اٹھائیس ریاستیں، اٹھائیس انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لئے ہونیوالے عام انتخابات کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو ہی فیصلہ کرنا ہوتا تو ووٹِنگ کے نتائج بھی ان کی اٹکلوں کے مطابق ہی ہوتے۔ میری اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ذرائع ابلاغ میں کی جانیوالی سبھی باتیں بے بنیاد ہیں۔ اور نہ ہی میں انگریزی رسالے انڈیا ٹوڈے اور آؤٹ لُک میں شائع ہونیوالے رائے شماری کے جائزوں کو مسترد کررہا ہوں۔ برسوں سے چناؤ کی باریکی کو دیکھتے رہنے کی وجہ سے مجھے عام لوگوں کی سیاسی سوجھ بوجھ کی اہمیت کا اندازہ ہے اور اسی سے مجھے ابھی سے میڈیا میں ہونیوالے شور شرابے پر زیادہ دھیان نہ دینے کی سبق ملی ہے۔ انتخابات میں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹِک الائنس کی جیت کے بارے میں جو شور شرابے ہورہے ہیں ان سے میں متفق نہیں ہوں۔ اس کی وجہ بتانے سے پہلے میں عام سیاسی سوجھ بوجھ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ مرکز میں حکمراں اتحاد کو انیس سو ستتر، انیس سو اسی، انیس سو نواسی اور انیس سو چھیانوے کے عام انتخابات کی طرح ووٹروں کی ناراضگی کی سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔ البتہ یہ بات وزیراعظم واجپئی کی حکومت کے لئے ایک بڑی کامیابی سے کم نہیں ہے کہ ایک حکومت نے اپنا پانچ سالہ دور اقتدار پورا کرلیا ہو اور اسے ووٹروں کی ناراضگی نہ جھیلنی پڑے۔
اور یہ صحیح ہے کہ حکمراں اتحاد کی اس کامیابی کی اصلی بنیاد وزیراعظم واجپئی کا پبلِک امیج ہے۔ جتنے بھی رائے شماری کے جائزے کیے گئے ہیں ان سے یہ بات ابھر کر آئی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں چاہے جتنے بھی گھوٹالے یعنی بدعنوانیاں ہوئیں ان کا وزیراعظم واجپئی کے امیج پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ان کی مقبولیت حزب اختلاف کی رہنما سونیا گاندھی سے زیادہ ہے جو وزیراعظم کے عہدے کی واحد دعوے دار ہیں۔ پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم واجپئی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مشینری سونیا گاندھی کی جماعت کانگریس سے کافی آگے ہے۔ یہ بات گزشتہ سال اس وقت واضح ہوگئی تھی جب ریاست راجستھان اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو شدید شکست کھانی پڑی۔ کانگریس کوشش کرتی تو اپنی انتخابی مشینری کو بہتر کرسکتی تھی لیکن اس کی موجودہ حالت پہلے جیسی ہی ہے۔ بی جے پی بالکل چاق و چوبند ہے اور کانگریس کی حالت کچھ ایسی ہے کہ دائیں ہاتھ میں کیا ہے بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ان حقائق سے کیا نتیجہ نکالیں؟ یہ نتیجہ نکالنا غیرمناسب نہیں ہوگا کہ حکمراں اتحاد ان انتخابات میں اسی طرح پِٹنے نہیں جارہا جیسا کہ ماضی میں حکمراں اتحادوں کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بی جی پی کی سربراہی والا حکمراں اتحاد حزب اختلاف کے مقابلے میں مواقع کا زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ لیکن ان باتوں کی بنیاد پر میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ وزیراعظم واجپئی کا اتحاد اپنی پرانی کامیابی کو دہراتے ہوئے پھر سے اقتدار میں آجائے گا۔ حکمراں اتحاد کے حق میں جن وجوہات کا تذکرہ میں نے کیا ہے ان سب کے باوجود مجھے ایسے شواہد نہیں دکھائی دے رہے ہیں جو عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں میرے خدشات کو دور کرسکیں۔ البتہ میں کچھ ایسے زمینی حقائق کا انتظار ضرور کررہا ہوں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ عام انتخابات کے نتائج بی جے پی کے حق میں ہی ہونگے۔ چناؤ میں کیا ہونیوالا ہے اس کے بارے میں ہماری سوچ میں ایک بنیادی گڑبڑ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم ابھی بھی پرانے حساب سے سوچتے ہیں جبکہ زمینی حقائق کی سچائی تبدیل ہوچکی ہے۔
اب وہ دور نہیں رہا جب کسی ایک جماعت کے حق میں ملک بھر میں ماضی کی طرح ایک سیاسی لہر چل پڑے گی۔ انیس سو چھیانوے کے عام انتخابات کے بعد مقابلہ ملکی سطح پر نہیں ہورہا ہے۔ بلکہ زمینی سطح پر اب اٹھائیس ریاستوں میں اٹھائیس طرح کے انتخابی مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اور مرکزی سطح پر بھی ریاستی نتائج کا اثر پڑتا ہے۔ اپریل اور مئی میں ہونیوالے لوک سبھا کے چناؤ کے لئے ریاستیں ہی انتخابی اکائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ لہذا عام چناؤ کو سمجھنے کے لئے پہلے ریاستوں کے زمینی حقائق پر نظر ڈالنی ہوگی۔ ان ریاستوں میں کون سی جماعتیں میدان میں ہیں؟ ان کی انتخابی اہلیت کیا ہے؟ ان کے مخالف کون ہیں؟ بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کے لئے عام چناؤ سے متعلق میں اپنے مضامین میں ریاستوں کے زمینی حقائق کا تجزیہ کروں گا۔ سوال یہ نہیں کہ مرکزی سطح پر حکمراں اتحاد کو برتری حاصل ہے یا نہیں، جو کہ اسے ہے، سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی اور اس کی حمایتی جماعتیں ریاستی سطح پر اپنی اس برتری کو ووٹوں میں تبدیل کرسکیں گی؟ نوٹ: یوگندر یادو بھارت میں انتخابات کے ماہر ہیں۔ اور دہلی میں واقع ادارے سنٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپِنگ سوسائزیز سے منسلک ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||