BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 April, 2004, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی جے پی کے علاقائی اتحاد

شمال مشرقی ریاستوں میں پہلی بار بی جے پی سیٹ جیت سکتی ہے
شمال مشرق: وزیراعظم واجپئی کی پارٹی کو پہلی بار سیٹ مل سکتی ہے
شمال مشرق کی ساتوں ریاستوں میں سِکّم واحد ریاست ہے جہاں لوک سبھا کے ساتھ ساتھ ریاستی اسمبلی کے لئے بھی ووٹِنگ ہوگی۔ انیس سو چورانوے کے اسمبلی الیکشن میں یہاں نچلے طبقات کی تحریک چلی جس کی وجہ سے پون کمار چاملِنگ کی سربراہی میں سِکّم ڈیموکریٹِک فرنٹ نے نر بہادر بھنڈاری کی جماعت سِکّم سنگرام پریشد کو شکست دیدی تھی۔

چاملِنگ نیپالی زبان بولنے والے پسماندہ طبقات کی نمائندگی کررہے تھے۔ اس کے بعد لوک سبھا اور اسمبلی کے لئے ہونیوالے تمام اسمبلی انتخابات میں چاملِنگ کا سِکّم ڈیموکریٹِک فرنٹ ہی کامیابی حاصل کرتا رہا ہے۔ یہ فرنٹ وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹِک الائنس سے قریب ہوگیا ہے۔

اس کی وجہ سے چاملِنگ نے مرکزی حکومت سے ریاست کے ان مختلف قبائل کو بھی شیڈول ٹرائب کا درجہ دلوا دیا ہے جنہیں حکومت سے اس قانون کے تحت مراعات اب تک حاصل نہیں تھیں۔ لہذا ممکن ہے کہ چاملِنگ کو انتخابات میں اس کا فائدہ ہو۔ لیکن یہ بھی ہے کہ حزب اختلاف سِکّم سنگرام پریشد کمزور نہیں ہوئی ہے اور دس برسوں سے برسراقتدار چاملِنگ کی جماعت کے خلاف عوامی ناراضگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہے۔

ماضی میں کانگریس اس ریاست میں تیسری طاقت کی شکل میں موجود تھی، چاہے اس کا اثر زیادہ نہیں تھا۔ لیکن اب کانگریس کی ریاست میں کوئی حیثیت برقرار نہیں رہی۔

اروناچل پردیش
شمال مشرق کی دوسری ریاست اروناچل پردیش ہے جہاں انیس سو ستر کے عشرے سے ہی کانگریس ایک اہم سیاسی جماعت رہی ہے، بلکہ اسی دور میں یہ ریاست وجود میں آئی تھی۔ آغاز میں علاقائی جماعتیں بنانے کی کوششیں کی گئیں لیکن کامیابی نہیں ملی۔ لہذا کانگریس یہاں بااثر رہی ہے۔

بی جے پی کیلئے امکان
 اروناچل پردیش میں اپانگ کے کانگریس سے ٹوٹ کر بی جے پی میں شامل ہوجانے سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ اس سال پہلی بار بی جے پی کو ایک پارلیمانی نشست حاصل ہوجائے۔
یوگندر یادو

انیس سو ننانوے کے الیکشن میں گیگونگ اپانگ کی بغاوت سے بھی کانگریس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ لیکن گزشتہ سال اپانگ کانگریس کے کئی رہنماؤں کو توڑنے میں کامیاب رہے اور انہوں نے ریاست میں حکومت بنالی۔ پھر انہوں نے اپنی پارٹی کو وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی جماعت بی جے پی میں شامل کرادیا۔

اس کی کوئی نظریاتی وجہ نہیں تھی، بلکہ اپانگ مرکزی حکومت سے قربت حاصل کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ مرکز سے ریاست کے لئے کچھ حاصل کرسکیں۔ بی جے پی میں اپانگ کی شمولیت کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ریاست میں اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے مقامی قبیلے ہندو مذہب کے قریب تر آگئے ہیں اور شمال مشرق میں یہی واحد ریاست ہے جہاں ہندی زبان کافی مقبول بھی ہے۔

لیکن اروناچل پردیش میں اپانگ کے کانگریس سے ٹوٹ کر بی جے پی میں شامل ہوجانے سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ اس سال پہلی بار بی جے پی کو ایک پارلیمانی نشست حاصل ہوجائے۔

میگھالیہ
قومی سیاست میں پی اے سنگما کی اہمیت رہی ہے۔ وہ کانگریس کے اہم رہنما رہے ہیں، لیکن انہوں نے سونیا گاندھی کی قیادت کے خلاف بغاوت کے بعد اپنے ساتھی شرد پوار کے ساتھ نیشنلِسٹ کانگریس پارٹی بنا ڈالی۔ پھر انہوں نے یہ پارٹی بھی چھوڑ دی اور ایک علاقائی جماعت بنائی جس کا نام ہے پُرووتر جن منچ۔ اس منچ کی چاہے شمال مشرق کی دیگر ریاستوں میں اہمیت نہ ہو، لیکن ریاست میگھالیہ میں ضرور ہے۔

حالیہ برسوں میں سنگما نے جو فیصلے کیے ہیں ان کی وجہ سے ان کا سیاسی قد چھوٹا ہوا ہے۔ لہذا ان کے پارلیمانی حلقے ’تورا‘ میں بھی ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کی دوسری نشست شیلانگ ہے جہاں کانگریس اب بھی مضبوط ہے۔ لیکن اس بات کانگریس کو شیلانگ میں شدید مقابلے کا سامنا ہوگا۔

شمال مشرق کی دیگر چار ریاستوں میں حال میں اسمبلی الیکشن ہوئے ہیں اور وہاں لوک سبھا کی ووٹِنگ میں غیرمتوقع نتائج کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔

میزورم، تریپورا
میزورم میں گزشتہ دسمبر میں انتخاب ہوا تھا جو میزو نیشنل فرنٹ نے جیتا تھا۔ اب بھی اس فرنٹ کی اچھی حالت میں ہے۔ دوسری جانب کانگریس کو اس بات نقصان ہوا ہے کہ اس نے اپنے رہنما للتھنوہلا کو کنارے لگانے کی کوشش کی ہے۔

کانگریس کا زوال
 تیرپورا میں انتخابات قدرے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ شمال مشرق کی ریاستوں میں قبائلیوں کی آبادی سب سے کم ہے۔ یہاں بنگالی زبان بولنے والے انہتر فیصد ہیں اور قبائلی صرف اکتیس فیصد۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی یہاں کامیاب رہی ہے اور گرچہ کانگریس مختلف طبقات کی نمائندگی کرتی ہے تاہم اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے۔
یوگندر یادو

تیرپورا میں انتخابات قدرے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ شمال مشرق کی ریاستوں میں قبائلیوں کی آبادی سب سے کم ہے۔ یہاں بنگالی زبان بولنے والے انہتر فیصد ہیں اور قبائلی صرف اکتیس فیصد۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی یہاں کامیاب رہی ہے اور گرچہ کانگریس مختلف طبقات کی نمائندگی کرتی ہے تاہم اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے۔

دریں اثناء تریپورا میں قبائلیوں کی تنظیم نے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا ہے تاہم اس سے انتخابی نتائج متاثر نہیں ہونگے۔

ناگالینڈ، منی پور
ریاست ناگالینڈ میں اس دفعہ بی جے پی، جنتا دل یونائٹیڈ اور ناگالینڈ پیپلز کونسل کا بڑا عجیب و غریب اتحاد بنا ہے۔ اسی اتحاد نے گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں ایس سی زمیر کی سربراہی والی کانگریس کو شکست دیدی تھی۔

گزشتہ پارلیمانی انتخاب میں یہاں کی واحد لوک سبھا سیٹ کانگریس نے جیتی تھی۔ لیکن وہ بیتے ہوئے دنو ں کی بات ہے۔

ریاست منی پور میں گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے بعد زمینی حقائق بدل گئے ہیں، اور یہاں کی سیاست پڑوسی ریاست ناگالینڈ میں باغیوں کے ساتھ ہونیوالے امن مذاکرات سی جڑی ہوئی ہے۔ کیونکہ منی پور کا سفر کرنے کے لئے ناگالینڈ سے گزرنا پڑتا ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ تب اٹھا تھا جب میتئی اور ناگا قیبلے کے درمیان فسادات ہوئے تھے۔ اس کے بعد سن دوہزار دو کے الیکشن میں کانگریس نے ریاست کی علاقائی جماعت منی پور اسٹیٹ کانگریس کو شکست دیدی تھی۔

اس ریاست میں اس بار کانگریس اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی مل کر انتخاب لڑرہی ہیں۔ جبکہ منی پور اسٹیٹ کانگریس بی جے پی میں شامل ہوگئی ہے اور مقامی تنقید کا سامنا کررہی ہے۔

لہذا منی پور میں انتخابات کے نتائج غیرمتوقع ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد