فلمی ستارے اور سیاست کا میدان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس چھوڑ بی جے پی کا ہاتھ اور بی جے پی چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ تھامنے والے فلمی ستاروں کی سیاسی تگ و دو اب شروع ہونے کو ہے۔ پچھلے دنوں مشہور بھارتی فلمی اداکارہ پونم ڈھلون نے کانگریس سے ناطہ توڑ کے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ پونم کے والد ایروناٹیکل انجینیئر تھے، بھائی بہن ڈاکٹر اور خود پونم نے پولیٹکل سائنس پڑھی تھی۔ لیکن اپنی دلکش شکل و صورت کے باعث پونم نے بھارتی فلمی صنعت ممبئی کی بالی ووڈ سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا۔ اور نو سال کے عرصے میں نوے فلموں میں کام کیا۔
پھر فلمی صنعت کو خیر باد کہا اور اپنی نجی زندگی میں مشغولیت کے دوران ہی انہوں نے سیاست کا میدان چُنا۔ ابتدا میں انہوں نے کانگریس کے ساتھ دو سال کام کرنے سے اور اب حالیہ انتخابات کے لئے انہوں نے بی جے پی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کے ساتھ اپنی سیاسی کاوشوں کو پونم نے ’خاصا کارگر ‘ قرار دیا ہے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت سیاست کو دینے کو تیار ہیں اور اپنی پولیٹکل سائنس کی تعلیم کو صحیح معنوں میں استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ڈگری ان کے کام آئے گی‘۔ پونم کا شمار ان دو درجن بھارتی فلمی ستاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے موجودہ سال ہونے والے عام انتخابات کے لئے سیاست میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بیشتر وہ ہیں جو اب کام چھوڑ چکے یا کچھ کرنے کی کوششوں میں جتُے ہیں۔ موجودہ حکمراں جماعت بی جے پی کی سب سے بڑی حریف کانگریس پارٹی نے چودہ فلمی ستاروں کو اپنی جماعت میں شامل کیا ہے اس کے رکن پارلیمان سبیرامی ریڈی کا کہنا ہے کہ ’فلمی ستاروں میں ماضی کے مقابلے میں آج سیاسی شعور زیادہ ہے۔ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور سیاست کو سمجھتے ہیں۔‘
بیشتر فلمی ستارے سیاسی جماعتوں کے لئے انتخابی مہموں میں شامل ہوئے ہیں لیکن فلم سٹار گوندا ممبئی کے ایک انتخابی حلقے سے ایک بڑے وفاقی وزیر کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔ آج کل وہ سنا ہے کہ ممبئی کی کھچا کھچ بھری ٹرینوں میں مسافروں کو اپنی کامیابی کے لئے آمادہ کرنے میں مصروف ہیں اور کانگریس پارٹی کے لیے حمایت اکھٹی کر رہے ہیں۔ ان فلمی کم اب سیاسی ستاروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو بھارتی تاریخ سے آشنا نہیں ہیں بقول نامہ نگار ’جب ایک اخبار نویس نے بی جے پی کا ہاتھ تھامنے والے سریش اوبرائے سے پوچھا کہ چھ دسمبر 1992 کیوں اہم تاریخ سمجھی جاتی ہے تو انہوں نے بڑے اچنبے سے پلٹ کر اخبار نویس سے ہی پوچھا آخر کیوں‘؟ یاد رہے کہ یہ وہ تاریخ ہے جب ایودھیہ میں بابری مسجد منہدم کی گئی تھی۔ انیس سو اسی کے وسط میں مشہور اداکار امیتابھ بچن نے کانگریس کے ٹکٹ پر اپنے آبائی شہر الہ آباد سے انتخاب جیتا تو تھا مگر پھر انہوں نے سیاست چھوڑ دی بقول نامہ نگار غالباً ان کو لگا کہ ’سیاست جذبات کی دنیا سے بڑا میدان ہے اور اس میں کھیلنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||