں اتحاد این ڈی اے ایک دفاعی لڑائی لڑے گا۔ اس علاقے میں بی جے پی اور اس کی علاقائی اتحادی جماعتیں میدان میں ہیں۔ جھارکھنڈ کے علاوہ اس علاقے کی کسی بھی دوسری ریاست میں کانگریس بنام بی جے پی کا مقابلہ نہیں ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ انتخابات کے دوران این ڈی اے نے کل ایک سو اٹھانوے نشستوں میں سے ایک سو تینتیس سیٹیں حاصل کی تھیں جن میں بی جی پی کی حمایتی جماعتوں کے حصے میں ستاسی سیٹیں تھیں۔ اس بار یہاں این ڈی اے کو کافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

پچھلی بار آندھر پردیش، اڑیسہ اور جھارکھنڈ میں این ڈی اے کی مواقفت میں ایک لہر سی تھی، اب کوئی چمتکار ہی اس کی مدد کرسکے گا۔ تامل ناڈو میں این ڈی اے مخالف جماعتوں کی حالت، اور بہار اور مغربی بنگال میں بی جے پی کی اتحادی جماعتوں کی حالت دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ این ڈی اے شمالی مورچے پر انیس سو نناوے والی اپنی کامیابی دہرا پائے گا۔

صرف آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں ہی این ڈی اے اپنی حالت سدھارنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ لیکن ان آٹھوں ریاستوں میں پارلیمانی سیٹیں صرف پچیس ہیں۔

اگر این ڈی اے اپنے نقصان کو چالیس سیٹوں تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کرلے تو یہ اس کی خوش قسمتی ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ اسے ساٹھ سے زیادہ سیٹوں کا نقصان ہو۔ لہذا لڑائی اب شمالی مورچے پر ہے۔

شمالی مورچہ: اتر پردیش اہم
شمالی مورچے میں اترپردیش اور چھوٹی ریاستیں ہیں جن میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اترانچل، ہریانہ اور دہلی شامل ہیں۔ اترپردیش کو چھوڑ کر ان چھوٹی ریاستوں میں پارلیمانی سیٹوں کی تعداد تینتیس ہے۔ ان میں کانگریس کو پچھلی بار صرف دو سیٹیں ملی تھیں کیونکہ بی جے پی کے حق میں ایک لہر سی تھی۔ بی جے پی نے اکیس اور اس کی حامی جماعتوں نے چھ سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جے پی کو اپنی کامیابی دہرانا بہت مشکل ہوگا، بالخصوص اس لئے بھی کہ ریاست ہریانہ کی اہم جماعت انڈین نیشنل لوک دل نے این ڈی اے سے اپنا رشتہ منقطع کرلیا ہے۔

تیسرا امکان؟
 تین میں سے دو مورچوں پر بھی اگر این ڈی اے کمزور پڑا، بالخصوص کانگرس۔بہوجن سماجوادی پارٹی کا گٹھ جوڑ بننے کی صورت میں، تو تیسرا امکان کھل جاتا ہے۔ تیسرا امکان یہ ہوگا کہ کانگریس، اس کی اتحادی جماعتیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی ملی جلی طاقت اکثریت سے اوپر ہونگی۔
یوگندر یادو

اس علاقے کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں انتخابی منظر واضح نہیں ہے کیونکہ یہ طے نہیں ہوپایا ہے کہ کون سی جماعت این ڈی سے اتحاد کرے گی اور کون کانگریس کے ساتھ۔ ویسے اترپردیش کو تجزیے کے لئے ایک الگ علاقہ تصور کیا جانا چاہئے۔ اس بات کا امکان نہیں لگتا کہ بی جے پی کو یہاں بڑا فائدہ ہوگا۔

اترپردیش میں بی جے پی کو گزشتہ انتخابات میں پچیس نشستیں ملی تھیں، لیکن اگر اسے اس بار یہ سیٹیں دوبارہ مل جائیں تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی لیکن اس کا امکان نہیں لگتا۔ اگر کانگریس اور مِس مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی انتخابی سمجھوتہ نہیں کرتیں تو ملائم سِنگھ یادو کی جماعت سماجوادی پارٹی اس ریاست میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھرے گی۔ باقی سبھی جماعتوں کو یہاں نقصان کا امکان ہے۔

اگر کانگریس اور بہوجن سماجوادی پارٹی اتحاد کرتی ہیں تو بی جے پی کے ساتھ ساتھ ملائم سِنگھ کی سماجوادی پارٹی کو بھی نقصان ہوگا۔

جس نظریے سے بھی دیکھا جائے حکمراں اتحاد این ڈی اے کو شمالی مورچے پر نقصانات کا سامنا ہے اور وہ اپنی سیٹیں بڑھا نہیں سکتا، بلکہ اسے بیس نشستوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس سب کے باوجود نتائج اس بات پر منحصر کریں گے کہ اس مورچے پر انتخابی مہم کیا رنگ لیتی ہے۔

امکانات
ابھی نتائج کے لئے اٹکلیں لگانے کا وقت نہیں ہے۔ لیکن اوپر جن نکات پر میں نے بات کی ہے ان کی بنا پر تین نتائج ممکن ہوسکتے ہیں۔

پہلا یہ کہ وزیراعظم واجپئی کا اتحاد این ڈی اے اقتدار میں واپس آئے لیکن کم نشستوں کے ساتھ۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ این ڈی اے بہت کم اکثریت سے پیچھے رہ جائے۔ مان لیجئیے کہ این ڈی اے بیس نشستوں سے پیچھے رہ جائے۔ اس صورت میں این ڈی اے کی مخالف جماعتیں اس سے کافی پیچھے ہونگیں جس کے نتیجے میں این ڈی اے ملائم سِنگھ یادو کی جماعت سماجوادی پارٹی جیسی کچھ چھوٹی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنالے گا۔

لیکن تین میں سے دو مورچوں پر بھی اگر این ڈی اے کمزور پڑا، بالخصوص کانگرس۔بہوجن سماجوادی پارٹی کا گٹھ جوڑ بننے کی صورت میں، تو تیسرا امکان کھل جاتا ہے۔ تیسرا امکان یہ ہوگا کہ کانگریس، اس کی اتحادی جماعتیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی ملی جلی طاقت اکثریت سے اوپر ہونگی۔

یہ تینوں امکانات بہت دور دور نہیں ہیں اور صرف پچاس سیٹوں کی ہیر پھیر میں یہ سب کچھ ممکن ہے۔ اور اس کے سیاسی نتائج بالکل الگ ہونگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد